Thursday , May 24 2018
Home / ہندوستان / مسلم تنظیموں سے طلاق ثلاثہ قانون پر تبادلہ خیال نہیں کیا گیا: مرکزی حکومت

مسلم تنظیموں سے طلاق ثلاثہ قانون پر تبادلہ خیال نہیں کیا گیا: مرکزی حکومت

نئی دہلی۔20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مسلم تنظیموں سے حکومت نے مسودہ قانون کی تیاری کے سلسلہ میں کوئی مشورہ نہیں کیا۔ فوری طلاق ثلاثہ کو مجرمانہ کارروائی قرار دیا گیا ہے مرکزی وزیر قانون روی شنکر نے کہا کہ حکومت کو یقین ہے کہ مجوزہ مسودہ قانون صنفی انصاف، صنفی مساوات اور خواتین کے وقار کو یقینی بنائے گا۔ حکومت نے ادعا کیا ہے کہ چوں کہ فوری طلاق ثلاثہ یا طلاق بدعت سپریم کورٹ کے اس کے خلاف فیصلے کے باوجود جاری ہے اس لیے قانون بنانا ضروری ہوگیا تھا۔ اس سوال پر کہ کیا حکومت نے مسودہ قانون تیار کرتے وقت مسلم تنظیموں سے تبادلہ خیال کیا تھا، وزیر مملکت برائے قانون پی پی چودھری نے اپنے تحریری جواب میں منفی جواب دیا۔ ایک علیحدہ تحریری جواب میں پرساد نے کہا تھا کہ حکومت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ صنفی انصاف، صنفی مساوات اور خواتین کے لیے وقار کسی مذہب یا عقیدے سے تعلق نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ چوں کہ سپریم کورٹ نے فوری طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دیا ہے لیکن 66 شوہروں نے اپنی بیویوں کو اسی طریقہ سے طلاق دینے کی اطلاع ملی ہے۔ 15 ڈسمبر کو مرکزی کابینہ نے مسلم خواتین کے حقوق کو برائے شادی قانون یقینی بنانے کی منظوری دے دی۔ نئے قانون کے تحت طلاق ثلاثہ غیر قانونی اور کالعدم ہے۔
اور شوہر کو قید کی سزاء دی جاسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT