Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / مسلم جوڑے کو ’’ اللہ ‘‘ کہنے پر طیارہ سے اتار دیا گیا

مسلم جوڑے کو ’’ اللہ ‘‘ کہنے پر طیارہ سے اتار دیا گیا

عملہ کی شکایت پر پیرس سے سنسناٹی کیلئے اڑان بھرنے سے عین قبل کارروائی
شکاگو 5 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک پاکستانی ۔ امریکی جوڑے نے ادعا کیا ہے کہ اسے پیرس سے سنسناٹی اوہائیو جانے والی پرواز کے اڑان بھرنے سے عین قبل اتار دیا گیا کیونکہ خاتون نے اللہ اکبر کے الفاظ ادا کئے تھے اور اس کے شوہر کو پسینہ آرہا تھا ۔ عملہ کی ایک رکن نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پائلٹ سے شکایت کی تھی ۔ نازیہ اور فیصل علی نے شکایت کی ہے کہ ڈیلٹا ائرلائینس نے اسلامو فوبیا کا شکار ہوتے ہوئے انہیں پیرس سے سنسناٹی جانے والی پرواز سے اتار دیا ۔ 34 سالہ نازیہ کا کہنا ہے کہ اس نے طیارہ میں پہونچنے کے بعد اپنے اسنیکرس نکال دئے ۔ اپنے والدین کو ایس ایم ایس روانہ کیا اور ہیڈ فون لگاتے ہوئے نو گھنٹے طویل پرواز کیلئے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ڈیلٹا ائر لائینس کی ایک رکن نے ان سے اور ان کے شوہر سے رابطہ کیا ۔ ادعا کیا گیا ہے کہ پرواز کے رکن عملہ نے پائلٹ سے شکایت کی تھی کہ وہ اس مسلم جوڑے سے مطمئن نہیں ہے ۔ یہ خاتون سر پر اسکارف باندھے ہوئے تھی اور فون استعمال کر رہی تھی جبکہ اس کے شوہر کو پسینہ آ رہا تھا ۔ فلائیٹ اٹنڈنٹ نے بھی یہ ادعا کیا کہ فیصل علی نے اپنا فون چھپانے کی کوشش کی تھی اور اس نے سنا کہ یہ جوڑا لفظ ’’ اللہ ‘‘ کہہ رہا تھا ۔ پائلٹ نے گراونڈ اسٹاف سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ جب تک اس جوڑے کو اتارا نہیں جاتا وہ پرواز نہیں لے جائیگا ۔ نازیہ نے بتایا کہ وہ لوگ 45 منٹ سے طیارہ میں موجود تھے ۔ گراونڈ ایجنٹ اس تک پہونچا اور اسے اپنے سامان کے ساتھ نیچے اترجانے کو کہا اور کہا کہ وہ اس طیارہ میں سفر نہیں کرسکتے ۔ فرانس کے ایک پولیس عہدیدار نے اس جوڑے سے پوچھ تاچھ کی اور ان کے پیرس میں قیام کے تعلق سے معلومات حاصل کیں۔ یہ جوڑا اپنی شادی کی 10 ویں سالگرہ کیلئے تفریح پر پیرس گیا تھا ۔ پوچھ تاچھ کے بعد پولیس عہدیدار نے کہا کہ اس جوڑے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور وہ ان سے مزید پوچھ تاچھ کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ۔ جوڑے کو پرواز سے اتارے جانے کے بعد مسلم وکالت گروپ نے ڈیلٹا ائرلائینس کے خلاف امریکہ محکمہ ٹرانسپورٹ میں شکایت درج کروائی ہے ۔ ڈیلٹا ائرلائینس نے کہا کہ وہ اپنے مسافرین میں ان کے مذہب ‘ جنس اور رنگ و نسل کی بنیاد پر کوئی بھید بھاؤ نہیں کرتا اور اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT