مسلم قیادت احساس کمتری کا شکار

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بین الاقوامی کانفرنس ، شرکاء کا خطاب

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بین الاقوامی کانفرنس ، شرکاء کا خطاب
علی گڑھ ۔ 6 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مسلم دنیا کے قائدین انتہائی احساس کمتری سے دوچار ہیں اور یہ خصوصیت سامراجی دور کی میراث ہے ۔ جسٹس محمد الغزالی (سپریم کورٹ پاکستان ) نے یہ بات کہی ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’’ اُمت مسلمہ کا دانشوارانہ بحران ‘‘ کے زیرعنوان بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس غزالی نے کہاکہ دنیا بھر میں مسلم قیادت اخلاقی اور عقلی ناکامی کے سنگین بحران سے دوچار ہے ۔ یہ ناکامی دراصل سامراجی اختیارات اور اُن کی حکمرانی کو بزدلانہ طورپر تسلیم کرنے کی خصوصیات کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ مسلم دنیا امن کیلئے انسانیت کو دعوت دینے میں بری طرح ناکام رہی جبکہ اسلام امن کا پیامبر ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو غیرمسلموں کے ساتھ تعاون میں اضافہ کرنا چاہئے تاکہ اس دنیا کو امن کا مقام بنانے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ انصاف اور ہم آہنگی کی فضا بحال کرنے میںمدد مل سکے۔ انھوں نے کہاکہ اس کام کی بجائے مسلم قیادت نے خود کو مغربی طاقتوں کے منصوبوں کا آلۂ کار بنالیا۔ پروفیسر اسرار احمد خاں (انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا) نے کہاکہ دنیا بھر کے مسلم طبقہ میں ضرورت اس بات کی ہے کہ دانشوارانہ سوچ کو فروغ دیا جائے ۔ اس معاملے میں تعلیمی ادارے اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی لیفٹننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 21 ویں صدی میں امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان بنیادی طورپر مسلم دنیا میں توانائی کے ذخائر پر کنٹرول کیلئے تھا ۔ اس کے نتیجہ میں سارے مشرق وسطیٰ اور شمالی آفریقہ آگ کی لپیٹ میں آگیا ہے ۔ اگر اس پاگل پن کو فوری روکا نہ گیا تو اموات اور تباہی کا لامتناہی سلسلہ جاری رہے گا ۔ انھوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تمام افکار سے تعلق رکھنے والوں کیلئے کھلا فورم فراہم کرنے تیار ہے تاکہ سب مل بیٹھ کر حساس مسائل پر غور کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT