Monday , August 20 2018
Home / سیاسیات / مسلم قیادت کا فقدان مسائل کی عدم یکسوئی کی اہم وجہ

مسلم قیادت کا فقدان مسائل کی عدم یکسوئی کی اہم وجہ

مسلم لیڈرشپ پیدا کرنے اور سیاسی سرمایہ کاری کی ضرورت
نئی دہلی 22جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مسلم لیڈر شپ کے فقدان کی وجہ سے پورے ملک اور خاص طور پر بہار میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہور ہے ہیں۔ یہ بات سماجی کارکن اور ہیومن چین کے صدر انجینئر محمد اسلم علیگ نے گزشتہ شام طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے وابستہ افراد کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ چند برسوں میں پورے ملک میں بڑے بڑے لیڈروں کا انتقال ہوا ہے اسی طرح لیڈروں کی کھیپ پیدا نہیں ہورہی ہے جس کی وجہ سے علاقائی سطح کے لیڈروں سے لیکر قومی سطح کے لیڈروں کمی محسوس کی جارہی ہے جس کی وجہ سے صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ ان کے مسائل اسمبلی سے لیکر پارلیمنٹ تک اٹھانے والا کوئی نہیں ہے اور مسلمان تمام تر مسائل میں الجھ گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جمہوری ڈھانچے میں قیادت کی اہمیت ہوتی ہے اور جس قیادت میں دم ہوتا ہے وہی مسئلہ حل کراتی ہے اور اس ڈھانچے میں کوئی مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک اس کو اٹھایا نہ اور اس مسئلہ کے حل لئے حکومت پر دباؤ نہ ڈالاجائے ۔انہوں نے کہاکہ قیادت کرنے کوئی آسمان سے نہیں آئے گا بلکہ ہمیں اپنے اندر بہترین قیادت پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن مہاراشٹرکے صدر اور مشہور سماجی کارکن تنویر عالم نے مسلم لیڈر شپ کے حوالے سے کہاکہ مسلم لیڈر شپ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سماج کے اندر سے اور سماج کا پیدا کردہ ہو تاکہ ان پر عوامی مسائل حل کرنے کا دباؤ قائم رہے ۔انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ اس کے لئے ہمیں سیاسی سرمایہ کاری (پولٹیکل انویسٹمنٹ) کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں اچھے اور صاف ستھرے شبیہ والے نوجوان کی کمی نہیں ہے لیکن سب کے پاس پیسے نہیں ہوتے اور ہزاروں خواہشوں کے باوجود وہ اپنی روزی روٹی میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ سماج کے لئے کچھ نہیں کرپاتے ۔ اس لئے ہمیں ان کی مالی مدد اور ان کی روزی روٹی سمیت ان کے تمام جائز ضروریات کا خیال رکھنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT