Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / مسلم قائدین کی وزیراعظم سے ملاقات

مسلم قائدین کی وزیراعظم سے ملاقات

نئی دہلی۔6اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) مسلم قائدین کے ایک وفد نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور انہیں ملت کے مختلف اندیشوں بشمول نوجوانوں کی بنیاد پرستی میں اضافہ اور دہشت گردی کا ابھرتا ہوا خطرہ شامل ہیں ‘ سے واقف کروایا ۔ بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے خطرے کے رجحان کے بارے میں اندیشے ظاہر کئے ۔ قائدین نے عظ

نئی دہلی۔6اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) مسلم قائدین کے ایک وفد نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور انہیں ملت کے مختلف اندیشوں بشمول نوجوانوں کی بنیاد پرستی میں اضافہ اور دہشت گردی کا ابھرتا ہوا خطرہ شامل ہیں ‘ سے واقف کروایا ۔ بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے خطرے کے رجحان کے بارے میں اندیشے ظاہر کئے ۔ قائدین نے عظیم تر اتحاد اور اس چیلنج سے نمٹنے کی اجتماعی کوشش کی اہمیت پر زور دیا ۔ اس بارے میں جاری کردہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قائدین نے وزیراعظم کو مسلم درگاہوں ‘ مساجد اور مدرسوں کی جائیداد سے متعلق مسائل سے بھی واقف کروایا ۔ مسلم قائدین نے وزیراعظم سے کئی مسائل خاص طور پر تعلیمی محاذ اور مسلم نوجوانوں کیلئے بہتر سہولتوں کے بارے میں بھی مدد طلب کی۔ مسلم قائدین نے اپنے طور پر عہد کیا کہ اُن کی ملت وزیراعظم نریندر مودی اور حکومت سے ان مقاصد کے حصول میں تعاون کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ معاشی ترقی تیز رفتار ہوسکے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کو فروغ دیا جاسکے اور قومی سلامتی کا استحکام یقینی بنایا جاسکے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے وفد کی صبر و تحمل کے ساتھ سماعت کی اور مسلم طبقہ کو حکومت کی تائید کا یقین دلایا ۔ انہوں نے وفد سے کہا کہ مسلمانوں سے متعلق تمام اندیشوں کا ازالہ کیا جائے گا اور مسائل کی یکسوئی کی جائے گی ۔ وزیراعظم نے مسلم نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ تعمیر قوم میں عظیم تر کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے خاص طور پر قائدین کو تیقن دیا کہ وہ درگاہوں ‘ مساجد اور دینی مدرسوں کی شکایات کا جائزہ لیں گے ۔ وزیراعظم نے تیقن دیا کہ وہ مسلمانوں کے سماجی حالات بہتر بنانے میں پوری مدد کریں گے اور اُن کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کریں گے ۔ مسلم قائدین جنہوں نے اس ملاقات میں حصہ لیا ان میں سید سلطان الحسن چشتی مصباحی( اجمیر شریف ) ‘ حضرت غلام یسین صاحب ( وارناسی) ‘ شیخ وسیم اشرفی ( ممبئی ) اور علامہ تسلیم رضا صاحب ( درگاہ بریلوی شریف‘ بریلی اترپردیش) شامل تھے ۔ نریندر مودی حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے اقلیتی طبقوں میں اندیشے پھیلے ہوئے ہیں کیونکہ حکومت کا ہندوتوا حامی ایجنڈہ پُرزور انداز میں چلایا جارہا ہے ۔ گرجا گھروں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ کی وجہ سے حکومت کی شبیہہ بہتر نہیں بن سکی ہے ۔ قبل ازیں مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے امکانات کو مسترد کردیا گیاتھا اور صرف ملت کے مسائل کی یکسوئی پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنے کے بعد اصلاحی اقدامات کی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ اجمیر شریف کے چشتی مصباحی نے اہلسنت وقف پروٹیکشن کونسل کے تمام وقف بورڈس کو وہابیت کے اثر و رسوخ سے آزاد کرانے کیلئے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی خواہش کی ۔ وفد نے وزیراعظم سے کہاکہ وہابیوں کے بڑھتے اثر کو فوری روکا نہ گیا تو ملک میں شام یا عراق جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔ اس دوران دیوان درگاہ اجمیر شریف زین العابدین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حقیقی جانشین ہیں اور وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے وفد میں شریک ہونے والوں کا کوئی تعلق نہیں ۔

TOPPOPULARRECENT