Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات بل کی اسمبلی میں منظوری کی ہر ممکنہ کوشش

مسلم تحفظات بل کی اسمبلی میں منظوری کی ہر ممکنہ کوشش

مذہبی اساس پر نہیں پسماندگی کی بنیاد پر کوٹہ فراہم کرنے چیف منسٹر کا ادعا
حیدرآباد۔/11مارچ، ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں 12فیصد مسلم تحفظات اور درج فہرست قبائیلی طبقات کو تحفظات کی فراہمی سے متعلق بل بہر صورت جاریہ اسمبلی سیشن میں منظور کئے جائیں گے۔ آج تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں گورنر خطبہ پر تحریک تشکر سے متعلق ہوئے مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے واضح اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم اقلیتوں کو مذہبی اساس پر نہیں بلکہ ان کی پسماندگی کے ساتھ ساتھ درج فہرست قبائیلی طبقات کو بھی تحفظات فراہم کرنے کی تلنگانہ حکومت پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے مسلم طبقات کو تحفظات فراہم کرنے کیلئے سدھیر کمیشن قائم کیا اور سدھیر کمیشن نے ریاست کے تقریباً اضلاع کا دورہ کرکے اقلیتوں کی پسماندگی کا تفصیلی جائزہ لیا اور حکومت کو تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ جبکہ اقلیتوں کی پسماندگی سے متعلق حقیقت پر مبنی رپورٹ جسٹس سچر کمیٹی نے بھی پیش کی۔ اس کے علاوہ سدھیر کمیشن اور جسٹس سچر کمیٹی رپورٹ کے ساتھ ساتھ ریاستی بی سی کمیشن کی رپورٹ بھی حاصل کی جارہی ہے۔ اس طرح ریاست تلنگانہ میں اقلیتی طبقات (مسلمانوں کی ) کی پسماندگی کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے ریاستی بی سی کمیشن بھی تمام اضلاع کا دورہ کرنے میں مصروف ہے اور بی سی کمیشن اضلاع کا دورہ مکمل کرکے آئندہ ایک ہفتہ بعد حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرگا اور اس رپورٹ کی بنیاد پر حکومت جاریہ اسمبلی سیشن کے اختتام سے قبل ایوان میں 12فیصد مسلم تحفظات بل اور شیڈولڈ ٹرائبس ( درج فہرست قبائیلی طبقات ) بل ایوان میں پیش کرکے ان دو بلوں کی منظوری حاصل کرے گی۔بعد ازاں اس موضوع کو مرکزی حکومت سے رجوع کرکے ٹاملناڈو کے خطوط پر ریاست تلنگانہ میں بھی مسلم تحفظات فراہم کرنے کیلئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت ریاست تلنگانہ میں 12فیصد مسلم تحفظات اور قبائیلی طبقات کو بھی تحفظات فراہم کرنے کیلئے موثر اقدامات کرے گی۔ چیف منسٹر نے ریاست میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کا تذکرہ کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تلنگانہ حکومت ریاست کے اقلیتی طبقات کو بہتر تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے دیگر طبقات کے خطوط پر اقلیتوں کیلئے 201 معیاری اقامتی مدارس قائم کرتے ہوئے ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی نوعیت کے منفرد اقدامات کی ہے جس کی سابق میں کہیں بھی کوئی نظیر نہیں ملے گی۔

TOPPOPULARRECENT