Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / مسلم تحفظات : ٹی آر ایس حکومت کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان

مسلم تحفظات : ٹی آر ایس حکومت کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان

سدھیر کمیشن سے محکمہ جات کا عدم تعاون، بی سی کمیشن کے بغیر تحفظات ممکن نہیں
حیدرآباد ۔ 12 جولائی۔(سیاست نیوز) مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے خاتمہ کے سلسلہ میں ہر حکومت مختلف دعوے کرتی ہے۔ آزادی سے لیکر آج تک سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کو ووٹ بینک کی خاطر استعمال کرنے کیلئے ان کی پسماندگی پر مگرمچھ کے آنسو بہائے۔ اب  جبکہ مسلمانوں میں اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے شعور بیدار ہورہا ہے، سیاسی جماعتیں نت نئے وعدوں کے ذریعہ انہیں خوش کرنے میں مصروف ہیں تاکہ اپنے مقصد کی تکمیل ہوسکے۔ پسماندگی کے خاتمہ کیلئے حکومتوں کا بجٹ اور ان کی اسکیمات ناکافی ہے، لہذا مسلمانوں نے تعلیم اور روزگار میں تحفظات کے حصول کی مہم شروع کی ہے۔ قومی سطح پر مسلم تحفظات کی مہم کے آغاز کی کوشش کی گئی لیکن وہ سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوگئی۔ جسٹس راجندر سچر کمیٹی نے جس انداز میں مسلمانوں کی پسماندگی کا احاطہ کیا اور جن حقائق کو دنیا سے روبرو کیا، اس کی بنیاد پر قومی سطح پر تحفظات کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا لیکن یہ دیرپا ثابت نہیں ہوا۔ متحدہ آندھراپردیش میں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی زیر قیادت کانگریس حکومت کی جانب سے مسلمانوںکو 4 فیصد تحفظات کی فراہمی کے بعد دیگر ریاستوں میں بھی مسلمانوں نے تحفظات کی مہم کا آغاز کیا۔ اگرچہ 4 فیصد تحفظات کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے لیکن عدالت نے قطعی فیصلہ تک تحفظات پر عمل آوری کی اجازت دی ہے۔ 2014 ء کے عام انتخابات میں ٹی آر ایس کو مسلمانوں کی اٹوٹ تائید اور تلنگانہ تحریک میں ان کی حصہ داری کو محسوس کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا۔ انہوں نے اقتدار کے 4 ماہ میں تحفظات کی فراہمی کا اعلان کیا تھا لیکن حکومت کے دو سال گزرنے کے باوجود آج تک اس سلسلہ میں کوئی پیشقدمی نہیں کی گئی۔ حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نے مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی کے سروے کیلئے سدھیر کمیشن قائم کیا ہے لیکن حقیقت میں تحفظات کی فراہمی کیلئے یہ کمیشن اور اس کی رپورٹ کسی بھی اعتبار سے کارگر ثابت نہیں ہوسکتی۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ بیاک ورڈ کلاسس کمیشن کے قیام کے ذریعہ اس سے سفارشات حاصل کی جائیں۔ سابق میں جب راج شیکھر ریڈی حکومت نے بی سی کمیشن کی سفارش کے بغیر 5 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے ، اس وقت عدالت نے یہ کہتے ہوئے تحفظات کو کالعدم کردیا کہ بی سی کمیشن کی سفارشات کے بغیر حکومت کا فیصلہ غیر دستوری ہے۔ اس حقیقت کو جاننے کے باوجود کے سی آر حکومت کی جانب سے سدھیر کمیشن کا قیام اور اس کی میعاد میں دو مرتبہ توسیع نے مسلمانوں میں حکومت کی سنجیدگی پر کئی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ چیف منسٹر نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ سدھیر کمیشن چند دن میں اپنی رپورٹ پیش کردے گا جبکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ کمیشن کے پاس رپورٹ کی پیشکشی کیلئے درکار مواد دستیاب نہیں ہے، جن سرکاری محکمہ جات سے تفصیلات طلب کی گئی تھیں،(سلسلہ صفحہ 7 پر)

TOPPOPULARRECENT