مسلم طلبہ کو آئی اے ایس بنانے کیلئے جناب زاہد علی خاں پُرعزم

دفتر ’سیاست‘ میں خصوصی سیشن میں اہم اعلانات

دفتر ’سیاست‘ میں خصوصی سیشن میں اہم اعلانات
حیدرآباد۔/16جون، ( سیاست نیوز) آج نئی نسل کے لڑکے؍ لڑکیوں کا رجحان صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننے کا ہے جبکہ ایک آئی اے ایس آفیسر کی دستخط سے ایک سو ڈاکٹرس اور انجینئرس کے تبادلے ہوسکتے ہیں۔ آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس کے علاوہ سنٹرل سرویسس کیلئے طالب علم کو اگر اسکول سطح سے تیار کیا جائے تو وہ دن دور نہیں جب ملک کے بچے آئی اے ایس آفیسر بنیں گے۔ ان خیالات کا اظہار جناب زاہد علی خاں نے دفتر ’سیاست‘ کے محبوب حسین جگر ہال میں منعقدہ آئی اے ایس مشن پروگرام کے طلباء و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ یہ سخت مسابقتی امتحان ہوتا ہے، اس میں پہلے مرحلہ کے سیول سروس پریلمنری امتحان میں پانچ لاکھ طلبہ شرکت کرتے ہیں جن میں دوسرے مرحلے کے مین (Main) امتحان کیلئے 12ہزار امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے، پھر آخری مرحلہ انٹرویو کیلئے 1:2 کے تناسب سے طلب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ریکارڈ شاندار ہو تو طالب علم اگر جنرل نالج کو بڑھائیں اور اخبارات کے ساتھ ساتھ میگزین کا مطالعہ کریں تو مسابقتی امتحانات میں بھی اچھا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ حیدرآباد دکن کی تاریخ کے حوالہ سے کہا کہ سکریٹریٹ حیدرآباد میں آزادی کے وقت بے شمار مسلم آئی اے ایس افسران تھے لیکن آج بہ مشکل ایک، دو نظر آتے ہیں۔ اگر طالب علم سیول سروس کے ساتھ اسٹیٹ سروس کمیشن کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرکے ملازمت حاصل کرتا ہے تب بھی اس کو 8سال کے بعد آئی اے ایس پر ترقی ہوتی ہے۔ انہوں نے طلباء و طالبات کے جوش اور تعلیمی مظاہرہ پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے کہا کہ اس میدان میں آئی اے ایس کیلئے طلبہ کی شرکت سے حوصلہ بڑھا ہے۔ ان تمام طلبہ کیلئے مستقل طور پر سیاست سنٹر آف ایکسلینس بنایا گیا ہے جہاں آئی اے ایس، آئی ایف ایس افسران کو مدعو کرتے ہوئے لکچر دیا جائے گا۔ پروگرام کا آغاز قرأت سے ہوا۔ ایم اے حمید کیریئر کونسلر سیاست نے ابتداء میں خیر مقدم کرتے ہوئے پروگرام کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ جو طلباء و طالبات سیاست ٹیالنٹ سرچ کیلئے اور جنرل نالج ( جی کے ) امتحان کے ذریعہ رجسٹریشن کروائے ہیں ان کیلئے خصوصی پروگرامس رکھے جائیں گے اور تمام طلباء و طالبات کو اطلاع دی جائے گی۔ آئی اے ایس کی تیاری کی منصوبہ بندی پر عملی کام مرتب کیا جائے گا۔ اس موقع پر حسن عسکر جرنلسٹ اور علی الگتمی موجود تھے۔ عبدالغفار، محمد جاوید نے معاونت کی۔ ایم اے حمید نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT