Wednesday , June 20 2018
Home / مضامین / مسلم تحفظات پر حکمراں خاموش

مسلم تحفظات پر حکمراں خاموش

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
مسلم تحفظات پر حکمراں خاموش ہے ۔ یہ خاموشی ایک زبان ہے ، جسے ہر کوئی اپنے ڈھنگ سے بولتا ہے ۔ تحفظات کے لیے چیف منسٹر کے سی آر نے بھی مسلمانوں کو اپنے ڈھنگ سے بول کر خاموشی سے ووٹ حاصل کئے تھے لیکن اب وعدہ پورا کرنے کی بات آرہی ہے تو خاموش ہوگئے ہیں ۔ خاموشی بولتی ہی نہیں چیختی ہے ۔ پکارتی اور لتاڑتی بھی ہے ۔ محبوبہ خاموش رہے تو ناراض … محبوب خاموش رہے تو بزدلی ، انسان خاموش ہے تو بے بس انسانیت خاموش رہے تو بے حس ، قوم خاموش رہے تو مظلومیت … اور حکمراں خاموش رہے تو سیاست ۔ ایسی خاموشی اب تلنگانہ کے حکمران کے لیے سکہ رائج الوقت بن چکی ہے ۔ اپنی خاموشی کے ذریعہ وہ مرکز کی رائے سے ہم آہنگ ہورہے ہیں ۔ ان کو آنے والے انتخابات کی بھی فکر دکھائی نہیں دیتی انہیں یہ احساس بھی نہیں ہورہا ہے کہ اگر انتخابات کے موقع پر وہ مسلمانوں کے سامنے ووٹ کے لیے ہاتھ پھیلائیں گے تو اس کے جواب میں کیا ملے گا۔ واقف کاران تحفظات کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر کی تحفظات کے وعدے کو روکنے کے لیے طرح طرح کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ تحفظات کے مخالفین مرکز کے ساتھ مل کر سازشی مہرے کے طور پر کام کررہے ہیں ۔ یہ باتیں سننے میں آرہی ہیں کہ چیف منسٹر نے تحفظات کے معاملہ میں ’ دوا ‘ بھی کی ہے اور دعا سے بھی کام لیا ہے ۔ لیکن مرکزی قیادت اس موڈ میں ہی نہیں ہے کہ وہ تلنگانہ حکومت کے سربراہ کے انتخابی وعدہ کو پورا کرکے مسلمانوں کو تحفظات سے ہمکنار کردے ۔

انتخابات سے قبل چیف منسٹر ہی کچھ ٹھوس قدم اٹھا کر اقلیتوں کے حق میں مالی اقدامات کرتے ہیں بجٹ میں خاطر خواہ فنڈس کا انتظام کرنے میں ’ خادم اعلیٰ ‘ کی حقیقی خدمت کا نصب العین ان کی پارٹی کے لیے کامیابی کی نوید لانے کا سبب بن سکتا ہے ۔ مگر تلنگانہ کا بجٹ بظاہر اس بات کی اجازت نہیں دے رہا ہے کہ چیف منسٹر اپنے مسلم دوستی کے وعدوں کو پورا کرسکیں ۔ آئندہ چند دن میں پیش ہونے والا بجٹ خسارہ سے دوچار بتایا جائے گا ۔ جاریہ مالیاتی سال ختم ہونے کے لیے اب صرف 3 ہفتے باقی رہ گئے ہیں ۔ حکومت تلنگانہ سرکاری خزانے کو بچانے کے لیے تمام ادائیگیوں کو روکتے ہوئے بجٹ کو فاضل بنانے کی جدوجہد کررہی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک تلنگانہ حکومت اپنے لیے زائد یا فاضل بجٹ نہیں بنائے گی اسے مرکزی حکومت سے اضافی قرض حاصل کرنے کی اجازت نہیں ملے گی ۔ 14 ویں فینانس کمیشن نے جو سفارشات کی ہیں اس کے مطابق مرکزی حکومت سے فنڈس ریاست کو ملے گا ۔ اس لیے حکومت نے جاریہ مالیاتی سال میں اپنے بجٹ میں مالیاتی خسارہ بتانے کی تیاری کررہی ہے ۔ تلنگانہ حکومت کا سال 2017-18 میں بجٹ 1,39,441.67 کروڑ تھا اور اس نے 4,571.31 کروڑ فاضل بجٹ بناکر پیش کیا لیکن گذشتہ سال دسمبر تک دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ حکومت کا بجٹ 3,998.87 کروڑ روپئے کے خسارہ سے دوچار ہے ۔ حکومت کو جملہ مالیاتی وصولی 59,214.36 کروڑ روپئے ہوئی اور اس مالیہ مصارف 63,213.23 کروڑ روپئے ہیں اس طرح وعدوں کی بارش اور اسکیمات اور پراجکٹس پر عمل کرنے سے قاصر حکومت کو 3998.87 کروڑ روپئے کا مالیاتی خسارہ ہوا ہے ۔ اس حقیقت کو کتنا سچ سمجھیں کتنا فسانہ یہ تو حکمراں کی مالیاتی نیت پر منحصر ہے ۔ تلنگانہ کے قیام سے پہلے تک ٹی آر ایس قیادت نے آندھرائی تسلط کی حکومتوں پر الزام عائد کیا تھا کہ ان لوگوں نے تلنگانہ کے زرخیز علاقہ سے حاصل ہونے والے مالیہ کو ہڑپ کر اس علاقہ کو ترقی سے محروم کردیا ہے ۔ صرف حیدرآباد سے ہی حاصل ہونے والی سرکاری آمدنی سے ساری ریاست کا خرچ چلایا جاسکتا ہے ۔

مگر اب اقتدار کے چار سال بعد بھی ٹی آر ایس حکومت بجٹ خسارہ کے ساتھ حکومت کررہی ہے تو پھر وہ عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے فنڈس کہاں سے لائے گی ۔ مارچ میں شروع ہونے والے ریاستی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں تلنگانہ حکومت اپنے بجٹ میں عوامی بہبودی پروگراموں کا بھی اعلان کرنے والی ہے ۔ زراعت کے شعبہ کو ترقی دینے کا فنڈس مختص کیا جائے گا ۔ روزگار کی فراہمی پر خاص توجہ دی جائے گی ۔ حکومت نے سرکاری محکموں میں تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لیے ایک روڈ میاپ تیار کیا ہے ۔ آئندہ سال تک ریاست میں قائم ہونے والی صنعتوں میں ماہرین ورک فورس کو بھی روزگار کے مواقع ملیں گے ۔ تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اصافہ کی توقع کے ساتھ حکومت نے موافق صنعتی دوستانہ پالیسی کو وضع کیا ہے ۔ تلنگانہ اکیڈیمی آف اسکیل اینڈ نالج کو بھی پہلے ہی قائم کیا جاچکا ہے جس میں طلباء کو ماہرانہ تربیت دی جائے گی ۔ پولیس میں 40,000 روزگار ، صحت ، زراعت اور تعلیم میں بھی روزگار ملنے والا ہے اس کے علاوہ مختلف محکموں میں 30,000 جائیدادوں کو مکمل کرلیا جائے گا ۔ ان خوش کن اعلانات کے دوران اگر تلنگانہ کے نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے تو یہ ایک بڑی خوشخبری ہوگی ۔ تلنگانہ میں دفاعی صنعتی پیداواری راہداری کی منظوری کے لیے مرکز سے مطالبہ کرنے والی ٹی آر ایس حکومت کو اس بات کی بھی امید ہے کہ وہ تلنگانہ میں دفاعی آلات کی تیاری کی صنعتوں کے قیام کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوگی ۔ بلاشبہ تلنگانہ میں پہلے ہی سے کئی دفاعی شعبے کام کررہے ہیں ۔ ان میں قابل ذکر ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن لیابس ، بھارت ڈائنمک لمٹیڈ ، ڈیفنس مٹیلواجیکل ریسرچ لیباریٹری ، نیوکلیر فیول کامپلکس ، الیکٹرانکس کارپوریشن انڈیا لمٹیڈ ( ای سی آئی ایل ) اور بھارت الکٹرانکس کام کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایرو اسپیس بھی ہے ۔ کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست کو اپنی پالیسیوں اور ویژن کے ذریعہ ترقی کی جانب چھلانگ لگانے کی کوشش کی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مسلمانوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ کر دکھانے کا بھی منصوبہ بنایا ہوگا کیوں کہ وہ تو 12 فیصد تحفظات دینے کے وعدے کو پورا کرنے سے قاصر ہیں تو کم از کم وقتی طور پر مسلمانوں کو ترقی دینے والے مالیاتی اقدامات بھی کرسکتے ہیں ۔ کے سی آر کی سیاسی خوبیوں اور صلاحیتوں سے ان کے مخالفین اور سابق ساتھیوں کو بھی اعتراف ہے ۔ خاص کر تلگو دیشم کے صدر اور چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کو کے سی آر کی سیاسی بصیرت کا اندازہ ہے ۔ جب کے سی آر تلگو دیشم میں ان کے سیاسی رفیق تھے تو انہوں نے کے سی آر کو کابینہ میں خاص موقع نہیں دیا تھا ۔ اس کا انہیں اب احساس ہوچلا ہے ۔

چندرا بابو نائیڈو نے حال ہی میں اس بات پر افسوس ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی کابینہ میں کے چندر شیکھر راؤ کو نہ لے کر غلطی کی تھی کیوں کہ تلگو دیشم کو جب 1999 میں دوبارہ اقتدار ملا تھا تو انہوں نے کے سی آر کو کابینہ میں نہیں لیا تھا جبکہ انہیں اس وقت کے وجئے راما راؤ میں کے سی آر سے زیادہ قابلیت کا احساس ہوا تھا ۔ کیوں کہ کے وجئے راما راؤ سی بی آئی ڈائرکٹر رہ چکے تھے اور ان کو بیوروکریٹس کی ذمہ داریوں کا بھی تجربہ تھا ۔ اس لیے انہوں نے کے سی آر کے مقابل وجئے راما راؤ کو قابل سمجھا لیکن اب اس غلطی کا اعتراف کرتا ہوں کہ کابینہ میں نہ لئیے جانے کی وجہ سے کے سی آر کو شدید تکلیف ہوئی تھی اور اس صدمہ اور غصہ نے انہیں تلگو دیشم کا باغی بنادیا اور ان کے اندر تلنگانہ تحریک کے احیاء کا جذبہ جاگزیں ہوا ۔ جس کے بعد ہی انہوں نے تلنگانہ راشٹرا سمیتی قائم کر کے تلگو دیشم کے خلاف سیاسی طاقت بنالی ۔ وقت اور حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے ۔ انہوں نے فلسفیانہ انداز میں کہا کہ اگر تاریخ کا مشاہدہ کریں تو معلوم ہوگا کہ بعض چیزیں ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتے ہم صرف چند چیزوں پر ہی کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں ۔۔
وابستہ ہوگئیں تھیں کچھ اُمیدیں آپ سے
اُمیدوں کا چراغ بجھانے کا شکریہ
[email protected]

TOPPOPULARRECENT