Thursday , April 26 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات کے سلسلہ میں حکومت کو سدھیر کمیشن کی دوسری رپورٹ

مسلم تحفظات کے سلسلہ میں حکومت کو سدھیر کمیشن کی دوسری رپورٹ

۔7 ریاستوں میں تحفظات کا جائزہ، ملازمتوں اور تعلیم میں مناسب حصہ داری کی سفارش
حیدرآباد۔7۔ فروری (سیاست نیوز) اقلیتوں کی تعلیمی ، معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لینے کیلئے قائم کردہ سدھیر کمیشن آف انکوائری نے حکومت کو اپنی دوسری رپورٹ پیش کردی ہے جس میں مختلف ریاستوں میں پسماندہ طبقات بالخصوص مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کی تفصیلات اور 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کے طریقہ کار کے سلسلہ میں تجاویز پیش کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن نے مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی کے سلسلہ میں حکومت کو تجاویز پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت مسلمانوں کی خوشحالی اور ترقی کے ساتھ ساتھ دیگر طبقات کے مماثل یکساں مواقع فراہم کرنے حکومت کو منصوبہ پیش کیا جائے گا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کمیشن نے اپنی دوسری رپورٹ میں تقریباً 7 ریاستوں میں تحفظات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا ۔ پڑوسی ریاستوں آندھراپردیش ، ٹاملناڈو ، چھتیس گڑھ ، اڈیشہ ، اور کرناٹک کے علاوہ کیرالا اور مغربی بنگال میں تحفظات کی فراہمی کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ مذکورہ 7 ریاستوں میں ٹاملناڈو اور مہاراشٹرا میں تحفظات کا فیصد سپریم کورٹ کی مقررہ حد 50 فیصد سے زائد ہے۔ ٹاملناڈو میں 69 فیصد اور مہاراشٹرا میں 53 فیصد مجموعی تحفظات ہیں جبکہ دیگر ریاستوں میں تحفظات 50 فیصد تک محدود ہیں۔ کیرالا ، ٹاملناڈو ، کرناٹک اور آندھراپردیش میں مسلمانوں کو علحدہ طور پر تحفظات فراہم کئے گئے ہیں جبکہ دیگر ریاستوں میں پسماندہ طبقات کے زمرہ میں اقلیتوں کو شامل کردیا گیا ہے۔ کمیشن نے مسلمانوںکو تحفظات کی فراہمی کے طریقہ کار اور ان ریاستوں میں پیش کی گئی بی سی کمیشنوں کی رپورٹس کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ کمیشن نے گجرات ، راجستھان اور آندھراپردیش میں تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی کوششوں کا جائزہ لیا ۔ آندھراپردیش حکومت نے کاپو طبقہ کو 5 فیصد تحفظات کا اعلان کیا ہے جبکہ راجستھان حکومت گجر طبقہ کو اور گجرات حکومت پٹیل طبقہ کو تحفظات فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ سدھیر کمیشن نے مذکورہ 7 ریاستوں میں تحفظات کے سلسلہ میں پیش کردہ مختلف بی سی کمیشنوں کی رپورٹس کا جائزہ لیا اور ان کی سفارشات کا نوٹ لیا ہے تاکہ تلنگانہ حکومت کو مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کیلئے اضافی تحفظات پر عمل آوری کے سلسلہ میں رہنمائی کی جاسکے۔ کمیشن نے مختلف ریاستوں کے عہدیداروں سے مشاورت کی اور ان سے تفصیلات دستاویزات کی شکل میں حاصل کئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن نے اپنی دوسری رپورٹ میں حکومت کو اضافی تحفظات کے سلسلہ میں بعض تجاویز پیش کی ہے۔ کمیشن نے مسلمانوں اور ایس ٹی طبقہ کو تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی صورت میں پسماندہ طبقات میں امکانی ناراضگی کا بھی جائزہ لیا۔ حکومت کو اندیشہ ہے کہ ریاست کی آبادی کا 55 فیصد پسماندہ طبقات کو اس بات پر ناراضگی ہوسکتی ہے کہ ان کے موجودہ 25 فیصد تحفظات میں کوئی اضافہ کئے بغیر مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو ان کی آبادی کے اعتبار سے تحفظات فراہم کئے جائیں۔ کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ پر حکومت نے ابھی تک کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ دوسری طرف کمیشن کی میعاد میں ایک سال کی مزید توسیع کی گئی اور اس مدت کے دوران کمیشن مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی کے سلسلہ میں تجاویز پیش کرے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن آف انکوائری مسلمانوں کی تعلیمی ترقی اور روزگار میں مواقع فراہم کرنے کیلئے ٹھوس تجاویز پیش کرسکتا ہے۔ حکومت کی سطح پر اسکیمات میں مسلمانوںکو مناسب حصہ داری دی جائے۔ اس کے علاوہ اسکل ڈیولپمنٹ اور چھوٹے کاروبار کے آغاز کیلئے رعایتوں کا اعلان کیا جانا چاہئے۔ مسلمانوں کو صنعتوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کے سلسلہ میں کمیشن تجاویز پیش کرسکتا ہے۔ اقلیتی بہبود کے لئے سالانہ فنڈس کے علاوہ علحدہ سپ پلان کی تجویز کمیشن کے زیر غور ہے۔ کمیشن کے صدرنشین ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر کے علاوہ ارکان پروفیسر عامر اللہ خان ، پروفیسر محمد عبدالشعبان اور ماہر تعلیم محمد عبدالباری مختلف ریاستوں میں اقلیتی بہبود کے بجٹ اور اسکیمات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT