Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / مسلم تحفظات…کے سی آر کتنے سنجیدہ؟

مسلم تحفظات…کے سی آر کتنے سنجیدہ؟

مسلم تحفظات…کے سی آر کتنے سنجیدہ؟
بی سی کمیشن کے صدر کا پہلے آر ایس ایس سے تعلق ، بعد میں نکسلائٹس سے وابستہ
ارکان میں ایک رکن مخالف مسلم تحفظات ، ریٹائرڈ جج کے تقرر کی  روایت سے انحراف، کمیشن کے ذریعہ سیاسی بازآبادکاری

رشیدالدین
حیدرآباد ۔ 24۔اکتوبر۔ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے ۔ مسلمانوں کو تحفظات کیلئے بی سی کمیشن کی تشکیل کا انتظار تھا لیکن چیف منسٹر نے کمیشن میں آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے شخص کو صدرنشین اور مسلم تحفظات کے ایک دیرینہ مخالف کو رکن مقرر کرتے ہوئے تحفظات کے کاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ حکومت نے دو دن قبل سوشیل سائنٹسٹ اور تلگو ادیب بی ایس راملو کو بی سی کمیشن کا صدرنشین مقرر کیا جبکہ ارکان کی حیثیت سے وی کرشنا موہن راؤ ، جے گوری شنکراور ڈاکٹر ای انجنئے گوڑ کو  نامزد کیا۔ کمیشن کی میعاد تین سال مقرر کی گئی۔ عام طور پر بی سی کمیشن کے صدرنشین کے عہدہ پر کسی ریٹائرڈ جج کا تقرر کیا جاتا ہے کیونکہ کمیشن کی ذمہ داری قانونی نکات سے مربوط ہوتی ہے۔ پسماندہ طبقات کی فہرست میں نئے طبقات کی شمولیت اور غیر موجود طبقات کو حذب کرنے کی ذمہ داری بی سی کمیشن کی ہے ۔ اس معاملہ میں قانونی ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے لہذا متحدہ آندھراپردیش میں جب کبھی کمیشن تشکیل دیا گیا تو ریٹائرڈ جج صدرنشین مقرر کئے گئے۔ متحدہ آندھراپردیش میں ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج ڈی سبرامنیم ، بی سی کمیشن کے صدرنشین تھے۔ آندھراپردیش حکومت نے 18 جنوری 2016 ء کو بی سی کمیشن تشکیل دیا اور ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج جسٹس کے ایل منجوناتھ کو صدرنشین مقرر کیا جبکہ دیگر ارکان میں ایک سوشیل سائنٹسٹ، بی سی طبقات کے امور کے دو ماہرین اور ایک سرکاری عہدیدار شامل ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ مسلم تحفظات پر عمل آوری کیلئے بارہا تیقن دینے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا عمل ان کے وعدہ کے برخلاف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر مسلم تحفظات کے مسئلہ پر دراصل مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں اور انہیں سیاسی فائدہ کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے بی سی کمیشن جیسے اہم ادارہ کو سیاسی بازآبادکاری کے مرکز میں تبدیل کردیا۔ کمیشن کے صدرنشین اور دیگر تین ارکان میں کوئی بھی قانونی امور کے ماہر نہیں ہیں جس سے تحفظات کے مسئلہ پر چیف منسٹر کی سنجیدگی شک کے دائرہ میں آتی ہے۔ حیرت تو اس بات ہے کہ کمیشن کے صدرنشین بی ایس راملو کا تعلق سابق میں آر ایس ایس سے رہ چکا ہے۔ وہ آر ایس ایس میں شمولیت کے بعد 1964 ء میں آر ایس ایس کے مکھیا سکشک کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ 1967 ء 1972 ء تک راملو نے جگتیال اور دھرم پوری علاقوں میں آر ایس ایس کے ٹریننگ کیمپس منعقد کئے تھے۔  بعد میں انہوں نے خود کو پیپلز فار گروپ (سی پی آئی ماؤسٹ) سے وابستہ کرلیا تھا ۔ تاہم ان کی بنیاد آر ایس ایس کی تربیت پر مبنی کہی جاسکتی ہے ۔ ایسی ذہنیت رکھنے والے شخص سے کس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو مسلم تحفظات کی سفارش کریں گے ۔ اتنا ہی نہیں کمیشن میں شامل پہلے رکن وی کرشنا موہن راؤ متحدہ آندھراپردیش میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت کی جانب سے 2004 ء میں اور پھر 2009 ء میں تشکیل دیئے گئے بی سی کمیشن میں وہ رکن تھے۔ کانگریس سے تعلق کی بنیاد پر انہیں دو مرتبہ بی سی کمیشن میں شامل کیا گیا اور جب کمیشن کے پاس مسلم تحفظات کا مسئلہ پیش کیا گیا اور کمیشن اس سلسلہ میں سماعت کر رہا تھا، کرشنا موہن راؤ نے مسلم تحفظات کی مخالفت کی تھی۔ کریم نگر کے حضور آباد علاقہ سے تعلق رکھنے والے کرشنا موہن راؤ کو دوبارہ بی سی کمیشن میں شامل کرنے سے مسلم تحفظات پر کمیشن کے مثبت فیصلہ کی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس کے علاوہ دیگر دو ارکان تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرچکے ہیں۔ لہذا انہیں سیاسی بازآبادکاری کے طور پر کمیشن میں شامل کردیا گیا۔ بی سی کمیشن کی تشکیل ہی مسلم تحفظات پر عمل آوری کیلئے کافی نہیں ہے کیونکہ قواعد کے مطابق حکومت کو مسلم تحفظات کا مسئلہ کمیشن سے رجوع کرنا پڑے گا جس کے بعد ہی کمیشن مسلمانوں کی معاشی ، تعلیمی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تحفظات کی سفارش کرسکتا ہے۔ وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت نے جب عدالت میں پانچ فیصد تحفظات کی قانون سازی کو کالعدم کردیا تھا تو حکومت نے بی سی کمیشن سے مسئلہ کو رجوع کیا اور کمیشن نے 4 فیصد تحفظات کی سفارش کی تھی جس پر آج بھی سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل آوری جاری ہے۔ انتخابات سے قبل 4 ماہ میں ٹاملناڈو کی طرز پر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کرنے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو سدھیر کمیشن کی رپورٹ حاصل کرنے کیلئے ڈھائی سال لگ گئے ۔ اب اگر مسلم تحفظات کا مسئلہ بی سی کمیشن سے رجوع کیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ کمیشن رپورٹ پیش کرنے کیلئے ڈھائی سال لے گا ۔ اس طرح حکومت کی پہلی میعاد مکمل ہوجائے گی۔ 2019 ء میں انتخابات کے دوران ٹی آر ایس مسلم تحفظات کے مسئلہ پر  بی سی کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT