Wednesday , December 19 2018

مسلم تحفظات: مرکز نے تلنگانہ حکومت کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا

صدر جمہوریہ کو بل کی روانگی روک دی گئی، کیا کے سی آر سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گے؟

کے سی آر کے
وعدہ کا امتحان
آئندہ حکمت عملی کا مسلمانوں کو انتظار

حیدرآباد۔/17فبروری، ( سیاست نیوز) کیا مرکزی حکومت نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کے تحفظات میں اضافہ سے متعلق تلنگانہ حکومت کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے؟ ۔ آندھرا پردیش میں کاپو طبقہ کو تحفظات کی فراہمی سے متعلق بل پر جس طرح مرکزی حکومت نے روک لگادی ہے اُسی طرح تلنگانہ میں مسلم اور ایس ٹی تحفظات سے متعلق بل کی منظوری سے انکار کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ باوثوق ذرائع نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ مرکز نے تحفظات میں اضافہ سے متعلق بل کو منظوری کیلئے صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کے پاس روانہ کرنے کی کارروائی روک دی ہے کیونکہ ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ نے بل پر اعتراضات جتائے ہیں۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلہ سے اگرچہ تلنگانہ حکومت کو آگاہ کردیا گیا لیکن حکومت کے کوئی عہدیدار توثیق یا تردید کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تحفظات کا بل مرکزی وزارت داخلہ میں زیر غور تھا اور ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ نے اسے صدر جمہوریہ کو روانہ کرنے کے خلاف اپنی رائے دی۔ حال ہی میں آندھرا پردیش حکومت نے کاپو طبقہ کو 5 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا بل منظوری کیلئے مرکز کو روانہ کیا تھا۔ ایسے وقت جبکہ تلنگانہ میں مسلمانوں اور ایس ٹی طبقہ کو تحفظات میں اضافہ کا بل مرکز کے زیر غور ہے ایسے میں کاپو طبقہ کو تحفظات کی فراہمی کا بل وزارت داخلہ کے پاس پہنچا۔ وزارت داخلہ نے ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ کی رائے حاصل کرتے ہوئے آندھرا پردیش کے بل کو روکنے کا فیصلہ کیا۔ اسی بنیاد پر تلنگانہ کے دونوں بلز صدر جمہوریہ کو نہیں بھیجے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق تحفظات کے سلسلہ میں سپریم کورٹ نے 50 فیصد کی جو حد مقرر کی ہے اس پر عمل آوری کو بنیاد بناتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ متحدہ آندھرا پردیش میں مجموعی تحفظات 50 فیصد تھے اور ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہوئے مجموعی تحفظات کو 50 فیصد تک پہنچا دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے مسلمانوں کو 5 فیصد تحفظات کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی تھی کہ 5 فیصد سے سپریم کورٹ کی مقرر کردہ حد سے تجاوز ہورہا ہے لہذا حکومت نے5 سے گھٹا کر 4 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ساڑھے تین سال تک ریاست میں مجموعی تحفظات 50 فیصد برقرار رہے۔ لیکن چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں اور ایس ٹی طبقہ کو تحفظات میں اضافہ سے متعلق انتخابی وعدہ کی تکمیل کیلئے اسمبلی میں دو علحدہ بلز کو منظوری دی اور انہیں مرکزی حکومت کو روانہ کیا گیا۔ (باقی سلسلہ صفحہ 2 پر)
موجودہ 4 فیصد مسلم تحفظات میں 8 فیصد اضافہ اور ایس ٹی طبقہ کے موجودہ 6 فیصد تحفظات میں 4 فیصد اضافہ کرتے ہوئے علی الترتیب 12 اور 10 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسمبلی اور کونسل میں گزشتہ سال دونوں بلز کو منظوری دی گئی اور مرکزی حکومت نے ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ اسی دوران آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے کاپو طبقہ کے بل کو ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ کی جانب سے روک دیئے جانے کے فیصلہ کا اثر راست طور پر تلنگانہ کے دونوں بلز پر پڑا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے استدلال پیش کیا تھا کہ دستور کے عین مطابق تحفظات میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے اور دستور نے آبادی میں اضافہ کی صورت میں تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی اجازت دی ہے۔ حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تحفظات مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ سماجی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر فراہم کئے جارہے ہیں۔ ٹاملناڈو میں مجموعی تحفظات 69 فیصد ہیں اور تلنگانہ حکومت نے ٹاملناڈو کی طرز پر تحفظات کی منظوری کی درخواست کی تھی۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی 12.68 فیصد اور درج فہرست قبائیل کی آبادی 9.08 فیصد ہوچکی ہے۔ مرکزی حکومت کا استدلال ہے کہ ایسے وقت جبکہ دستور میں درج فہرست قبائیل کو مکمل مراعات فراہم کی گئی ہیں تحفظات کے فیصد میں اضافہ سے سپریم کورٹ کی مقررہ حد کی خلاف ورزی ہوگی۔ تلنگانہ حکومت نے اپنے دلائل میں اس بات کا ذکر بھی کیا کہ سپریم کورٹ نے ریاستوں کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ غیر معمولی حالات میں 50فیصد کی حد سے تجاوز کرسکتے ہیں تاہم انہیں اس کیلئے ٹھوس دلائل و وجوہات پیش کرنا ہوگا۔ مرکز نے دونوں ریاستوں کے دلائل کو قبول نہیں کیا اور بلز کی منظوری کے خلاف احکامات جاری کئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت مرکز کے اس فیصلہ سے واقف ہے تاہم چیف منسٹر نے وزراء اور عہدیداروں کو اس سلسلہ میں کچھ بھی کہنے سے منع کردیا ہے۔ آئندہ سال انتخابات کے پیش نظر ٹی آر ایس حکومت اس مسئلہ پر پھونک پھونک کر قدم اٹھانا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایک سے زائد مرتبہ یہ اعلان کیا کہ تحفظات کی منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں لڑائی ہوگی۔ انہوں نے مرکز کی جانب سے تحفظات بل کو مسترد کئے جانے پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا تھا۔ چیف منسٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی تلنگانہ میں تحفظات میں اضافہ کے حق میں ہیں۔ اب جبکہ مرکز نے مسلم اور ایس ٹی تحفظات کے بلز کو منظوری سے عملاً انکار کردیا ہے دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی حکومت کا اگلا قدم اور حکمت عملی کیا ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے جس انداز میں تحفظات میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے اسے سپریم کورٹ سے منظوری ملنا آسان نہیں کیونکہ 4فیصد مسلم تحفظات کا مسئلہ پہلے ہی سے سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے۔ اس کے علاوہ ٹاملناڈو کے 69 فیصد تحفظات کا سپریم کورٹ جائزہ لے رہی ہے۔ مسلمانوں کی ناراضگی سے بچنے کیلئے مرکزی حکومت کے مخالف تحفظات فیصلہ کو ٹی آر ایس حکومت برسرعام کرنے سے گریز کررہی ہے۔ مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ تحفظات کے سلسلہ میں مرکز کے موقف اور فیصلہ کو برسر عام کرتے ہوئے حکومت کو اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرنا چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT