Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات بل مسترد کرنے کی اطلاعات محض قیاس آرائیاں

مسلم تحفظات بل مسترد کرنے کی اطلاعات محض قیاس آرائیاں

ریاستی حکومت کو اب تک مرکز سے تحریری اطلاع نہیں ملی : ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا بیان
حیدرآباد۔/20فبروری، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے واضح کیا کہ مسلم تحفظات بل کو مرکز کی جانب سے مسترد کرنے کی اطلاعات محض قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔ مرکز کی جانب سے اس سلسلہ میں ریاستی حکومت کو ابھی تک کوئی تحریری اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ وزارت داخلہ یا پھر ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ کی جانب سے تلنگانہ حکومت کو کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے وعدہ پر قائم ہیں اور اس کیلئے مرکز کے فیصلہ کے بعد حکمت عملی طئے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت تحفظات کے بل کو مسترد کرتی ہے تو تلنگانہ حکومت سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں ٹی آر ایس ارکان اس مسئلہ کو موضوع بحث بناتے ہوئے بل کی منظوری کیلئے مرکز پر دباؤ بنائیں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے ان سے کہیں زیادہ حکومت نے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اور درج فہرست قبائیل کے تحفظات میں اضافہ کے مسئلہ پر حکومت کی سنجیدگی پر کوئی شبہ نہیں کی جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ضرورت پڑے گی چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تمام ضروری اقدامات کرتے ہوئے مسلمانوں کو بہر صورت اضافی تحفظات کے فوائد سے استفادہ کا موقع فراہم کریں گے۔ کے سی آر نے 14 برسوں تک بے تکان جدوجہد کرتے ہوئے تلنگانہ ریاست حاصل کی۔ تحریک کے دوران لوگ کہہ رہے تھے کہ تلنگانہ ریاست کا حصول ممکن نہیں ہے لیکن کے سی آر نے ناممکن کو ممکن ثابت کیا اور علحدہ ریاست حاصل کرتے ہوئے آندھرائی حکمرانوں کی ناانصافیوں کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح چیف منسٹر علحدہ ریاست کے حصول میں کامیاب رہے اسی طرح انہیں مسلم تحفظات کے حصول میں کامیابی ہوگی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد اقلیتی بہبود کے بجٹ میں مسلسل اضافہ کیا گیا اور اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے کئی اسکیمات شروع کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی وعدوں سے کہیں زیادہ فلاحی اسکیمات کا آغاز کے سی آر کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر تعلیم اور روزگار میں تحفظات کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا۔ بل کی منظوری سے قبل سدھیر کمیشن اور بی سی کمیشن سے رپورٹ حاصل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام دستوری اور قانونی اُمور کی تکمیل کے بعد ہی تحفظات بل کو اسمبلی اور کونسل میں منظوری دی گئی۔ محمدمحمود علی نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ ٹی آر ایس حکومت اور اس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ بہر صورت تحفظات فراہم کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT