مسلم تحفظات پر عمل آوری اور تمام طبقات کی ترقی کیلئے دُعا کریں

عازمین حج کی روانگی کے موقع پر انقلابی شاعر غدر کا خطاب

عازمین حج کی روانگی کے موقع پر انقلابی شاعر غدر کا خطاب

حیدرآباد۔ 22۔ ستمبر (سیاست نیوز) ریاستی حج کمیٹی کے ذریعہ آج 700 عازمین پر مشتمل دو قافلے جدہ روانہ ہوئے۔ اس طرح ابھی تک جملہ 3750 عازمین حج حیدرآباد سے روانہ ہوچکے ہیں۔انقلابی شاعر غدر ، صدرنشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن جناب محمد ہدایت علی اور اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے قافلوں کو جھنڈی دکھاکر روانہ کیا۔ حج ہاؤز نامپلی سے آج دو قافلوں کی روانگی کے ساتھ ہی حیدرآباد سے اب تک جملہ 11 قافلے روانہ ہوچکے ہیں اور حج کمیٹی کے 60 فیصد عازمین مکہ مکرمہ پہنچ چکے ہیں۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے عازمین کی روانگی کا عمل آج مکمل ہوچکا ہے اور آج کے دوسرے قافلہ سے آندھراپردیش کے عازمین کی روانگی کا آغاز ہوگیا ۔ 28 ستمبر تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انقلابی شاعر غدر نے عازمین حج سے اپیل کی کہ وہ دونوں ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش کی ترقی اور خوشحالی کیلئے دعاء کریں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ نے 12 فیصد تحفظات مسلمانوں کو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ اس اعلان پر جلد عمل آوری ہوگی ۔ انہوں نے عازمین حج سے درخواست کی کہ تحفظات پر عمل آوری کے حق میں خصوصی دعاء کریں۔ غدرنے ملک میں امن و امان اور تمام طبقات کی یکساں ترقی کیلئے بھی دعاء کرنے کی خواہش کی۔ صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن جناب محمد ہدایت نے عازمین حج کو مبارکباد پیش کی اورکہا کہ مکہ اور مدینہ کی حاضری باعث افتخار ہے۔ انہوں نے عازمین حج سے اپیل کی کہ وہ ملک اور دونوں ریاستوں کو اپنی دعا میں شامل رکھیں۔ اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ حج کمیٹی کے تقریباً 60 فیصد عازمین مکہ مکرمہ پہنچ چکے ہیں اور عمرہ کی تکمیل کے بعد ایام حج کے آغاز کے منتظر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں موجود تمام عازمین حج بخیر و عافیت ہے۔ آج کی پہلی فلائیٹ کے 350 عازمین نے حیدرآباد کے 224 ، عادل آباد 18 ، کریم 5 ، کھمم 16 ، محبوب نگر 8 ، میدک 7 ، نلگنڈہ 4 ، نظام آباد 38 ، رنگا ریڈی 20 اور ورنگل کے 10 عازمین شامل ہیں۔ جبکہ 11 ویں قافلے میں مشرقی گوداوری کے 18 ، گنٹور 127 ، کڑپہ 65 ، کرشنا 114 ، کرنول 13 اور وشاکھاپٹنم کے 10 عازمین شامل ہیں۔ مولانا سید شاہ اعظم علی صوفی صدر کل ہند جمیعت المشائخ نے عازمین حج سے خطاب کرتے ہوئے مناسک حج کی تفصیل بیان کی ۔ انہوں نے عازمین حج کو مشورہ دیا کہ وہ مناسک حج کی ادائیگی میں ادب و احترام کا خاص خیال رکھیں اور عبادتوں میں خشوع و خضوع کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں ایک نماز کا اجر ایک لاکھ اور مدینہ منورہ میں 50,000 نمازوں کے برابر ہے۔ مولانا اعظم علی صوفی نے عازمین کو مشورہ دیا کہ وہ میدان عرفات میں اپنے خیموں میں نماز ادا کریں۔ انہوں نے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ادب و احترام کو ملحوظ رکھنے اور بلند آواز سے گفتگو کرنے سے منع کیا۔ اگزیکیٹیو آفیسر جناب عبدالحمید نے کہا کہ حج کمیٹی کی جانب سے پہلی مرتبہ مدینہ منورہ میں عازمین حج کیلئے طعام کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس سے عبادتوں کی ادائیگی میں سہولت ہوگی۔ انہوں نے سفر حج کے دوران ضروری احتیاط کے بارے میں واقف کرایا ۔ عازمین حج کے دونوں قافلوں کی روانگی کے موقع پر حج ہاؤز میں سینکڑوں کی تعداد میں عازمین کے رشتہ دار اور دوست احباب وداع کرنے کیلئے موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT