Saturday , December 15 2018

مسلم طلبہ کیلئے شخصیت سازی اور عصری تربیت ضروری

گلبرگہ11؍اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز): گلبرگہ شہر کے مسلم تعلیمی اداروں کو معیار تعلیم بلند کرنے کے ساتھ ساتھ با صلاحیت طلباء و طالبات کی تربیت کا اہتمام کرنے ، اُن میں عصری مسابقت کا جذبہ پیدا کرنے اور اُن کی پرسنالٹی ڈیولپمنٹ پر توجہہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اس خیال کا اظہار این آر آئی عبدالسلیم خلیفہ چیرمن و سی ای او حیات ایجوکیشن ٹرسٹ گ

گلبرگہ11؍اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز): گلبرگہ شہر کے مسلم تعلیمی اداروں کو معیار تعلیم بلند کرنے کے ساتھ ساتھ با صلاحیت طلباء و طالبات کی تربیت کا اہتمام کرنے ، اُن میں عصری مسابقت کا جذبہ پیدا کرنے اور اُن کی پرسنالٹی ڈیولپمنٹ پر توجہہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اس خیال کا اظہار این آر آئی عبدالسلیم خلیفہ چیرمن و سی ای او حیات ایجوکیشن ٹرسٹ گلبرگہ نے کیا ۔ وہ آج حیات ایجوکیشن ٹرسٹ گلبرگہ کے زیر اہتمام کے بی این آڈیٹوریم میں منعقدہ پرسنالٹی ڈیولپمنٹ پروگرام میں خصوصی لکچر دے رہے تھے ۔ پروگرام طلبہ و طالبات ، اولیائے طلباء اور ٹیچرس کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ گلبرگہ کے مسلم تعلیمی اداروں کو سربراہوں ، ذمہ داران اور اساتذہ و لکچرارس کو ملی فکر اختیار کرنی چاہئے ۔ اور ملت کے نوجوانوں کو ریاستی ، قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر مختلف شعبہ ہائے حیات میں آگے لانے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے ۔ محمد سلیم خلیفہ نے کہا کہ گلبرگہ کے مسلم تعلیمی اداروں کی توجہہ صرف ڈاکٹرس ، انجینئر پیدا کرنے پر زیادہ مبذول ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم طلبہ و طالبات کو آئی اے ایس، آئی پی ایس اور مختلف فنی و پیشہ وارانہ کورسیس کی تربیت دینے اور ایسے کامیاب مسلم سیاستداں پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو وزیر اعلیٰ، وزیر اعظم ، گورنر اور صدر جمہوریہ ہند جیسے باوقار عہدوں تک رسائی حاصل کر سکیں ۔ محمد سلیم خلیفہ نے سچر کمیٹی کی سفارشات کے حوالے سے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کی 2ہی بڑی وجوہات ہیں ، ایک ان میں باہم اچھے روابط نہیں ہیں، دوسرے وہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہم میں ایثار و قربانی اور ملت کی سربلندی کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔

اُنہوں نے اس بات پر سخت اظہار تاسف کیا کہ ہم اپنے آپ کو صرف اپنی ذات اور خاندان تک محدود رکھے ہوئے ہیں ، جبکہ ملت اور غیر مسلموں کے لئے بھی ہماری بہت ساری ذمہ داریاں ہیں ۔ فوزیہ غفور اسٹنٹ پروفیسر ایم جے انجینئرنگ کالج حیدرآباد نے لکچر دیتے ہوئے طلباء و طالبات کو تلقین کی کہ وہ ہمیشہ سیکھنے کے عمل کو جاری رکھیں اور سخت محنت و جدوجہد کریں ۔ اُنہوں نے کہا کہ کلاسیس میں زیادہ تر طلباء و طالبات جواب کے غلط ہونے کے خوف سے جواب دینے سے کتراتے ہیں ۔ اکثر خود اعتمادی کے فقدان کے سبب یہ ذہنی کیفیت پیدا ہوتی ہے اس سے طلباء و طالبات کو باہر نکلنا چاہئے ورنہ اُن میں کبھی خود اعتمادی پیدا نہیں ہوگی۔ اقراء قریشی ایکسپرٹ و کونسلر پرسنالٹی ڈیولپمنٹ نئی دہلی نے خصوصی لکچر دیتے ہوئے کہا کہ اپنی شخصیت کو سوسائٹی کے لئے قابلِ قبول بنانے ظاہر و باطن کو سنوارنے پر توجہہ دی جانی چاہئے ۔ اُنہوں نے کہا کہ مسلمان پرسنالٹی ڈیولپمنٹ پر بہت کم توجہہ دیتے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے اپنی جو شناخت بنائی تھی آج ہماری شناخت اُس کے بالکل بر عکس ہے ۔ مقامی سطح سے عالمی سطح تک ہماری شناخت محض کھانے پینے سے ہو رہی ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہم اسلامی لباس ضرور پہنیں لیکن ہمیں جاذب نظر دکھائی دینا چاہئے ۔ اُنہوں نے مسابقت کے موجودہ دور میں مسلم طلباء و طالبات کی عصری تربیت اور پرسنالٹی ڈیولپمنٹ کے لئے خصوصی پروگرامس منعقد کرنے پر زور دیا۔محمد یوسف صاحب سیکریٹری کے سی ٹی گلبرگہ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اُنہوں نے پرسنالٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے کامیاب انعقاد پر عبدالسلیم خلیفہ اور اُن کے رفقاء کو مبارکباد پیش کی اور آئندہ اس طرح کے پروگراموں کے لئے ہر ممکن تعاون دینے کا اعلان کیا۔

TOPPOPULARRECENT