Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات پر حکومت تلنگانہ کو موقف ظاہر کرنے کا مطالبہ

مسلم تحفظات پر حکومت تلنگانہ کو موقف ظاہر کرنے کا مطالبہ

ٹی آر ایس سے این ڈی اے صدر جمہوریہ کی تائید ، محمد علی شبیر کا ردعمل
حیدرآباد۔26 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے صدرجمہوریہ اور نائب صدر کے انتخابات میں ٹی آر ایس کی جانب سے این ڈی اے امیدواروں کی تائید کے پس منظر میں تلنگانہ حکومت سے مسلم تحفظات کے بارے میں موقف کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ایک طرف حکومت نے مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے لیے اسمبلی اور کونسل میں بل کو منظوری دی اور اسے مرکز روانہ کیا۔ چیف منسٹر نے دعوی کیا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے بل کی منظوری کا تیقن دیا ہے لیکن آج تک بھی اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت دکھائی نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ صدرجمہوریہ کے عہدے کے لیے ٹی آر ایس نے رام ناتھ کووند کی تائید کی اور اگست میں ہونے والے نائب صدر کے انتخاب میں وینکیا نائیڈو کی تائید کی جائے گی۔ نئی دہلی میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے وینکیا نائیڈو سے ملاقات کی جس کے بعد وینکیا نائیڈو نے ٹی آر ایس کی جانب سے ان کی تائید کا یقین ظاہر کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وینکیا نائیڈو نے ایک سے زائد مرتبہ مسلم تحفظات کی کھل کر مخالفت کی لیکن ایسی شخصیت کی امیدواری کی تائید کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے مسلمانوں کو کیا پیام دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وینکیا نائیڈو کا یہ اعتراف کہ ٹی آر ایس ان کی تائید کرے گی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم تحفظات کا مسئلہ مرکز میں تعطل کا شکار ہوچکا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرکز کے مختلف محکمہ جات میں بل کو غور کے لیے روانہ کرنے کا بہانہ بناتے ہوئے مسئلہ کو ٹال دیا جائے گا اور چیف منسٹر تلنگانہ کے مسلمانوں کو یہ تیقن دیتے رہیں گے کہ وہ مسلم تحفظات کے لیے حکومت سے جدوجہد کریں گے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اسمبلی اور کونسل میں چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ اگر ضرورت پڑے تو وہ تحفظات کی منظوری کے لیے نئی دہلی میں دھرنا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کے لیے جدوجہد کے بجائے چیف منسٹر نے بی جے پی سے روابط استوار کرنے کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئی سیاسی تبدیلیوں کے پس منظر میں چیف منسٹر کو مسلم اور درج فہرست قبائل کے تحفظات کے بارے میں حکومت کے موقف کی وضاحت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ رام ناتھ کووند کے لیے یہ عذر پیش کیا گیا کہ وہ دلت ہیں اور کے سی آر نے دلت کو صدر جمہوریہ بنانے کی سفارش کی ہے۔ لیکن وینکیا نائیڈو کی تائید ناقابل فہم ہے جنہوں نے حالیہ عرصہ تک کھل کر مسلم تحفظات کی مخالفت کی اور تلنگانہ سے زیادہ آندھراپردیش کے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے۔

اوورسیز اسٹڈیز میناریٹی طلبہ کے لیے برٹش کونسل کا دفتر سیاست میں پروگرام
حیدرآباد ۔ 26 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : میناریٹی طلبہ جو فارن اسٹیڈیز کرنے کے خواہاں ہیں ان کے لیے انگلش لینگویج ٹسٹ آئی ای ایل ٹی اور ٹوفل کی تیاری اور میناریٹی اسکالر شپ کے لیے دفتر سیاست کے محبوب حسین جگر ہال عابڈس پر اتوار 30 جولائی کو دو بجے دن پروگرام رکھا گیا ہے ۔ اس میں برٹش کونسل کے افراد شرکت کررہے ہیں ۔ آسٹریلیا ، کناڈا ، یو کے میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے خواہاں مسلم امیدوار شرکت کرسکتے ہیں ۔ مس فاطمہ سے 66664700 پر ربط کریں ۔۔

 

TOPPOPULARRECENT