Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / مسلم تحفظات کیلئے بی سی کمیشن سے نمائندگیوں کا سیلاب

مسلم تحفظات کیلئے بی سی کمیشن سے نمائندگیوں کا سیلاب

علماء، مشائخ، عوامی نمائندوں، ماہرین تعلیم و قانون کی تحفظات کے حق میں دلیلیں
جناب خان لطیف خان، مولانا اکبر نظام الدین، مولانا قبول پاشاہ، ارکان مقننہ عامر شکیل، فاروق حسین، جیون ریڈی، پی اجئے کی نمائندگی

حیدرآباد۔/17 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) مسلم تحفظات کے مسئلہ پر مسلمانان تلنگانہ نے آج بی سی کمیشن کے روبرو شعور بیداری کا زبردست مظاہرہ کیا۔ تحفظات کے فیصد میں اضافہ کیلئے بی سی کمیشن کی عوامی سماعت کے آج چوتھے دن سینکڑوں کی تعداد میں وفود نے شہر اور اضلاع سے پہنچ کر نمائندگی کی اور کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت کے وعدہ کے مطابق مسلمانوں کو روزگار اور تعلیم میں 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ کئی جماعتوں، تنظیموں اور اداروں سے وابستہ علماء، مشائخ، دانشور، ارکان اسمبلی اور کونسل کے علاوہ ماہرین تعلیم نے کمیشن سے رجوع ہوتے ہوئے مسلم تحفظات کے حق میں اپنے دلائل پیش کئے اور مسلمانوں کی پسماندگی کے اعداد و شمار بھی حوالے کئے۔

صدرنشین بی سی کمیشن بی ایس راملو نے 3 ارکان کے ساتھ عوامی سماعت میں حصہ لیا اور آج سینکڑوں افراد کے کمیشن سے رجوع ہونے کے باعث سماعت مقررہ وقت کے بعد بھی شام تک جاری رہی۔ گزشتہ تین دنوں کے مقابلہ آج غیر معمولی جوش و خروش دیکھا گیا اور کمیشن کی جانب سے فراہم کئے جارہے فارمس ختم ہوگئے جس کے باعث سینکڑوں افراد کو انتظار کی زحمت سے گذرنا پڑا۔ کمیشن کی جانب سے فوری طور پر فارمس کی پرنٹنگ کا آرڈر دیا گیا۔ خیریت آباد میں واقع بی سی کمیشن کے دفتر کی چوتھی منزل عوام سے کھچا کھچ بھر چکی تھی۔ دلچسپ بات یہ دیکھی گئی کہ سماعت کے چوتھے دن آج صبح ہی سے شہر اور اضلاع کی تنظیموں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا اور آج تحفظات کی مخالف تنظیموں کی نمائندگیاں انتہائی کم ریکارڈ کی گئیں۔

آج جن عوامی نمائندوں نے اپنے متعلقہ اضلاع کے مسلمانوں کے ساتھ کمیشن سے نمائندگی کی ان میں عامر شکیل رکن اسمبلی بودھن، جیون ریڈی رکن اسمبلی آرمور، پی اجئے رکن اسمبلی کھمم اور محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ایڈیٹر انچیف روز نامہ منصف جناب خان لطیف محمد خان نے بھی کمیشن سے رجوع ہوکر مسلم تحفظات کے حق میں دلائل پیش کئے۔ مجلس علمائے دکن، یونائٹیڈ مسلم فورم، جمعیتہ العلمائے ہند، تعمیر ملت، مجلس بچاؤ تحریک، تحریک مسلم شبان، حیدرآباد زکوۃ اینڈ چیاریٹبل ٹرسٹ  ،   محبان تعمیر ملت، مولانا غوث خاموشی ٹرسٹ ،کانگریس، ٹی آر ایس، تلگودیشم، مسلم لیگ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے بھی نمائندگی کی گئی۔

شہر کے مقابلہ دوردراز کے اضلاع سے بڑی تعداد میں مسلمان قافلوں کی شکل میں پہنچے تھے۔ بی سی کمیشن میں سماعت کے آغاز کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب مختلف مذہبی تنظیموں سے وابستہ شخصیتوں نے متحدہ طور پر تحفظات کے حق میں کمیشن سے نمائندگی کی۔ جناب خان لطیف خان نے کمیشن سے کہا کہ بے روزگاری اور ناخواندگی مسلمانوں کا اہم مسئلہ ہے اور اس جانب توجہ دی جانی چاہیئے تاکہ نوجوان نسل کو بھٹکنے سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ وہ گزشتہ 50تا60 برسوں سے امریکہ میں مقیم ہیں لیکن انہوں نے آج تک امریکی شہریت کو قبول نہیںکیا کیونکہ انہیں وطن اور سماج کے تئیں ان کی ذمہ داری اور احساس نے روکے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں تشدد کے بڑھتے واقعات باعث تشویش ہیں اور تعلیم سے دوری اور ملازمتوں سے محرومی اس کی اہم وجوہات ہیں۔

مسلمان آٹو رکشا ، ہوٹلوں میں ملازمت اور سیکل کی دکانات پر کام کرنے تک محدود ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں یکسانیت کے ساتھ ساتھ تمام کو ترقی کے یکساں مواقع بھی فراہم ہونے چاہیئے۔ مسلم علاقوں میں پسماندگی کا حوالہ دیتے ہوئے جناب خان لطیف خان نے کہا کہ کمیشن کو چاہیئے کہ وہ انسانیت کی بنیاد پر مسلمانوں کے مسائل کا جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ سیکولر طاقتوں اور سماج کو جوڑنے والی قوتوں کو جمہوریت میں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ تلنگانہ بڑی امیدوں سے قائم کیا گیا اور مسلمانوں کو حکومت سے کئی توقعات ہیں۔ موجودہ 4 فیصد تحفظات عدالت کے حکم التواء پر برقرار ہیں اور پتہ نہیں آئندہ کیا ہوگا۔ انہوں نے کمیشن سے کہا کہ فُل پروف تحفظات فراہم کئے جائیں تاکہ عدالتوں میں رکاوٹ سے بچ سکیں۔ ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی عامر شکیل اور جیون ریڈی نے کہا کہ مسلمان ہر شعبہ میں پسماندہ ہیں اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے انصاف کا وعدہ کیا ہے۔ عامر شکیل نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی اور کمزور معیشت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اقامتی اسکولس قائم کئے ہیں۔

مسلمان اپنے بچوں کی تعلیمی فیس کی ادائیگی کے موقف میں بھی نہیں۔ جیون ریڈی نے کہا کہ 90فیصد مسلمان پسماندہ ہیں لہذا انہیں کم سے کم 10تا12 فیصد تحفظات فراہم کئے جانے چاہیئے۔ مجلس علمائے دکن کی جانب سے مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی صابری امیر جامعہ نظامیہ، مولانا سید قبول بادشاہ قادری شطاری، مولانا سید صدیق حسینی قادری، مولانا سید حسن ابراہیم حسینی قادری، مولانا سید محمود بادشاہ قادری، مولانا سید اولیاء حسینی مرتضی بادشاہ، مولانا سید شیخن احمد شطاری اور مولانا سید علی حسینی قادری نے کمیشن کو یادداشت پیش کی اور کہا کہ سابق میں کئی کمیشن قائم کئے گئے لیکن مسلمانوں کے حق میں کچھ نہیں کیا گیا۔ موجودہ حکومت سے مسلمانوں کو امید ہے کہ وہ وعدہ کے مطابق تعلیم اور روزگار میں تحفظات فراہم کرے گی۔ مولانا اکبر نظام الدین نے سدھیر کمیشن کی سفارشات کے مطابق 12فیصد تحفظات پر عمل آوری، اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ اور وقف بورڈ عاملانہ اختیارات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی سی کمیشن کو جامع رپورٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے وفد کے ساتھ نمائندگی کی اور کمیشن کو بتایا کہ مسلمانوںکی پسماندگی کے بارے میں مزید کسی سروے کی ضرورت نہیں ہے۔

سدھیر کمیشن آف انکوائری نے جامع سروے کے بعد رپورٹ پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ مسلم تحفظات کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور بی سی کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ  حکومت کو تحفظات کے حق میں مناسب رہنمائی کرے۔ رکن اسمبلی کھمم پواڑہ اجئے نے مسلم قائدین کے ساتھ کمیشن کو یادداشت پیش کی اور کہا کہ مسلمانوں کی ترقی کیلئے تحفظات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ یونائٹیڈ مسلم فورم کے قائدین مولانا رحیم الدین انصاری، مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ، مولانا صفی احمد مدنی، مفتی معراج الدین ابرار، مولانا سعید الحسینی، مولانا تقی رضا عابدی اور جناب منیر الدین مختار نے کمیشن کو تجویز پیش کی کہ وہ شہر میں سماعت کے بجائے اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کو مسلمانوں سے نمائندگی حاصل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر تشہیر کرنی چاہیئے۔ یونائٹیڈ مسلم فورم نے سدھیر کمیشن آف انکوائری کی سفارشات کے مطابق 12فیصد یا اس سے زائد تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مجلس بچاؤ تحریک کے وفد نے جناب مجید اللہ خاں فرحت کی قیادت میں کمیشن سے نمائندگی کی۔

جناب مجید اللہ خاں فرحت اور جناب امجد اللہ خان خالد سابق کارپوریٹر نے کمیشن کو مشورہ دیا کہ وہ نقائص سے پاک رپورٹ پیش کریں تاکہ مسلم تحفظات پر عمل آوری کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں جامع سروے کے بغیر تحفظات کی فراہمی کے نتیجہ میں عدالتوں سے مخالف تحفظات فیصلے آئے ہیں۔ کمیشن کو اس  مسئلہ پر بطور خاص توجہ دینی چاہیئے۔ حیدرآباد زکوۃ چیاریٹبل ٹرسٹ کی جانب سے جناب غیاث الدین بابو خاں اور ضیاء الدین نیر نے کمیشن کو بتایا کہ ٹرسٹ کی جانب سے 103 اسکولس چلائے جارہے ہیں جن میں طلباء کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سہولتیں ٹرسٹ کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کیلئے تحفظات ضروری ہیں۔ صدر تحریک مسلم شبان جناب محمد مشتاق ملک نے کمیشن کو بتایا کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی 14 فیصد ہے اور 90 فیصد سے زائد مسلمان غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔

انہوں نے مسلمانوں کو کم از کم 8 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ممتاز سماجی کارکن محمد فیروز خان نے کمیشن کے روبرو قانونی نکات پیش کئے اور کہا کہ اس بات کی ضمانت ہونی چاہیئے کہ تحفظات عدالت میں بچ جائیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سدھیر کمیشن نے جب مختلف محکمہ جات سے مسلمانوں کے بارے میں تفصیلات طلب کی تو واحد مسلم وزیر کے محکمہ مال نے تفصیلات روانہ نہیں کی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی کمیشن مشترکہ طور پر مسلم تحفظات کے حق میں سفارش کریں تاکہ مسلمانوں سے انصاف ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان 70 برس سے انصاف کے منتظر ہیں۔ جمعیتہ العلماء کے ریاستی جنرل سکریٹری حافظ خلیق احمد صابر اور ایم اے مجیب ایڈوکیٹ نے کمیشن کو تفصیلی یادداشت پیش کی اور جمعیتہ العلماء کی جانب سے مسلم تحفظات کے حق میں قانونی جدوجہد سے واقف کرایا۔ انہوں  نے کہا کہ عدالتوں کے کئی فیصلے مسلم تحفظات کے حق میں آئے ہیں جن میں ممبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ تعمیر ملت کے کارگذار صدر جناب جلیل احمد ایڈوکیٹ کی قیادت میں وفد نے کمیشن کو اپنی سفارشات حوالے کی۔ محبان تعمیر ملت سے سعادت علی کنوینر، غوث محی الدین مقبول، رشید علی، ایس ایس تنویر۔ مولانا غوث خاموشی ٹرسٹ سے منیر الدین مجاہد، محمد فاروق، شیخ محبوب، خواجہ وہاج الدین، محمد نعیم الدین، انور حسین۔ موؤمنٹ فار پیس اینڈ جسٹس کی جانب سے خواجہ معین الدین، ڈاکٹر احمد نصیر الدین، احمد حمید الدین، سلیم الہندی۔ کانگریس پارٹی اقلیتی سیل کے قائدین شیخ عبداللہ سہیل، محمد غوث سابق کارپوریٹر، نظام الدین، ارشد علی، مولانا آزاد اردو یونیورسٹی، عثمانیہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء، میناریٹیز ڈیولپمنٹ فورم ، فیڈریشن آف میناریٹیز ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس کی جانب سے جناب ظفر جاوید، عید گاہ مینجمنٹ کمیٹی حضور آباد، یوسف گوڑہ مسجد عبداللہ ابن مکتوم کے نابینا صدر سید یداللہ، محبان اولیاء ایجوکیشنل کلچرل اینڈ ویلفیر سوسائٹی سے شیخ حسین بن العمودی، محمد سلیم الدین، ٹی آر ایس قائدین صوفی سلطان شطاری، محمد شبیر احمد، وحید احمد ایڈوکیٹ، میڑچل ملکاجگیری کی طالبات، سلطان العلوم کالج آف لاء کے ملازمین، شیخ فہیم اللہ ایڈوکیٹ عثمانیہ یونیورسٹی، جمعیتہ القریش کے ایم اے قادر، بشیر احمد، محمد منیر قریشی، محمد حکیم الدین سدی پیٹ، مسکین احمد سدی پیٹ، مولانا حامد حسین شطاری، کریم نگر کے ٹی آر ایس اقلیتی قائد اکبر حسین، تلگودیشم قائد علی مسقطی، علی سعید الگتمی، محمد عبدالقادر مسلم لیگ، عبدالستار مجاہد مسلم لیگ، کوہیر جماعت اسلامی کے نائب صدر محمد اکبر فاروق، ایم آر پی سی کوہیر کے محمد ساجد علی، کوہیر کے مجلسی صدر محمد رفیع اور ٹی آر ایس کے منڈل صدر محمد عمر احمد اور مختلف اضلاع کی تنظیم

TOPPOPULARRECENT