Wednesday , December 12 2018

مسلم خواتین اسلام کے سایہ رحمت میں محفوظ ومطمئن

اسلام کی آمدسے پہلے جہاں انسانیت دم توڑچکی تھی ،کمزورطبقات ظالم انسانوں کے ظلم وجورکی چکی میں پِس رہے تھے،انسانیت نوازی،پیارومحبت،عدل وانصاف ،برابری ومساوات بے معنی ہوکر رہ گئے تھے۔کمزورطبقات میں خواتین کاطبقہ بڑی مظلومیت کا شکارتھا،جاہلی تمدن تو جاہلی تمدن ہی ہے ،غیر مہذب اورتمدن ناآشناقوموں کا ذکرہی کیا، متمدن اورمہذب اقوام کے ہاںبھی عورت کی حیثیت غیر متمدن اورغیر مہذب اقوام سے کچھ مختلف نہیں تھی۔معاشرہ میں ہراعتبارسے وہ انسانی احترام سے محروم رکھی گئی تھی،رومی،یونانی اورمسیحی تہذیب میں کچھ فرق کے ساتھ خواتین کو انفرادی واجتماعی برائیوں کا سرچشمہ خیال کیا جاتاتھا،انسانی اعتبارسے ان کو وہ مقام حاصل نہیں تھا جومردوں کو حاصل تھا، اسلئے سماج میں عورتوں سے متعلق غیرانسانی، غیراخلاقی، غیر معتدل اورغیر متوازن رحجانات فروغ پاچکے تھے۔رکھ رکھاؤاوربرتاؤ میں عورتوں کو اسکا شدید احساس ہواکرتاتھا،ہندو سماج میں بھی خواتین معاشی اورمعاشرتی ہر سطح پربے تحقیری وبے توقیری کے زہر آلودگھونٹ پی رہی تھیں،ہندوسماج میں عورت کی حیثیت ایک داسی (حقیرنوکرانی) اورمردکی حیثیت سوامی اورپتی دیوکی تھی ،ہندومذہب میں پتی دیومالک ومعبود مانا جاتا ہے۔اس غیر انسانی ،غیر اخلاقی اورغیرمنطقی فلسفہ نے اس کو پتی دیوکی چتاپر’’ستی ‘‘ہونے یعنی زندہ جل جانے پر مجبورکردیاتھا،زندگی میںدیگرسارے حقوق اورشوہر کے موت کے بعد زندہ رہنے حق سے بھی اس کو محروم کردیا گیاتھا۔تعلیم اورسائنسی تحقیقات میں ترقی کے باوجوداس کے بچے کچے کچھ اثرات کہیں کہیں ہندوسماج میں آج بھی دیکھے جاتے ہیں۔ اسلام سے قبل دورجاہلیت میں بھی عورت انسانی حیثیت سے ملنے والی شرافت وکرامت سے محروم تھی،عورتوں کے ساتھ ظلم وستم عام تھا،عورت اپنے مال کی مالکہ نہیں ہوسکتی تھی،شوہر ہی کا اس پر حق قائم ہوجاتاتھا،شوہر کی وفات یا طلاق کے بعددوسرے نکاح کی اسکو اجازت نہیں تھی،وراثت میں اس کو حصہ دئیے جانے کا تو کوئی ذکرہی نہیں ،وہ تو حیوانات اوراسباب زندگی کی طرح وراثت میں تقسیم کرلی جاتی تھی۔اسلام آیا تو سارے مظلوم طبقات کیلئے رحمت کا پیغام آگیا ،دبی کچلی ، بے حیثیت وحقیرمانی جانے والی خواتین بھی اسلام کے سایہء رحمت میں معاشرتی سارے حقوق پانے کی مستحق ہوگئیں،اسلام نے ان کو شوہروںکے دل کی ملکہ اورانکے گھروںکی مالکہ بنادیا،وراثت میں اس کا حصہ تسلیم کیا گیا ،ذاتی مال وجائیدادرکھنے کا حق بھی اسے حاصل ہوگیا،وہ بھی ایسا حق کہ جس میں شوہرکی مداخلت کی کوئی راہ نہیں رکھی گئی۔ شادی بیاہ،طلاق وخلع کے صاف وصریح احکامات میں ایسی واضح ہدایات دی گئیں جس میں عورتوں کے حقوق کی بڑی رعایت رکھی گئی،اسلام کی انسانیت نوازتعلیمات نے غیر مسلم مفکرین اوردانا یا ن فرنگ کوبھی متاثرکیا ،ان کویہ اعتراف کرنے پر مجبورہونا پڑا کہ اسلام ہی حقیقی معنی میں ’’حقوق نسواں کا پاسداراورنجات دہندہ ہے‘‘اسکی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔اس وقت طلاق ثلاثہ کا موضوع زیربحث ہے ،طلاق کے احکام اسلام کے اوراحکام کی طرح خاص حالات میں باعث رحمت ہیں،طلاق کا قانون الہی قانون ہے اس میں ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں،مودی سرکارنے جو قانون بنایاہے وہ گویا ایک طرح سے عورتوں کی آزادی کو سلب کرنے والا ہے،مسلم خواتین سے ہمدردی کے فرضی روپ میں بی جے پی حکومت ان کے حقوق پرڈاکہ ڈال رہی ہے ، سیکولرملک ہندوستان میں برادران وطن کی ایک بڑی تعدادانصاف پسند اورانسانیت نواز غیر مسلم بھائیوں کی ہے جوطلاق ثلاثہ بل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسلام اورمسلمانوں کی ترجمانی کا فرض پورا کررہے ہیں۔چنانچہ ایک غیر مسلم انصاف پسندبھائی نے مودی حکومت کی بدعنوانیوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے واٹس اپ پراپنا ویڈیو اپلوڈکیا ہے جس کی تفصیل چہارشنبہ ۱۰؍جنوری ۲۰۱۸؁ء کے روزنامہ سیاست میں شائع ہوچکی ہے،جس میں مسلم اورہندوسماج میں طلاق کے اعدادوشمارکی تفصیل دی گئی ہے ،چنانچہ لکھا ہے’’مسلمانوں میں تین طلاق کے معاملات کئی طرح سے لاگوہوسکتے ہیںجیسے خاندانی یا سماجی اصلاح کاربزرگوں کے سامنے دی جانے والی تین طلاقیں جوتین مہینوں میں تین باردی گئی ہوں ایسے واقعات 36.2 فیصدہیں،قاضی کے روبرو اوردارالقضاء میں پیش آئے واقعات 24.7 فیصد ہیں،عدالت یا نوٹس کے ذریعہ طلاق دئیے گئے واقعات21.1 فیصد ہیں، پنچایت،پولیس اسٹیشن اوراین ۔جی۔اوزکے ذریعہ ہونے والے طلاق کے واقعات 16.9فیصد ہیں۔ایک ہی بارمیں ایک ہی جھٹکے میں تین بارطلاق کہہ کر طلاق دینے کے معاملات صرف0.3فیصد ہیں،ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی 17.2 کروڑ ہے ،ان میں تین طلاق کے معاملات 9.65 لاکھ ہیں،ان میں بھی ایک نشست میں تین طلاق دینے کے معاملات صرف2900ہیں۔ایسی مسلم خواتین جنہیں ان کے شوہروں نے طلاق دئیے بغیر چھوڑے رکھا ہے 2.80 لاکھ ہیں،جبکہ ہندؤں میں ایسی خواتین کی تعدادجن کو انکے شوہروں نے معلق رکھا ہے20 لاکھ سے متجاوز ہے‘‘یہ بھی لکھاہے’’آس پاس میں آپ نظرڈالیں تو کوئی نہ کوئی ایسی ہندوخاتون مل جائے گی جس کو اس کے پتی نے بنا طلاق کے چھوڑدیا ہے، اس دیش کے وزیراعظم نریندرمودی جی کی پتنی جشودہا بین بھی ایک ایسی ہی خاتون ہے جس کے پتی (نریندرمودی جی )نے بنا کسی طلاق کے چھوڑرکھا ہے‘‘اس تفصیل سے ہرگزیہ نتیجہ اخذنہیں کیا جانا چاہیئے کہ مسلم سماج میں طلاق کا تناسب لائق اعتناء نہیں،یہ جو اعدادوشماردئیے گئے ہیں غیر مسلم سماج سے موازنہ میں ضرورکم ہیں لیکن موجودہ مسلم سماج کاسابقہ ادوارسے موازنہ کیا جائے توپھرطلاق کا تناسب زیادہ ہوجائے گا۔مسلمانوں کی سربلندی وسرفرازی اسلام کے پورے احکامات پر عمل کرنے میں ہے،زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی احکامات کا نفاذہو، نکاح وطلاق سے متعلق جوہدایات کتاب وسنت کی روشنی میں دی گئی ہیں اس پر عمل کو اپنے اوپر لازم کرلیں۔نکاح سے پہلے خاص طورپرزوجین کے احکام وحقوق کی تعلیم وتفہیم نہایت ضروری ہے،کامیاب طریقہ پرازدواجی زندگی کونبھاتے ہوئے زندگی گزارنے کی جو ہدایات اسلام نے دی ہیں ان پر عمل کرکے طلاق کے واقعات کو صفردرجہ تک لانے کی کوشش کی جانی چاہئیے، ازدواجی زندگی میں اختلاف رونما ہو توطلاق کی نوبت آنے سے قبل ان ہدایات کوضرورپیش نظر رکھیں جوسورۃ النساء آیات ۳۴،۳۵میں دی گئی ہیں۔اس کوشش کے باوجودمسئلہ سلجھنے نہ پائے اورزوجین کو جدائی اختیارکرکے اپنی راہ الگ الگ تجویز کرلینے میں ہی عافیت معلوم ہوتو پھر سورۃ البقرہ آیات ۲۲۶تا۲۳۲کی تفسیرکا ضرورمطالعہ کریں۔نیزطلاق وعدت کے کچھ ضروری احکام سورۃ الطلاق کے پہلے رکوع میں بیان ہوئے ہیں اس سے بھی روشنی حاصل کریں،ازدواجی احکام وحقوق ،طلاق ،خلع وغیرہ وغیرہ سے متعلق جو ہدایات احادیث مبارکہ میں ملتی ہیں اسکوبھی آنکھوں کا سرمہ بنالیا جائے ،الغرض موجودہ مسلم سماج پراسلامی احکام سے بے اعتنائی خاص طورپرعائلی مسائل میں شرعی احکام کی پاسداری نہ کرکے حد سے تجاوزکرنے کا جوبدنماداغ لگ گیا ہے اسکودورکرنے کیلئے زوجین ایک دوسرے کے حقوق اداکرتے ہوئے صبروبرداشت ، ضبط وتحمل ،عفوودرگزرجیسے اعلی اوصاف کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارتے ہوئے پاکیزہ اسلامی معاشرہ تشکیل دیں۔مسلم سماج میں محسوس کی جانے والی کوتاہیوں کی اصلاح یقینا ضروری ہے، بالخصوص خاندانی نظام کوبکھرنے سے بچانے کیلئے خاندان کے سربراہوں اورملت کے بہی خواہوں کو فکر ودرد کے ساتھ ضروراصلاح حال کی کوشش میں لگے رہنا چاہیئے ،یہ ایک مسلم سماج کا داخلی مسئلہ ہے جس کی اصلاح مشکل یا ناممکن نہیں،لیکن اسکے یہ ہرگزمعنی نہیں کہ حکومت اسکو بہانہ بناکراسلامی احکامات میں مداخلت کا راستہ ہموارکرے،اسلامی قانون ناقابل تغیروتبدل ہے اسکو تبدیل کرنے یا اس میں دخل انداز ہونے کا کسی کو حق نہیں، دستوری اعتبارسے بھی طلاق ثلاثہ بل دستورکے دفعات ۲۵،۲۶؍۱۴۵کی کھلی خلاف ورزی ہے،اسلام اوراسلام کے قوانین واحکام مسلمانوں کی پہچان اورشناخت ہیں ،اس سے مسلمان کسی قیمت پر دستبرارنہیں ہوسکتے،مسلم خواتین اسلام کے سایہ رحمت میں محفوظ ومطمئن ہیں۔البتہ موجود ہ صورتحال میں طلاق ثلاثہ بل کے ناخوشگوارحادثہ سے سبق لیتے ہوئے عام اجتماعات ،ہفتہ واری دروس اورجمعہ کے خطابات میں مسائل نکاح وطلاق وغیرہ سے امت مسلمہ کو واقف کروایا جائے تاکہ ملت اسلامیہ میں احکام شریعت پر عمل آوری کا رجحان فروغ پاسکے۔اور ہمدردی کے روپ میں ملت اسلامیہ کی غفلت اوراحکام اسلامی سے دوری کی وجہ غیروں کو جو اسلام کی پاکیزہ تعلیمات سے چھیڑچھاڑکا موقع فراہم ہورہاہے اس کی روک تھام ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT