Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلم جنگ پل کے نیچے غیر مجاز قبضے

مسلم جنگ پل کے نیچے غیر مجاز قبضے

حیدرآباد ۔ 28 ۔ اکٹوبر : ( ابوایمل ) : مسلم جنگ پل مختلف کتب کے حوالے سے نظام ششم میر محبوب علی خاں کے دور میں 21 شوال 1318 ھ م 1901 ء کو غالب الملک کی نگرانی میں پل کی تعمیر ہوئی اس وقت مہاراجہ کشن پرشاد مدارالمہام تھے ۔ دوسری کتب کے مطابق نواب غالب الملک نے 19 ذی الحجہ 1311 ھ کو اپنے ذاتی خرچ سے اس کی تعمیر شروع کی اور 21 شوال 1318 ھ کو تعمیر ختم ہوئی ۔ افضل گنج پل کے نمونے پر اس پل کو تعمیر کیا گیا ۔ اعلیحضرت حضور نظام نے 15 محرم 1319 ھ کو شام 5 بجے اس پل کا افتتاح کیا تھا ۔ قارئین آپ قدیم شہر کے کسی بھی راستے سے گذر جائیے تو آپ کو کچھ کہنے بولنے یا بتانے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ بلکہ آپ خود اس بات کو محسوس کریں گے اور اس پر آپ کو افسوس بھی ہوگا کہ ہم تعمیر تو کجا تاریخی عمارتوں کا تحفظ تک نہ کرسکے ۔ خوبصورت عمارتوں سے متصل غیر مجاز قبضوں نے تاریخی عمارتوں کی خوبصورتی کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ شہری عمارتوں کا جائزہ لیتے ہوئے جب آپ شہر کے پلوں سے گذریں گے تو یہ احساس اور بھی بڑھ جائے گا کہ حکام کی غفلت و لاپرواہی کے باعث پلوں کو تک بخشا نہیں جارہا ہے اور ان کے اوپر بھی اور نیچے بھی ناجائز قبضے اور غیر قانونی کام ہورہے ہیں ۔ کسی پل کے نیچے جوئے کے اڈے ہیں تو کسی پل کے زیر سایہ کچھ افراد اپنا مسکن بنائے مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔ اس کی ایک تازہ مثال مسلم جنگ پل کے تاریخی پل کے نیچے غیر مجاز قبضوں کی ہے ۔ اس سے بلدیہ بالکل بے خبر ہے ۔ یقینا اس زون کے بلدیہ کے عہدیدار اس پل سے ضرور گذرتے ہوں گے لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور یہاں محاورہ ’ چراغ تلے اندھیرا ‘ صادق آتا ہے ۔ ایک مخصوص طبقہ پہلے ہی پرانا پل پر مکمل قبضہ کرچکا ہے اور اب مسلم جنگ پل کے نیچے قبضے شروع ہوچکے ہیں ۔ راقم الحروف کے مشاہدہ کے مطابق پرانا پل پر 95 دکانات غیر قانونی طور پر قائم ہوچکے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی پہلوان دکانداروں سے روزانہ 20 تا 50 روپئے کرایہ بھی وصول کرتا ہے ۔ گذشتہ چند دنوں سے مسلم جنگ پل کے نیچے لوگ جھونپڑیاں ڈال کر وہیں مقیم ہیں ۔ آج یہ جھونپڑیاں ہیں جو کل پختہ مکانات میں تبدیل ہوسکتے ہیں ۔ بعض محکمہ جات کے چند رشوت خور عہدیداروں کے باعث ان جھونپڑیوں کو بلدیہ کا نمبر ، راشن کارڈ ، آدھار کارڈ یہاں تک کہ لائٹ کا میٹر حاصل ہوجاتا ہے ۔ بس اس مقام پر قابض رہنے کے لیے یہ ثبوت کافی ہوجاتا ہے ۔ اور انہیں پھر وہاں سے ہٹانا تمام محکمہ جات کے لیے مشکل ہوجاتا ہے لیکن ابھی شروعات ہے ۔ ارباب مجاز فوری حرکت میں آجائیں غیر قانونی پودے کو درخت میں تبدیل ہونے سے قبل ہی کاٹ دیا جاسکتا ہے ۔ آپ اگر اسی تاریخی پل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا اس کے نیچے 21 کمانیں ہیں ۔ اس پل کی لمبائی200 گز چوڑائی 12 گز اور بلندی 14 گز ہے ۔ جہاں پل شروع ہوتا ہے وہاں سنگ بنیاد کی تختی بھی لگی ہوئی ہے وہ بھی شرپسندوں کو کھٹک رہی ہے ۔ تختی پر فارسی میں تمام تفصیلات کندہ ہیں ۔ مسلم جنگ پل سے متصل ایک اور پل تعمیر کیا گیا تھا تاکہ شہر اور خاص طور پر اس علاقہ کی آبادی میں اضافہ کے پیش نظر ٹرافک کے بہاؤ میں سہولت ہو ۔ اس پل کا افتتاح آنجہانی چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے 16 جولائی 2009 ء کو کیا تھا ۔ دونوں پل عوام کے لیے کھلے ہیں اور ٹرافک کو گذرنے میں کافی سہولت و آسانی ہوئی ہے ۔ لیکن پل کے نیچے کیا ہورہا ہے اس سے سب ہی غافل ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر بنیادیں کھوکھلی ہونے لگیں تو عمارت کا وجود خطرہ میں ہوتا ہے لہذا حکام کو چاہئے کہ وہ ان قبضوں کو فوری برخاست کرنے پر توجہ دیں اور پل کی خوبصورتی میں اضافہ کے لیے وہاں چمن یا پارک تعمیر کیے جائیں اس طرح ان کی خوبصورتی کو قائم و دائم رکھنے میں مدد بھی مل سکتی ہے ورنہ سانپ گذرنے کے بعد لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ ۔۔

TOPPOPULARRECENT