Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / مسلم جماعتیں ہمدرد یا ووٹ کٹوا؟

مسلم جماعتیں ہمدرد یا ووٹ کٹوا؟

اترپردیش میں سیمی فائنل اور 2019 ء عام انتخابات فائنل

حیدرآباد۔27مئی (سیاست نیوز) جمہوریت میں تعداد کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور اس تعداد کے حصول کیلئے سیاسی جماعتیں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں اور پھر اپنے انتخابی وعدوں و ترقی کے منصوبوں کو پیش کرتے ہوئے رائے دہندوں کوراغب کرنے کی کوشش کرتی تھیں لیکن2014کے عام انتخابات نے یہ نظریہ تبدیل کردیا اور ملک کا جمہوری نظام سیاسی سازشوں کے محور پر گردش کرنے لگا ہے جہاں رائے دہندوں کو ترقیاتی منصوبوں ‘ کرپشن سے پاک حکمرانی ‘ مساوات اور ہر طبقہ کی یکساں ترقی کے وعدے تو کئے جا رہے ہیں لیکن ان وعدوں پر عوامی اعتماد ختم ہونے کے نتیجہ میں اب ووٹ کے حصول سے زیادہ ووٹ کی تقسیم پر توجہ مبذول کی جا رہی ہے۔ سیاستداں انتخابات میں عوام سے وعدوں کے بجائے ان میں رخنہ ڈالنے کو ترجیح دینے لگے ہیں اور اس رخنہ اندازی کے ذریعہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی جا رہی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ میدان سیاست میں یہ عمل برسہا برس سے کیا جا رہا ہے لیکن ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ کامیابی کا حصول سابق میں حیدرآباد ‘ لکھنؤ ‘ ممبئی اور اتر پردیش و بہار کے بعض پارلیمانی حلقوں تک محدود ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ چلن سیاست میں عام ہو چکا ہے۔ ناگپور میں تیار کردہ یہ سازش اگر اتر پردیش میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ایسی صورت میں 2019 عام انتخابات میں بھی اسی سازش کو عملی جامہ پہنائے جانے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔

2019 عام انتخابات میں ’’ووٹ کٹوا‘‘ سیاسی جماعتوں کو 5ہزار کروڑ تک کی رقومات فراہم کرتے ہوئے انہیں 50سے زائد پارلیمانی نشستوں پرامیدوار میدان میں اتارنے کے لئے کہا جا رہا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر مسلم ووٹ کی تقسیم کے ذریعہ سیکولر طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھا جا سکے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس بات کو محسوس کرنے لگی ہے کہ نریندر مودی کرشمہ مزید نہیں چلے گا اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے کامیا بی کی توقع کر سکتی ہے۔ اسی لئے 2017میں اترپردیش کو آخری تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کئے جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے تاکہ 2019عام انتخابات کی حکمت عملی کو قطعیت دی جا سکے۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات جو 2017میں منعقد ہونے جا رہے ہیں ان میں بھی یہی حکمت عملی اختیار کئے جانے کا اندیشہ ہے۔ 403نشستوں پر مشتمل اتر پردیش اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 20فیصد مسلم ووٹوں کی تقسیم کیلئے ’’ووٹ کٹوا‘‘ مسلم سیاسی جماعتوں کا سہارا لینے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ اب تک اتر پردیش کے جو رجحانات دکھائے جا رہے ہیں وہ بھی مشتبہ ہیں لیکن یہ بات درست ہے کہ مظفر نگر فساد نے اکھلیش یادو سے مسلمانوں کو دور کردیا ہے۔ سماج وادی پارٹی آعظم خان کو مسلم کاز کا چمپئن بنا کر پیش کر رہی ہے

لیکن اس کا کوئی اثر ہوتا نظر نہیں آرہا ہے اور اتر پردیش کے مسلمان مہوجن سماج پارٹی کے ساتھ جاتے نظر آرہے ہیں۔ مسلمانوں کے ان رجحانات کو بھانپتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی عظیم اتحاد کی تشکیل کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے ساتھ ہی اتر پردیش میں مسلم قیادت کے خلاء کو پر کرنے کے نام پر ایسی سیاسی جماعتوں کیلئے راہیں ہموار کی جا رہی ہیں جو فرقہ پرستی کا بیج بوتے ہوئے بی جے پی کے کامیابی کو یقینی بنا سکے۔ مارچ 2016کے رجحانات کے مطابق بہوجن سماج پارٹی کو 185نشستیں حاصل ہونے کا امکان ہے جبکہ دوسرے نمبر پر 120نشستوں کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کو دکھایا جا رہا ہے۔سماج وادی پارٹی جو کہ 228نشستیں حاصل کرتے ہوئے اقتدار پر ہے اسے صرف80نشستیں دکھائی جا رہی ہیں۔بہار اسمبلی انتخابات سے قبل تشکیل پائے عظیم اتحاد میں ملائم سنگھ نے شمولیت اختیار کرنے کے بعد دوری اختیار کرلی تھی جس کی وجہ سی بی آئی بتائی جاتی ہے ۔ اس اعتبار سے اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی ‘ کانگریس و دیگر جماعتوں کا عظیم اتحاد تشکیل پانا دشوار ہے لیکن اگر بہوجن سماج پارٹی 185نشستوں کی خوش فہمی میں عظیم اتحاد تشکیل نہیں دیتی ہے اور ’’ووٹ کٹوا‘‘ اتر پردیش میں داخل ہوتے ہیں تو اس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی 20فیصد مسلم ووٹ کی تقسیم کیلئے نہ صرف مسلم سیاسی جماعت کا استعمال کرے گی بلکہ اپنی ہمنوا مسلم تنظیموں کے ذریعہ دوسروں کے حق میں مسلک کی بنیاد پر ووٹ کے استعمال کی اپیل کرواتے ہوئے مسلم ووٹ تقسیم کروانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اترپردیش کی موجودہ اسمبلی میں 15آزاد و دیگر جماعتوں کے امیدوار ہیں جن کی تعداد میں گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کی پیش قیاسی کی جا رہی ہے۔ موجودہ اسمبلی میں 42نشستیں رکھنے والی بی جے پی کے متعلق یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ اسے 2017انتخابات میں 120نشستیں حاصل ہوں گی وہ کیسے یہ تو حالات بتا رہے ہیں ۔ اتر پردیش میں مسلم سیاسی جماعت کا کام مسلم ووٹ تقسیم کرنا ہو گا جبکہ مسلم ووٹ کو منقسم کرنے کے عمل کے دوران جو تقاریر ہوں گی ان تقاریر کا زبردست فائدہ بی جے پی کو ہوگا چونکہ اشتعال انگیزی اکثریتی ووٹ کو متحد کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے بعض ایسے عناصر کو بھی اتر پردیش میں استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو مسلکی اختلافات کو ہوا دینے میں مہارت رکھتے ہیںاور مذہبی چولوں کی آڑ میں قصر سلطانی کی گنبد پر بسیرا کرنے والے یہ کبوتر ہمیشہ ہی طاقت کے ساتھ رہتے ہوئے گمراہ کن پروپگنڈے میں مصروف ہوتے ۔

TOPPOPULARRECENT