Sunday , August 19 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات کی فراہمی میںناکامی کو چھپانے تیسرے محاذ کا شوشہ

مسلم تحفظات کی فراہمی میںناکامی کو چھپانے تیسرے محاذ کا شوشہ

کانگریس کے بغیر محاذ کی صورت میں بی جے پی کو فائدہ، صدر جمیعتہ علماء حافظ پیر شبیر احمد کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 7 ۔مارچ (سیاست نیوز) مسلم تحفظات اور عوام سے کئے گئے دیگر وعدوں کی تکمیل میں ناکام چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حقیقی مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کیلئے ملک میں تیسرے محاذ کے قیام کا شوشہ چھوڑا ہے۔ جمیعتہ علماء تلنگانہ اور آندھراپردیش کے صدر حافظ پیر شبیر احمد نے کے سی آر کی جانب سے تیسرے محاذ کے قیام کے اعلان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دراصل اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کیلئے قومی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر کانگریس اور غیر بی جے پی محاذ کی تیاری کا اعلان مضحکہ خیز ہے کیونکہ کانگریس پارٹی ملک کی بڑی قومی جماعت ہے اور وہ بی جے پی سے مقابلہ کی اہلیت رکھتی ہے۔ اس پارٹی کو محاذ میں شامل نہ کرنے کا اعلان مضحکہ خیز ہے اور یہ بی جے پی کو درپردہ مدد کرنے کی کوشش ہے۔ حافظ پیر شبیر احمد نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دلت کو چیف منسٹر بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدہ کو فراموش کردیا گیا۔ دلتوں کو چیف منسٹر کا عہدہ تو دور کی بات ہے ، انہیں ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات میں مناسب حصہ داری نہیں دی گئی جس کے سبب دلتوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اقتدار کے 4 ماہ میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن انتخابات سے عین قبل اسمبلی میں بل منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کیا گیا۔ اگر وعدہ کے مطابق اقتدار کے 4 ماہ سے ہی تحفظات کی فراہمی کی جدوجہد کی جاتی تو حکومت کی سنجیدگی کا اظہار ہوتا لیکن کے سی آر کو تحفظات کی فراہمی سے زیادہ مسلمانوں کے ووٹ کی فکر ہے۔ پیر شبیر احمد نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر کے سی آر چھوٹی علاقائی جماعتوں کے ساتھ محاذ قائم کرتے ہیں تو اس سے کرناٹک کے انتخابات پر اثر پڑے گا اور بی جے پی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمیعتہ علماء کی ورکنگ کمیٹی نے سیکولر پارٹیوں کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔ ورکنگ کمیٹی میں حافظ پیر شبیر احمد نے کانگریس پارٹی کی تائید کی تجویز پیش کی اور کہا کہ کانگریس واحد جماعت ہے جو بی جے پی اور دیگر فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ کے سی آر کا کوئی بھروسہ نہیں کہ وہ کب کس پارٹی کے ساتھ چلے جائیں۔ کے سی آر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے تیسرے محاذ کا ڈرامہ کر رہے ہیں تاکہ آئندہ عام انتخابات میں عوام کی ناراضگی سے بچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے مقابلہ آندھراپردیش کے چیف منسٹر اقلیتوں کے حق میں کئی اقدامات کر رہے ہیں ۔ چندرا بابو نائیڈو سیکولر چیف منسٹر ہیں اور انہوں نے این ڈی اے میں شمولیت کے باوجود بی جے پی کے نظریات پر عمل نہیں کیا ۔ ائمہ اور مؤذنین کو علی الترتیب ماہانہ 5000 اور 3000 روپئے اعزازیہ دیا جارہا ہے ۔ آندھراپردیش حکومت مدرسہ بورڈ کے قیام کی تیاری کر رہی ہے، تاہم جمیعتہ علماء نے مدرسہ بورڈ کی مخالفت کی ہے۔ بورڈ میں دینی مدارس کی شمولیت کے بعد اترپردیش کی طرح زعفرانی ایجنڈہ مدارس پر مسلط کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا متبادل کوئی بھی محاذ کانگریس اور کمیونسٹ جماعتوں کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ فرقہ پرست طاقتوں سے مقابلہ کیلئے علاقائی اور قومی سیکولت جماعتوں کو متحد ہونا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT