Monday , August 20 2018
Home / Top Stories / مسلم تحفظات غیردستوری ، راجیہ سبھا میں مملکتی وزیر داخلہ کا جواب

مسلم تحفظات غیردستوری ، راجیہ سبھا میں مملکتی وزیر داخلہ کا جواب

بل وضاحت طلبی کے ساتھ واپس کردیا گیا ، کے سی آر حکومت کی سنجیدگی کا امتحان

حیدرآباد ۔ 8 ۔مارچ (سیاست نیوز) ایسے وقت جبکہ مسلمانوں کے بڑھتے دباؤ سے پریشان کے سی آر حکومت نے تحفظات مسئلہ پر پارلیمنٹ میں جدوجہد کا آغاز کیا ہے مرکزی حکومت نے مسلمانوں کو اور درج فہرست قبائل کو اضافی تحفظات کو منظوری دینے سے انکار کردیا ۔ ایک طرف ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں گزشتہ تین دن سے تحفظات کی فراہمی کا اختیار ریاست کو دیئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف راجیہ سبھا میں تلگو دیشم رکن دیویندر گوڑ کے سوال پر مملکتی وزیر داخلہ ہنس راج گنگا رام نے آبادی کے اعتبار سے تحفظات کی فراہمی کو غیر دستوری قرار دیا اور بتایا کہ تلنگانہ حکومت کے بل کو مختلف وضاحتوں کے ساتھ واپس کردیا گیا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ میں آبادی کے اعتبار سے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرکے کے سی آر حکومت کی روانہ کردہ تجویز دستور کے مطابق نہیں ہے۔ 1992 ء میں اندرا ساہنی کیس میں سپریم کورٹ کے دستوری بنچ نے اپنے فیصلہ میں دستور کی دفعہ 16(4) کے تحت صرف مناسب نمائندگی کی بات کہی ہے۔ مرکز نے واضح کیا کہ اس دفعہ کے تحت کہیں بھی آبادی کے اعتبار سے تحفظات کی فراہمی کا اختیار نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ دستور کی دفعہ 201 کے تحت تلنگانہ کے بل کو صدر جمہوریہ کے پاس روانہ کیا گیا۔ تعلیم اور روزگار میں تحفظات کے فیصد میں اضافہ سے متعلق اس بل کو متعلقہ مرکزی وزارتوں کو بھیجا گیا۔ ڈپارٹمنٹ آف پرسونل ان ٹریننگ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا جائزہ لے کر تلنگانہ بل کی مخالفت کی ۔

محکمہ نے کہا کہ دستور کی دفعہ 16 کے چوتھے شق کے تحت تحفظات کو 50 فیصد تک محدود رکھنے کیلئے سپریم کورٹ نے ہدایت دی ہے۔ غیر معمولی حالات میں تحفظات کے فیصد میں تبدیلی کی جاسکتی ہے ۔ تحفظات کی فراہمی کے وقت انتہائی محتاط رویہ کی ضرورت ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت نے اپنی تجویز میں حقائق ؤ ثبوت پیش نہیں کئے جس سے یہ جواز پیدا ہو کہ حکومت تحفظات کے فیصد میں اضافہ کرسکتی ہے۔ حکومت نے وضاحت کی کہ تلنگانہ کے بل کو ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ کے علاوہ وزارت قبائلی امور کو غور کیلئے روانہ کیا گیا تھا۔ حکومت نے کہا کہ مزید وضاحتوں کے ساتھ بل کو تلنگانہ حکومت کو واپس کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت ٹاملناڈو کی طرز پر دستور کے 9 ویں شیڈول میں تحفظات کو شامل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ گزشتہ 21 برسوں سے ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات پر عمل آوری جاری ہے۔ تلنگانہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ دستور کی دفعہ 16(4) میں ترمیم کے ذریعہ بل کو نہ صرف منظوری دی جاسکتی ہے بلکہ تحفظات کی فراہمی کے اختیارات ریاستوں کو منتقل کئے جاسکتے ہیں ۔ دیویندر گوڑ کے سوال پر تحریری جواب میں وزارت داخلہ نے استدلال پیش کیا کہ تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے سلسلہ میں حکومت نے کوئی ٹھوس دلائل و ثبوت پیش نہیں کئے۔ حالانکہ تلنگانہ حکومت نے تحفظات کی فراہمی کی سفارش بی سی کمیشن سے حاصل کی ہے جو کہ لازمی شرط ہے۔ بی سی کمیشن نے مسلمانوں کی تعلیمی ، معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کی تھی ۔ اس سے قبل سدھیر کمیشن نے مسلمانوں کے حالات پر حکومت کو تفصیلی رپورٹ پیش کی جس میں تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی سفارش کی گئی ۔ اب جبکہ مرکز نے تلنگانہ تحفظات بل کو منظوری کے بغیر واپس کردیا ہے، ٹی آر ایس حکومت کا حقیقی امتحان تو اب شروع ہوگاکہ وہ اپنے وعدہ کی تکمیل کے سلسلہ میں کونسے جمہوری اور قانونی راستے اختیار کریگی۔ کے سی آر نے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا اعلان کیا تھا، تاہم حکومت کے تحریری جواب پر ابھی تک کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT