Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم خاتون کے ساتھ بدسلوکی پر نربھئے ایکٹ کے تحت مقدمہ

مسلم خاتون کے ساتھ بدسلوکی پر نربھئے ایکٹ کے تحت مقدمہ

عوام کے شدید احتجاج پر آندھرائی وزیر کے فرزند کے خلاف کارروائی
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : بنجارہ ہلز پولیس نے سخت احتجاج اور عوام میں بڑھتے غصہ و برہمی کو دیکھتے ہوئے بالآخر آندھرائی وزیر کے فرزند کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔ یاد رہے کہ پولیس نے خواتین کے تحفظ اور پرامن ماحول کو فراہم کرنے کے اپنے وعدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پڑوسی ریاست کے وزیر سے ہمدردی کا مبینہ اظہار کیا تھا اور کارروائی سے گریز کیا تھا ۔ تاہم آج شہر اضلاع اور قومی سطح پر احتجاج اور برہمی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے بالاخر وزیر کے فرزند سشیل کے خلاف نربھئے ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔ اس خصوص میں ڈپٹی کمشنر آف پولیس ویسٹ زون مسٹر وینکٹیشورا نے بتایا کہ سکشن 41 (A) سی آر پی سی کے تحت نوٹس جاری کردی گئیں ہیں ۔ اور بہت جلد کارروائی کا آغاز ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ قبل ازیں دفعہ 509 درج کیا گیا تھا تاہم اب نربھئے ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی ۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ آندھرا پردیش کے وزیر راویلہ کشور کے فرزند راویلہ سشیل کو پولیس بہت جلد گرفتار کرے گی ۔ نوٹس کے جواز میں انہوں نے کہا کہ سات سے زائد عرصہ کی سزاء کے تحت دفعات میں نوٹس دی جانی چاہئے اور پولیس نے نوٹس جاری کی تاہم اگر اس پر کوئی ردعمل وزیر اور ان کے فرزند کی جانب سے ظاہر نہیں کیا جاتا تو پھر پولیس سخت سے سخت کارروائی کرے گی ۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز ایک مسلم خاتون ٹیچر کے ساتھ ریاستی وزیر کے فرزند نے بدسلوکی تھی اور اس خاتون ٹیچر کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا تھا ۔ آندھرا پردیش کے ریاستی وزیر آر کشور کے فرزند آر سشیل کی یہ حرکتیں سی سی ٹی وی کیمروں میں بھی ریکارڈ کی گئیں اور آج میڈیا میں یہ مسئلہ جاری رہا بلکہ قومی میڈیا نے بھی اس مسئلہ کو کافی اہمیت دی تاہم اس دوران حیدرآباد سٹی پولیس کی کارکردگی واضح ہوگی اور عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ آیا پولیس کے دعوؤں میں اور اقدامات میں کافی فرق ہے چونکہ کسی بھی حرکت کے خلاف پولیس سخت کارروائی اور فرینڈلی پولیسنگ کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اثر و رسوخ رکھنے والے افراد اور عام شہریوں کے درمیان خود پولیس کی کارروائی اور اقدامات میں کافی فرق پایا جاتا ہے جب کہ متاثرہ مسلم خاتون ٹیچر نے خود اپنے بیان میں بتایا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی جارہی تھی اور کھلے عام نشہ کی حالت میں دہت ریاستی وزیر کے فرزند نے اسے چھیڑ چھاڑ کی اور اس خاتون کا اغواء کرنے کی کوششیں کی گئی ۔ تاہم پولیس نے اغواء کے معاملہ کو اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی نظر انداز کردیا ۔ پولیس کی عدم کارروائی اور اس واقعہ کے خلاف برہم تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی مقامی کارپوریٹر جی وجئے لکشمی نے پولیس اسٹیشن پہونچکر سخت احتجاج کیا اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ دیگر صورت سخت احتجاج کا انتباہ دیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT