Wednesday , December 12 2018

مسلم خواتین کے حقوق کے نام پر حکومت کی شریعت میں مداخلت

مسلم خواتین کو اب تحفظ شریعت کیلئے لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا ، طلاق ثلاثہ بل واپس لینے کا مطالبہ

دھولیہ (مہاراشٹرا)۔ 13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مقامی ذمہ داران اور دونوں جمعیت علمائے ہند کے علاوہ مختلف ملی، سماجی، سیاسی تنظیموں کے اشتراک سے اقبال روڈ سے متصل کارپوریشن کی اُردو اسکول کے وسیع و عریض میدان میں تین طلاق کی مخالفت میں خواتین کا زبردست احتجاجی جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ جس کی صدارت ہمیشہ عورتوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی معمر سماجی کارکن سبیلہ آپا نے انجام دی۔ اس موقع پر سماجی کارکن ڈاکٹر عرشین مجاور نے کہا کہ آج کے حالات میں ہمیں احتجاجی جلسہ کی ضرورت کیوں پیش آئی، یہ بات قابل غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین کے حقوق کا جھانسہ دے کر موجودہ حکومت شریعت میں مداخلت کررہی ہے۔ اورنگ آباد سے آئی ہوئی سماجی کارکن شگفتہ سبحانی نے طلاق ثلاثہ، مسلم پرسنل لا بورڈ، مسلم ویمن پروٹیکشن ایکٹ 2018 کے موضوع پر خطاب کیا۔ موصوفہ نے ہر ایک موضوع پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی اور خواتین کو تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ تین طلاق بل خواتین کو تحفظ فراہم نہیں کرتا بلکہ انہیں مشکلات میں ڈالتا ہے۔ یہ بل حکومت نے محض اپنے ووٹروں کو خوش کرنے کیلئے منظور کیا ہے۔ مدرسہ جامعات الذاکرات کی معلمہ سمیہ پروین نے کہا کہ ہم شریعت مطہرہ کا تحفظ، اس پر عمل کرکے ہی کرسکتے ہیں، اگر ہم نے فوراً اسلامی اصولوں کو نہیں اپنایا تو حکومتیں یوں ہی ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کرتی رہیں گی۔ اورنگ آباد سے تعلق رکھنے والی ایک اور سماجی کارکن شبانہ عینی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت ہمارے شرعی معاملات میں مداخلت کرنا بند کردے۔ اگر مسلم خواتین کی اتنی ہی فکر ہے تو ان کی تعلیم کا انتظام کریں۔ صدارتی خطبہ میں کہا کہ مسلم خواتین کو اپنا لائحہ عمل تیار کرنا ضروری ہے۔ آج کے حالات میں اسلامی تعلیمات کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ ہمیں بچوں کی تعلیم و تربیت کی فکر کرنی چاہئے۔ جلسہ کے بعد مسلم خواتین، ڈاکٹرس، وکلائ، سماجی اداروں کی بااثر خواتین کا وفد ضلع کلکٹر کے دفتر پہنچا جہاں طلاق ثلاثہ بل واپس لینے سے متعلق میمورنڈم حوالے کیا گیا جسے ضلع انتظامیہ کے ذریعہ صدرجمہوریہ ہند اور وزیراعظم کو روانہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT