Monday , October 22 2018
Home / Top Stories / مسلم تحفظات فاسٹ فوڈ نہیں، مخالفین کو عجلت

مسلم تحفظات فاسٹ فوڈ نہیں، مخالفین کو عجلت

اسمبلی کی کارروائی سے مسلم نوجوان مایوس، سرکاری محکمہ جات میں تقررات کا خواب ادھورا !
’’جو تم کو ہو پسند وہی بات کہیں گے ‘‘
تعریف یا میاچ فکسنگ ؟
2019ء میں ٹی آر ایس کا سہارا

 

حیدرآباد ۔ 8۔ نومبر (سیاست نیوز) ’’جو تم کو ہو پسند وہی بات کہیں گے، تم دن کو اگر رات کہو رات کہیں گے‘‘ ایک دوسرے کے کان خوش کرنے کا محاورہ تو لوگوں نے سنا ہوگا لیکن جب تعریف اپنی حدوں کو پار کرلے تو پھر عوام کو یہ فلمی نغمہ یاد آجائے گا۔ حکمرانوں کے پاس عام طور پر اس طرح کے کردار ہوتے ہیں، جن کا کام ہی حکمراں کے ہر قدم کی تعریف و توصیف کرنا ہوتا ہے۔ بسا اوقات حکمراں خود روزانہ اپنی مداح سرائی سنتے سنتے بور ہوجاتا ہے اور اسے تعریف میں مزا نہیں آتا۔ حکمراں اچھی طرح جانتا ہے کہ تعریف اور ستائش کا مقصد کیا ہے ؟ کچھ یہی صورتحال تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں دیکھی جارہی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور حکمراں پارٹی کے ارکان خود بھی اس بات پر حیرت میں ہے کہ شہر کی مقامی جماعت نے ’’بھجن منڈلی‘‘ کی شکل کیوں اختیار کرلی ہے۔ مسلمانوں کے مسائل پر ٹھوس نمائندگی کے بجائے چیف منسٹر کے تعریفوں کے پل باندنھنا اور حقیقی مسائل کو پس پشت ڈالنا ، کیا یہی نمائندگی کا حق ادا کرنا ہے؟ اقلیتی بہبود پر آج اسمبلی میں مختصر مباحث منعقد ہوئے اور بحث کا آغاز حکومت کی حلیف جماعت کے فلور لیڈر نے کیا ۔ اسمبلی قواعد کے مطابق مختصر مباحث میں ہر رکن کو زیادہ سے زیادہ 10 تا 15 منٹ یا پھر اسپیکر کچھ زیادہ ہی مہربان ہوجائیں تو نصف گھنٹہ الاٹ کیا جاتا ہے لیکن یہاں چونکہ مسائل سے زیادہ حکومت کی تعریف بیان کی جارہی تھی لہذا ایک گھنٹہ کا وقت دیا گیا۔ فلور لیڈر نے وقت کا زیادہ تر حصہ چیف منسٹر کے کان خوش کرنے میں صرف کیا۔ تلنگانہ کے مسلمانوں کی نظریں اسمبلی کے راست ٹیلی کاسٹ ہونے والے مباحث پر ٹکی تھی اور انہیں امید تھی کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ پر مسلم نمائندے ڈٹ کر نمائندگی کریں گے لیکن تقریر سننے کے بعد انہیں بھی مایوسی ہوئی اور یہ اندازہ ہونے لگا کہ تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں حکومت سنجیدہ نہیں تو دوسری طرف مسلمانوں کے نمائندوں کو بھی اس کی پرواہ نہیں ہے۔ فلور لیڈر نے میچ فکسنگ کے انداز میں اظہار خیال کرتے ہوئے 12 فیصد تحفظات کا ذکر تو کیا لیکن اس میں بھی تحفظات پر جلدعمل آوری کے خواہشمندوں کو مخالفین کے طور پر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کو تحفظات ’’فاسٹ فوڈ‘‘دکھائی دے رہے ہیں اور انہیں تحفظات کی بڑی عجلت ہے۔ حالانکہ تحفظات جب بھی آنا ہے ، ضرور آئیں گے ، حکومت نے اسمبلی کی قرارداد مرکز کو روانہ کردی ہے۔ فلور لیڈر نے تحفظات کے حامیوں اور سرکاری ملازمتوں میں 12 فیصد کوٹہ میں تقرر کے خواہشمند بیروزگار مسلم نوجوانوں کو یہ کہہ کر مایوس کردیا کہ تلنگانہ کے حصول کے لئے 14 سال لگ گئے۔ حکومت ’’مودی صاحب‘‘ کے سوچھ بھارت کی طرح آندھرا کی ناانصافیوں کے خاتمہ کیلئے سوچھ مہم چلا رہی ہے۔ اس طرح فلور لیڈر نے صاف لفظوں میں اشارہ کردیا کہ تحفظات کے حصول کی مستقبل قریب میں امید کرنا فضول ہے۔ دراصل وہ حکومت کے موقف کو اپنی زبان سے ادا کر رہے تھے۔حکومت نے مختلف محکمہ جات میں تقررات کا عمل شروع کیا ہے ، ایسے میں 12 فیصد تحفظات کو پس پشت ڈالنا ہزاروں بیروزگار نوجوانوں کی امیدوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔ ایوان میں میچ فکسنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تقریر سے قبل چیف منسٹر کے چیمبر سے آمد ہوئی اور تقریر کے فوری بعد چیف منسٹر کے بغل میں بیٹھ گئے ۔ تقریر کے دوران احسان فراموش نہ ہونے کی بات اور احسان کا بدلہ احسان کہا گیا۔ آخر حکومت نے مسلمانوں یا پھر حلیف جماعت پر ایسا کیا احسان کیا جس کا بدلہ ایوان میں تعریف کے ذریعہ چکایا جارہا تھا ۔ ہزاروں طلبہ کیلئے فیس بازادائیگی کی عدم اجرائی ، ایک لاکھ 53 ہزار درخواستوں کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے بند کیا جانا ، اوورسیز اسکالرشپ اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی عدم اجرائی، شادی مبارک کی ہزاروں درخواستوں کی عدم یکسوئی اور بجٹ کی عدم اجرائی کیا یہی اقلیتوں پر حکومت کے احسانات ہیں جس کا بدلہ تعریف کی صورت میں چکایا گیا۔ دراصل عوام میں بڑھتی ناراضگی کے خوف سے حلیف جماعت نے ابھی سے 2019 ء میں ٹی آر ایس کا دامن تھامنے کا اعلان کردیا ہے تاکہ ٹی آر ایس کے سہارے اپنی نشستوں کو بچایا جاسکے۔ دلچسپ بات تو یہ دیکھی گئی کہ تقریر اپوزیشن بنچس سے ہورہی تھی لیکن برسر اقتدار پارٹی کے ارکان میزیں تھپتھپا رہے تھے جبکہ خود فلور لیڈر کے ساتھی ارکان حیرت سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ جس انداز میں چیف منسٹر کی ستائش کی گئی، ہوسکتا ہے کہ چیف منسٹر نے اپنے وزراء اور ارکان کو اس تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہوگا کہ تعریف کرنا تو حلیف جماعت کے فلور لیڈر سے سیکھیں۔

 

TOPPOPULARRECENT