Wednesday , November 22 2017
Home / ہندوستان / مسلم خواتین میں فتح اور تحفظ کا احساس

مسلم خواتین میں فتح اور تحفظ کا احساس

سپریم کورٹ فیصلہ پر درخواست گذار خواتین کا ردعمل
ملعون تسلیمہ نسرین کو بھی گستاخانہ زہر افشانی کا موقع مل گیا!
نئی دہلی 22 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) طلاق ثلاثہ کی مخالفت کرتے ہوئے انصاف کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے والی مسلم خواتین نے اس رواج کو کالعدم کئے جانے کے تاریخی فیصلہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ فاتح کی حیثیت سے اُبھری ہیں اور اب خود کو محفوظ محسوس کررہی ہیں۔ تاہم بعض درخواست گذار مسلم خواتین کا احساس ہے کہ صرف اس وقت ہی حقیقی فتح ہوگی جب طلاق ثلاثہ کو قابل سزا رواج قرار دینے کے لئے قانون نافذ کیا جائے گا۔ فرح فیض، ذکیہ سمن، نور جہاں نیاز اور آل انڈیا مسلم ویمنس پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو ’ایک عظیم فتح‘ ، ’ایک بڑی راحت‘ یا ’آدھی جیتی ہوئی جنگ‘ قرار دیا ہے۔ فرح فیض نے جو راشٹرا وادی مسلم مہیلا سنگھ کی صدر بھی ہیں کہاکہ ’’عدالت نے حکومت کو قانون وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ہم آدھی جنگ جیت چکے ہیں۔ ہم اُسی وقت حقیقی طور پر فاتح ہوں گے جب اس عمل (طلاق ثلاثہ) کو قابل سزا بنایا جائے گا۔ جب تک کوئی قانون وضع نہیں کیا جاتا خواتین کو کوئی راحت نصیب نہیں ہوگی‘‘۔ بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی نور جہاں نیاز نے اس فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کیا جس کے ذریعہ مسلم خواتین کو ایک راحت ملی ہے۔ بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی معاون بانی ذکیہ سمن نے بھی اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا لیکن کہاکہ خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد جاری رہے گی۔ بنگلہ دیش کی گستاخ و ملعون مصنفہ تسلیمہ نسرین نے بھی انتہائی گستاخانہ اور جاہلانہ انداز میں ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے دین اسلام، قرآن مجید اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT