Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / مسلم تحفظات کی تنسیخ، بی جے پی کا اصل چہرہ بے نقاب

مسلم تحفظات کی تنسیخ، بی جے پی کا اصل چہرہ بے نقاب

ممبئی ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مسلمانوں کیلئے تحفظات کے مسئلہ پر حکومت کو یکا و تنہا کردینے اپوزیشن کی جانب سے گذشتہ روز دی گئی دھمکی کے بعد آج تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی کے خلاف اپنی تنقید میں شدت پیدا کردی اور کہا کہ اقلیتوں کیلئے تحفظات کے کوٹہ کی تنسیخ کے فیصلہ نے اس پارٹی (بی جے پی) ک

ممبئی ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مسلمانوں کیلئے تحفظات کے مسئلہ پر حکومت کو یکا و تنہا کردینے اپوزیشن کی جانب سے گذشتہ روز دی گئی دھمکی کے بعد آج تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی کے خلاف اپنی تنقید میں شدت پیدا کردی اور کہا کہ اقلیتوں کیلئے تحفظات کے کوٹہ کی تنسیخ کے فیصلہ نے اس پارٹی (بی جے پی) کے اصل فرقہ پرست چہرہ کو بے نقاب کردیا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ مسلم تحفظات پر بی جے پی کے فیصلہ نے ظاہر کردیا ہیکہ وہ ایک ’خفیہ ایجنڈہ‘ پر کام کررہی ہے۔ این سی پی نے کہا کہ بی جے پی اپنے ووٹ بینک کو مستحکم بنانے کیلئے یہ ہتھکنڈہ اختیار کررہی ہے اور بی جے پی قائدین اقلیتی طبقہ کے کل سماجی حقائق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رادھا کرشنا وکھے پاٹل نے کہا کہ ’’مسلم تحفظات سے متعلق فیصلہ جس سے سابق کانگریس حکومت اور بمبئی ہائیکورٹ نے اتفاق کیا تھا۔ اس کی تنسیخ انتہائی بدبختانہ ہے۔ اس فیصلہ نے ان فرقہ پرست طاقتوں کا اصلی چہرہ بے نقاب کردیا ہے جن کی ایماء پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے‘‘۔

وکھے پاٹل نے مزید کہا کہ ’’تحفظات کی تنسیخ کے ذریعہ بی جے پی حکومت نے اپنا خفیہ ایجنڈہ ظاہر کردیا ہے۔ کانگریس ایک طویل عرصہ سے مسلم برادری کیلئے تحفظات پر عمل آوری کیلئے اصرار کررہی تھی کیونکہ عدالت نے اس فیصلہ سے اتفاق کیا ہے اور ہم یقیناً اس مسئلہ کو اسمبلی کے اجلاس میں موضؤع بنائیں گے‘‘۔ این سی پی لیڈر اور مہاراشٹرا کے سابق کابینی وزیر جتیندر اوہاد نے کہا کہ ’’اس فیصلہ کا پیغام بالکل واضح ہیکہ وہ (بی جے پی) اس سارے مسئلہ کو (اکثریتی ووٹوں کی) شیرازہ بندی کیلئے استعمال کررہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ صرف ان ہی لوگوں پر توجہ دیتے ہیں جو انہیں ووٹ دیتے ہیں۔ مسلمانوں میں گذشتہ 60 سال کے دوران کبھی بھی اس فرقہ پرست جماعت کو ووٹ نہیں دیا چنانچہ وہ مسلمانوں کے تلخ سماجی حقائق کو سمجھنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور مسلمانوں کو تحفظات سے محروم رکھنا چاہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’تمام تین اہم کمیٹیوں سچر، رنگاناتھ مشرا اور محمدالرحمن نے اپنی رپورٹوں میں واضح طور پر کہا ہیکہ مسلمانوں کے معاشی، سماجی اور تعلیمی حالات دلتوں سے بھی زیادہ ابتر ہیں۔ ان کے تحفظات کی تنسیخ دراصل ووٹ بینک مستحکم کرنے کیلئے بی جے پی کا ایک سیاسی کھیل ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT