Monday , December 18 2017
Home / اداریہ / مسلم خواتین سے ہمدردی

مسلم خواتین سے ہمدردی

ہر رہگذارِ شوق میں جب زندگی چلی
وہ خود نہ مل سکے تو کچھ ان کے ستم ملے
مسلم خواتین سے ہمدردی
مسلمان آج ساری دنیا کے ان سیاستدانوں کیلئے منفعت بخش نام بنا ہوا ہے جو ان کے حوالے سے اپنا سیاسی مستقبل مضبوط بنانے کی سازشوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ ہندوستان کی موجودہ سیاسی قیادت اور اس کے حواریاں مسلمانوں کے دم پر ہی سیاسی سانس لے کر چھوٹے سے بڑے ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں صرف دو ارکان سے اپنا کھاتہ کھولنے والی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ آج اس کو پارلیمنٹ میں غالب اکثریت حاصل ہے اور اس کے خود کی حکمرانی والی 13 ریاستیں ہیں۔ ملک پر حکومت کرنے کے علاوہ وہ 13 چیف منسٹروں کی مالک بھی ہے۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے یہ دعویٰ کیا کہ مسلمانوں نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا ہے لیکن ان کی حکومت نے انہیں مناسب عزت بخشی ہے یعنی وہ یہ کہہ کر درپردہ طور پر احسان جتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مسلمانوں نے ووٹ نہیں دیا ہے تو کیا ہوا اس حکومت میں وہ سانس لینے کے لئے زندہ ضرور ہیں۔ روزگار مل رہا ہے کمپنیوں میں ملازمت کررہے ہیں۔ انہیں ان کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد کسی بھی ملازمت سے برطرف نہیں کیا گیا گویا وہ یہ اشارہ دینا چاہتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان اس حکومت کے رحم و کرم پر ہیں۔ بحیثیت آئی ٹی وزیر انہوں نے کئی مسلم اکثریتی آبادی والے مواضعات کا دورہ کیا ہے جہاں کئی مسلم نوجوان کامن سرویس سنٹر چلا رہے ہیں جو عوام کو انٹرنیٹ کے ذریعہ سرکاری خدمات سے استفادہ کرواتے ہیں۔ یہ ایک مزاحیہ بیان تو ہوسکتا ہے سنجیدہ ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ بی جے پی والوں نے حکومت چلانے کا اختیار تو حاصل کرلیا ہے۔ عوام کے دل جیتنے کا ہنر کھو دیا ہے۔ انہیں ذرا سا اختیار کیا مل گیا وہ خود کو اختیار کل فرعونی طاقت سمجھنے لگے ہیں۔ مسلم خواتین کے لئے تو ان دنوں حکمراں کی ہمدردیاں دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ اس حکومت میں طلاق کے مسئلہ پر سب سے زیادہ کہا اور سنا جارہا ہے۔ یکایک مطلقہ مسلم خواتین سے ہمدردی کا اظہار کرنے کا ایک سیلاب سے امڈ آیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کا جذبہ بلاشبہ مسلم خواتین کے حق میں مثبت ہے۔ ملک میں وہ 3 طلاق کے عمل پر پابندی لگانا چاہتے ہیں۔ بی جے پی قائدین کو ہدایت دی جارہی ہے کہ وہ مسلم خواتین کے حقوق کے لئے لڑیں۔ مسلم پرسنل لا اور شریعت پر عمل کرنے والوں کا ہاتھ پکڑیں۔ بی جے پی قائدین کو یہ ذمہ داری دی گئی ہیکہ وہ ملک بھر میں کانفرنسیں منعقد کریں، ملک بھر میں سفر کرتے ہوئے مسلم خواتین کے لئے مودی حکومت کے موقف سے بیداری پیدا کریں۔ اسی طرح سال 2019ء کے انتخابات تک مسلم خواتین کو بی جے پی کے قریب لانے میں کامیاب ہوجائیں۔ دو ہندوؤں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کے لیڈر مودی مسلم طبقہ کے اندر اصلاحات لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہیکہ مسلمانوں نے مسلم خواتین کو یکساں مواقع سے محروم رکھا ہے۔ جنسی مساوات دستورہند کا بنیادی ڈھانچہ ہے اور پہلی مرتبہ ایک ہندوستانی حکومت نے مسلم خواتین کے حق میں قدم اٹھائے ہیں۔ وزیراعظم مودی اور ان کے آدمیوں نے جس منطق کے ساتھ میدان کو زعفرانی بنانے کی کوشش شروع کی ہے ایسا معلوم ہوتا ہیکہ ملک کے عوام اس حکمراں کی صلاحیت سے ابھی تک ناواقف تھے۔ اس حکمراں کو یہ غیر مرئی طاقت حاصل ہے کہ وہ سونگھ کر جان لیتے ہیں کہ مسلمانوں میں خرابی او رکمزوری کہاں پائی جاتی ہے۔ 3 طلاق کو وہ مسلم بہنوں کے ساتھ ظلم سمجھتے ہیں۔ اگر ان کی حکومت اور وہ واقعی مسلم خواتین سے ہمدردی پیدا کرچکے ہیں تو انہیں اپنے حواریوں اور پارٹی کارکنوں کو یہ بھی ہدایت دینی چاہئے کہ ان کی پارٹی کی حکمرانی والی ریاستوں میں ظلم کا شکار ہونے والی مسلم خواتین کے ساتھ کیا انصاف ہوا ہے۔ گجرات کے مسلم کش فسادات میں فرقہ پرستوں کے ہاتھوں بیوہ ہونے والی مسلم خواتین کو ہنوز انصاف کیوں نہیں مل سکا۔ نروڈا پاٹیہ سے لیکر گلبرگ سوسائٹی ہلاکتوں سے بیوہ ہونے والی خواتین کے لئے اب تک کیا گیا ہے۔ کیا مسلم خواتین کو انصاف دلانے اور طلاق کے چنگل سے آزاد کرانے کا جذبہ رکھنے والی بی جے پی قیادت کو ان مسلم خواتین کی آہیں سنائی نہیں دیتی جنہیں فرقہ پرستوں نے اپنی ظلم وزیادتی کے بعد زندہ جلادیا تھا۔ فسادات میں ہلاک کئے جانے والے سینکڑوں مسلم مرد حضرات کی بیواؤں کے تعلق سے ان کی آنکھوں میں آنسو کیں نہیں آئے۔ گوشت کے نام پر مسلم مرد کو زندہ چیرپھاڑ کردینے کے بعد انکی بیوہ کے مستقبل کے بارے میں خیال کیوں نہیں ستا رہا ہے۔ نفرت کے اسباب پیدا کرکے مسلمانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کی ٹولیوں کو کھلی چھوٹ دے کر ہندوستان بھر میں اپنے لیڈروں کو مسلم خواتین کی ہمدردی حاصل کرنے کی مہم پر چھوڑ دینا کیا واقعی انصاف پسند حکمرانی کا ثبوت ہے۔ اس طرح کے جذباتی خواہشات کے ذریعہ اپنے سیاسی ناپاک ارادوں کو کامیاب بنانے کی کوشش ایک خطرناک عمل ہے اور یہ عمل ایک بڑے نقصان کو دعوت دے سکتا ہے۔
ہندوستانی آئی ٹی صنعت پر منفی اثرات
وزیرفینانس ارون جیٹلی نے اپنے 3 روزہ دورہ امریکہ کے موقع پر امریکی کامرس سکریٹری و لیبر راس سے ملاقات کرکے H-1B ویزا مسئلہ کو اٹھایا۔ امریکی معیشت میںہندوستانی آئی ٹی ماہرین اور آئی ٹی کمپنیوں کا اہم رول رہا ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز کرنے والی ٹرمپ نظم و نسق آئی ٹی شعبہ پر اثرانداز ہونے والے H-1B ویزا قواعد کو سخت ترین بنارہا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایگزیکیٹیو آرڈر کے بعد ہندوستانی کمپنیوں اور ان سے وابستہ آئی ٹی پروفیشنلس کے مستقبل کے بارے میں ظاہر کی جانے والی تشویش کے درمیان اگر وزیرفینانس نے ہندوستان کی جانب سے مؤثر نمائندگی کی ہے تو آنے والے دنوں میں ٹرمپ کے اگزیکیٹیو آرڈر سے ہونے والی منفی تبدیلیوں کو روکنے کیلئے ٹرمپ نظم و نسق کیا اقدامات کرے گا یہ غور طلب ہے۔ ہندوستان ساری دنیا میں آئی ٹی شعبہ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ ہندوستان کی تیسری سب سے بڑی سافٹ ویر سرویس فراہم کرنے والی کمپنی ویپرو نے کارکردگی کی بنیاد پر اپنے سینکڑوں ملازمین کو برطرف کردیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہیکہ ہندوستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی صنعت ان دنوں ایک نازک مرحلہ سے گذر رہی ہے۔ حکومت ہند کو اس سنگینی کا فوری اندازہ کرلینا چاہئے۔ امریکہ میں ہندوستانی آئی ٹی سرویس صنعت کیلئے بڑی مارکٹ ہے جہاں 150 بلین امریکی ڈالر کی آئی ٹی خدمات انجام دی جاتی ہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ویزا قواعد کی وجہ سے بڑی کمپنیاں جیسے ٹاٹا کنسلٹنسی سرویس (ٹی سی ایس) انفوسیز اور ویپرو کو امریکی نظرثانی شدہ ویزا پروگرام سے دھکہ پہنچ سکتا ہے۔ اب آسٹریلیا نے بھی اپنے ویزا پروگرام میں تبدیلی لائی ہے۔ ایک طرف مرکز کی مودی حکومت میک ان انڈیا پالیسی کے ذریعہ عالمی مارکٹوں کے بڑے اداروں کو راغب کرنے میں کامیاب ہونے کا دعویٰ کرتی ہے دوسری طرف امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ملکوں کے حالیہ ویزا پروگرام اعلانات پر غیرمؤثر نمائندگی کررہی ہے۔ ناسکم نے بھی عالمی سطح پر بدلتے حالات کو ہندوستانی معیشت کے لئے خاص کر آئی ٹی صنعت کیلئے تشویشناک قرار دیا ہے۔ تو ایسے میں مذکورہ ملکوں کے حکمرانوں سے اعلیٰ سطح پر مذاکرات کا اہتمام کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT