Tuesday , May 22 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات کیلئے دہلی کے جنترمنتر پر دھرنا کب کیا جائے گا اور سپریم کورٹ سے کب رجوع ہوں گے

مسلم تحفظات کیلئے دہلی کے جنترمنتر پر دھرنا کب کیا جائے گا اور سپریم کورٹ سے کب رجوع ہوں گے

چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ سے قائد اپوزیشن تلنگانہ کونسل محمد علی شبیر کا استفسار
حیدرآباد۔ 11 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو سے سوال کیا کہ مسلم تحفظات کے لیے وہ دہلی کے جنترمنتر پر کب دھرنا دیں گے اور سپریم کورٹ سے کب رجوع ہوں گے۔ کیوں کہ وزیراعظم نریندر مودی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 50 فیصد کی مقررہ حد پر عمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے نام پر گمراہ کررہی ہے جبکہ مرکزی حکومت نے واضح کردیا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے منظورہ بل پر غور نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعظم نے گجرات میں انتخابی مہم کے دوران پٹیل برادری کو تحفظات سے متعلق کانگریس کے وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ 50 فیصد کی مقررہ حد سے تجاوز نہیں کیا جاسکتا اور کانگریس پارٹی پٹیل برادری کو تحفظات کس طرح فراہم کرے گی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ دراصل وزیراعظم نے مرکز کی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس سے تلنگانہ میں مسلمانوں اور درجہ فہرست قبائل کو اضافی تحفظات کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے بھی واضح کردیا کہ مرکز 50 فیصد کی حد پر قائم ہے۔ وزیراعظم نے دراصل مختار عباس نقوی کے بیان کی توثیق کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے تلنگانہ حکومت کی کوششوں کو مسترد کردیا ہے۔ قائد اپوزیشن نے چیف منسٹر کے اس بیان پر شبہات کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعظم نے مسلم تحفظات کے سلسلہ میں مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ چیف منسٹر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے دعوے کررہے ہیں لیکن مرکز کی پالیسی وزیراعظم کے بیان سے واضح ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اسمبلی میں اعلان کیا کہ اگر مرکزی حکومت تلنگانہ کے تحفظات کو منظوری نہیں دے گی تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گے۔ اس کے علاوہ مختلف علاقائی جماعتوں کے ساتھ دہلی میں جنترمنتر پر دھرنا منظم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اب جبکہ مرکزی حکومت نے تحفظات پر اپنی پالیسی واضح کردی ہے، لہٰذا چیف منسٹر کو اپنے دونوں اعلانات کے بارے میں مسلمانوں سے وضاحت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی وضاحت کے بعد 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ آئندہ انتخابات کے پیش نظر ڈپٹی چیف منسٹر اور ریاستی وزراء ابھی بھی مسلمانوں کو یہ تیقن دے رہے ہیں کہ تحفظات پر بہرصورت عمل آوری ہوگی لیکن کس طرح ہوگی اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے رجوع کرنے سے قبل اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو وہ احکامات جاری کرتے ہوئے عمل آوری کا آغاز کرتی، جس طرح وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے کیا تھا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر خود تحفظات کی فراہمی میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے لہٰذا انہوں نے جان بوجھ کر معاملہ کو مرکز کے حوالے کردیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے مسلمانوں کو تحفظات کے سلسلہ میں خوش کن وعدوں اور اعلانات سے بہلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں تاملناڈو کے تحفظات کا معاملہ بھی زیر التوا ہے۔ دستور کے 9 ویں شیڈول میں تاملناڈو کے تحفظات کو شامل کیا گیا لیکن اس معاملہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ لہٰذا مرکز کسی بھی ریاست کے اضافی تحفظات کو 9 ویں شیڈول میں شامل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں تحفظات کے خلاف عدالتوں نے فیصلہ دیا ہے اور مرکزی حکومت اگر سنجیدہ ہوتی تو اپنی ریاستوں کے تحفظات کو دستور کے 9 ویں شیڈول میں شامل کرتی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو تحفظات کے مسئلہ پر ٹی آر ایس کے دھوکہ میں نہیں رہنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT