Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / مسلم تحفظات مسئلہ پر پارلیمنٹ میں دوسرے دن بھی ٹی آر ایس ارکان کا احتجاج

مسلم تحفظات مسئلہ پر پارلیمنٹ میں دوسرے دن بھی ٹی آر ایس ارکان کا احتجاج

تحفظات کی فراہمی کے اختیارات ریاستوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ ، ایوان میں شور و غل اور ہنگامہ
حیدرآباد۔/6 مارچ، ( سیاست نیوز) پارلیمنٹ میں آج مسلسل دوسرے دن بھی ٹی آر ایس ارکان نے تحفظات کے مسئلہ پر احتجاج درج کرایا۔ اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی ٹی آر ایس کے ارکان پلے کارڈز تھامے ہوئے اسپیکر کے پوڈیم تک پہنچ گئے اور نعرہ بازی کرنے لگے۔ کانگریس، تلگودیشم اور دیگر پارٹیوں کے ارکان علحدہ مسائل پر احتجاج کررہے تھے۔ ٹی آر ایس کے ارکان نے تحفظات کی فراہمی کا اختیار ریاستوں کو سونپنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پلے کارڈز تھام رکھے تھے۔ شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے دوران اسپیکر سمترا مہاجن نے ایوان میں نظم بحال کرنے کی کوشش کی تاہم ممکن نہ ہوسکا۔ شور و غل اور ارکان کی ہنگامہ آرائی پر اسپیکر نے 12بجے تک ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔ تلگودیشم ارکان آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کررہے تھے جبکہ کانگریس نے بینک اسکام کے مسئلہ پر مباحث کا مطالبہ کیا۔ دوپہر 12 بجے جب دوبارہ ایوان کی کارروائی شروع ہوئی ٹی آر ایس ارکان نے احتجاج جاری رکھا اور نعرہ بازی کی جس پر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی۔ ٹی آر ایس ارکان نے مرکز کی جانب سے مسلم اور ایس ٹی تحفظات کے بل کی منظوری میں تاخیر پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کے اعتبار سے مسلمانوں اور ایس ٹی طبقہ کے تحفظات میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دستوری ترمیم کے ذریعہ تحفظات کی فراہمی کا اختیار ریاستوں کو دیئے جانے کی مانگ کی۔ بعد میں ٹی آر ایس ارکان نے پارلیمنٹ کے باب الداخلہ اور احاطہ میں موجود مجسمہ گاندھی کے پاس احتجاجی دھرنا منظم کیا۔ ٹی آر ایس ارکان پلے کارڈز تھامے ہوئے تھے جن پر تحفظات کا اختیار ریاستوں کو سونپنے کی مانگ کی گئی۔ بعض دیگر جماعتوں کے ارکان نے احتجاجی ارکان سے اظہار یگانگت کیا۔ اس موقع پر کویتا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور روزگار میں پسماندگی کے خاتمہ کیلئے مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو تحفظات کے موجودہ فیصد میں اضافہ کرتے ہوئے اسمبلی میں بل منظور کیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو تحفظات بل کی منظوری کا تیقن دیا لیکن بعد میں موقف تبدیل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس تحفظات کے مسئلہ پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ کویتا نے کہا کہ ریاستوں کو کئی اہم مسائل کے اختیارات دیئے جانے چاہیئے جن میں تحفظات کی فراہمی بھی شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تحفظات کے وعدہ پر عمل آوری میں سنجیدہ ہیں۔ رکن پارلیمنٹ ونود کمار نے کہا کہ تحفظات بل کی ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں نے تائید کی ہے۔ یہ بل اپریل 2017 میں منظور کیا گیا اور صدر جمہوریہ کے پاس روانہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کے مسئلہ پر مرکز کے اعتراضات غیر ضروری ہیں۔ ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات گزشتہ 21 سال سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کی فراہمی سے قبل حکومت نے بی سی کمیشن اور سدھیر کمیشن سے رپورٹ حاصل کی ہے لہذا عدالت میں تحفظات کی برقراری کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر مرکز کی جانب سے منظوری نہ ملنے کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ احتجاج میں جتیندر ریڈی، ویشویشور ریڈی، سرینواس ریڈی، بی سمن، ملا ریڈی اور دوسروں نے حصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT