Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / مسلم تحفظات کیلئے بی سی کمیشن، چلپا کمیشن کی رپورٹس کابینہ میں منظور

مسلم تحفظات کیلئے بی سی کمیشن، چلپا کمیشن کی رپورٹس کابینہ میں منظور

تحفظات میں اضافہ کا فیصلہ کرنے 15 اپریل کو کابینی اجلاس،16اپریل کو اسمبلی میں ایجنڈہ کو قطعیت ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا خطاب

حیدرآباد۔/12 اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی کابینہ نے مسلمانوں و درج فہرست قبائیل کے موجودہ تحفظات میں اضافہ سے متعلق بی سی کمیشن اور چلپا کمیشن کی رپورٹس کو منظوری دے دی ہے۔ ریاستی کابینہ کا آج ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں دونوں طبقات کے تحفظات میں اضافہ کے مسئلہ پر 16اپریل کو اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کے تحفظات کے فیصد میں اضافہ کا فیصلہ 15 اپریل کو کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج شام کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ 15 اپریل کو 2 بجے دن ریاستی کابینہ کا اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کے تحفظات کے فیصد کا فیصلہ ہوگا۔ شام 4:30 بجے اسمبلی کی بزنس اڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ ہوگی اور 16 اپریل کے اسمبلی اجلاس کے ایجنڈہ کو قطعیت دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اسپیکر مدھوسدن چاری سے خواہش کی گئی ہے کہ 16 اپریل کو اسمبلی کا اجلاس طلب کریں۔ چیف منسٹر نے تاہم بی سی اور چلپا کمیشنوں کی جانب سے کی گئی سفارشات کے افشاء سے گریز کیا اور کہا کہ کمیشن کی سفارشات کا انکشاف نہیں کیا جاسکتا لہذا اس کا فیصلہ ریاستی کابینہ کرے گی۔ انہوں نے انتخابی وعدہ کی تکمیل کے سلسلہ میں پیشرفت کو تاریخی دن قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بعض گوشوں کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کا جو الزام عائد کیا جارہا ہے اس کی وہ سختی سے مذمت کرتے ہیں۔

مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ پسماندگی کی اساس پر تحفظات کے فیصد میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ درج فہرست اقوام ( ایس سی) اور پسماندہ طبقات ( بی سی) کے موجودہ تحفظات کے فیصد میں بھی اضافہ کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں ایس سی کمیشن اور بی سی کمیشن سے سفارشات حاصل کی جائیں گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ ٹاملناڈو کی طرز پر 50فیصد سے زائد تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کررہے ہیں، انہیں یقین ہے کہ مرکزی حکومت اس مساعی کو منظوری دے گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت کسی وجہ سے تحفظات کو منظوری نہیں دیتی ہے تو ریاستی حکومت سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی اور جس طرح ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات پر عمل آوری کا سلسلہ جاری ہے اسی طرح تلنگانہ کیلئے بھی اجازت حاصل کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے مجموعی تحفظات کے فیصد کو 50% سے زائد کرنے کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کیلئے 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا اور اسے انتخابی منشور میں بھی شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی گوشوں سے موجودہ 4 فیصد تحفظات کی برقراری کے بارے میں ہی شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن تلنگانہ حکومت اسے یقینی بنانے کا عزم رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سدھیر کمیشن اور چلپا کمیشن کی رپورٹس کو بی سی کمیشن سے رجوع کرتے ہوئے اس سے تفصیلی رپورٹ حاصل کی گئی ہے۔

چیف منسٹر نے بتایا کہ ان کی حکومت نئے تحفظات کا مطالبہ نہیں کررہی ہے بلکہ وہ موجودہ تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے خواہاں ہیں۔ متحدہ آندھرا پردیش میں مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو پہلے ہی سے تحفظات حاصل ہیں۔ بی سی ای زمرہ کے تحت پسماندہ مسلمانوں کو 4 فیصد اور دودیکلا طبقہ کے ایک فیصد کے اعتبار سے جملہ 5 فیصد تحفظات پر عمل آوری جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مغربی بنگال، ٹاملناڈو، کیرالا، کرناٹک، منی پور، آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں مسلمانوں کے مختلف گروپس کو تحفظات حاصل ہیں۔ ٹاملناڈو میں مجموعی تحفظات 69 فیصد ہیں جبکہ جھارکھنڈ میں 60 ، مہاراشٹرا 52 اور ارونا چل پردیش، میگھالیہ، ناگالینڈ اور میزورم میں گریجن طبقات کو 80فیصد تحفظات حاصل ہیں۔ گجر اور جاٹ طبقہ کے احتجاج کے بعد راجستھان حکومت نے انھیں تحفظات فراہم کئے اور قانون سازی کے ذریعہ مجموعی تحفظات 68 فیصد کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اسٹیٹ ریزرویشن ایکٹ کو تیار کرنے کیلئے محکمہ قانون کو ہدایت دی گئی ہے اور بل کا مسودہ 15 اپریل کی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری کے بعد صدر جمہوریہ کی منظوری کیلئے مرکز کو روانہ کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت صدر جمہوریہ کی منظوری کے حصول میں مدد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں پارٹی تبدیل ہوسکتی ہے

لیکن حکومت ایک جاریہ عمل ہے لہذا کسی بھی حکومت کی پالیسی ہر ریاست کیلئے مختلف نہیں ہوسکتی۔ جب پی وی نرسمہا راؤ حکومت نے ٹاملناڈو کے تحفظات کو دستور کے 9 ویں شیڈول میں شامل کیا ہے تو پھر نریندر مودی حکومت تلنگانہ کے تحفظات کو منظوری کیوں نہیں دے گی۔ انہوں نے کہاکہ ایس سی طبقات کی آبادی 16.3 فیصد ہے لہذا اُن کے تحفظات میں بھی ایک فیصد کا اضافہ کیا جائے گا۔ بی سی طبقات میں انتہائی پسماندہ گروپس کی نشاندہی کیلئے بی سی کمیشن سے خواہش کی گئی ہے۔ اندرون 7 ماہ بی سی کمیشن اس سلسلہ میں حکومت کو رپورٹ پیش کرے گا جس کے بعد بی سی تحفظات کے فیصد میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کے تحفظات میں اضافہ سے پسماندہ طبقات کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دستور میں کہیں بھی یہ شرط نہیں ہے کہ تحفظات 50 فیصد سے زائد نہ ہوں۔ 1992 میں اندرا ساہنی کیس میں سپریم کورٹ نے 50 فیصد کی حد مقرر کرتے ہوئے اجازت دی تھی کہ استثنائی صورت میں اور پسماندگی کے بارے میں حقیقی اعداد و شمار ثابت ہونے پر تحفظات کے فیصد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹاملناڈو کی طرز پر تحفظات حاصل کرنا چاہتے ہیں، اگر مرکز منظوری نہ دے تو ہم سپریم کورٹ سے حاصل کریں گے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سابق میں کانگریس حکومت کی عدم سنجیدگی کے باعث تحفظات کا مسئلہ عدالتوں تک پہنچ گیا۔ پریس کانفرنس کے موقع پر ڈپٹی چیف منسٹرس محمد محمود علی، کڈیم سری ہری، ریاستی وزراء این نرسمہا ریڈی، جوگو رامنا اور چندو لال موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT