Wednesday , December 19 2018

مسلم تحفظات تحریک میں شدت پیدا کرنے کا مشورہ

حکومت کے رویہ پر اظہار تشویش، گول میز کانفرنس سے سیاسی قائدین و دانشوروں کا خطاب
حیدرآباد۔4فبروری(سیاست نیوز) سال 2014کے بعد ’ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کا موقف ‘پر منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مکاتب فکر دانشواروں‘ سماجی تنظیموں سے وابستہ جہدکاروں اور سیاسی قائدین نے مسلمانوں کے تئیں حکومت تلنگانہ کے معاندانہ رویہ کو تشویشناک قراردیا۔ قائدین نے بارہ فیصد مسلم تحفظات کے اعلان کو مسلمانوں کے لئے چاکلیٹ قراردیا او رحکومت پر الزام عائد کیاکہ اس کی آڑ میںمسلمانوں کو ملنے والے چار فیصد تحفظات کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اوقافی جائیدادوں کی حفاظت میںناکامی اور دستوری اداروں میںغیر سنجیدہ اور ناتجربہ کار افراد کاتقرر عمل میںلاتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ تحریک مسلم شبان کے زیراہتمام میڈیا پلس میں منعقدہ کانفرنس کی نگرانی صدر شبان محمد مشتاق ملک نے کی ۔مولانا ڈاکٹر سراج الرحمن ‘ مولانا سید طار ق قادری ‘ میجر قادری‘ جناب عثمان بن محمد الہاجری‘ جناب مرزا یوسف بیگ‘ جناب ثنا ء اللہ خان ‘پروفیسر انصاری ‘ جناب مسکین احمد ‘ جناب شمشاد قادری ‘ جناب عبدالستار مجاہد‘ جناب واجد حسین ‘کے علاوہ دینی وملی اور طلبہ تنظیمو ںکے سربراہان نے بھی خطاب کے ذریعہ تجاویز پیش کی۔ کانفرنس سے صدراتی خطاب کے دوران محمد مشتاق ملک نے کہاکہ بہت جلد ریاست بھر میں ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا مسلم سروے تحریک مسلم شبان اور دیگر مسلم تنظیموں کے اشتراک سے کیاجائے گا۔جناب محمد مشتاق ملک نے تین ماہ میںدس لاکھ مسلمانوں جس میں طلبہ ‘ دانشوار ‘ علماء ‘ مساجد اور عام مسلمانوں کے علاوہ گھریلوخواتین سے ربط کرتے ہوئے حکومت کی کارکردگی پر مشتمل سوالات پر مبنی ایک سروے کیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ریاست کے مسلمانو ں کے تئیں حکومت کے رویہ سے متعلق بہت زیادہ شکوک وشبہات پیدا ہوئے ہیں۔ اس کو دور کرنے میں حکومت کی جانب سے بھی کوئی موثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔بارہ فیصد تحفظات کا جو وعدہ تھا اسکو چار سال کاعرصہ گذر جانے کے بعد بھی پورا نہیںکیاگیا جبکہ تحفظات کے مسئلہ کو تعطل کاشکار بنانے کے لئے حکومت سپریم کورٹ سے رجوع ہوگئی۔جبکہ میناریٹی فینانس کارپوریشن کو صرف اقلیتوں کو قرضہ جات فراہم کرنے تک محدود کردیا گیا ہے کارپوریشن پر مسلمانوں کی اقتصادی پسماندگی کو دور کرنے کاجامع حکمت عملی اور منصوبہ سازی کی بھی ذمہ داری مذکورہ ادارے پر عائد ہوتی ہے جس میںادارہ او رحکومت پوری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ چار سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد کارپوریشن او رکمیٹیاں قائم کی گئیں جبکہ حج کمیٹی میںکسی عالم دین کو شامل نہیں کیا گیا۔ حالانکہ مذکورہ ادارے سے عالم دین کی وابستگی ضروری ہے۔جناب محمد مشتاق ملک نے کہاکہ رات کے اندھیرے میںوقف بورڈ کو مہر بند کرنے کا جو اقدام حکومت تلنگانہ نے اٹھایاہے وہ نہایت بدبختانہ اور غیرقانونی ہے ۔ دستاویزات کی جانچ کے نام پر وقف بورڈ دفتر کو مہر بند تو کیاگیا مگر جانچ سے متعلق کوئی بھی وضاحت حکومت کی جانب سے اب تک نہیں کی گئی۔انہوںنے کہاکہ ایسے کئی ایک سوالات ہیںجو مسلمانو ںکے ذہنوں میں الجھن پیدا کررہے ہیں۔ اُردو کوریاست کی دوسری سرکاری زبان کا کاغذ پر تو درجہ دیدیا گیا مگر اُردو کی ترقی وترویج کے لئے کوئی ایسا قدم اب تک نہیںاٹھایاگیا جس سے حکومت تلنگانہ کے اعلان پر اُردوداں طبقہ مسر ت کا اظہار کرسکے۔ جناب محمد مشتاق ملک نے کہاکہ انہی وجوہات کے پیش نظر تحریک نے فیصلہ کیاہے کہ وہ ریاست کے تمام اضلاع میںمسلمانوں کے درمیان سروے کیاجائے ۔ سروے کے تحت حکومت سے مسلم مسائل پر نمائندگی کی جائے گی۔دیگر مقررین نے بھی مسلم تحفظات کی تحریک میںشدت پیدا کرنے کا مشورہ دیا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT