Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلم قیدیوں کی رہائی کیلئے جمیعۃ العلماء کی کاوشیں کامیاب

مسلم قیدیوں کی رہائی کیلئے جمیعۃ العلماء کی کاوشیں کامیاب

مولانا عبدالقوی کے بعد سید کرمانی گجرات جیل سے رہا ، جمیعت کی قانونی امداد پر اظہار ِ تشکر

مولانا عبدالقوی کے بعد سید کرمانی گجرات جیل سے رہا ، جمیعت کی قانونی امداد پر اظہار ِ تشکر
حیدرآباد ۔ 16 ستمبر (سیاست نیوز) قیدیوں کی رہائی کیلئے اللہ تعالیٰ نے جو احکام جاری کئے، ان کے مطابق جمیعتہ العلماء کی جانب سے بے قصور مسلم نوجوانوں کی رہائی میں قانونی امداد اور معاونت کی جارہی ہے۔ مولانا عبدالقوی کی رہائی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد جمیعتہ العلماء کی جانب سے سید کرمانی کو بھی قانونی امداد فراہم کرتے ہوئے سابرمتی جیل (گجرات) سے رہا کروا لیا گیا اور کرمانی حیدرآباد واپس ہوچکے ہیں۔ پوٹا کے تحت جاری مقدمہ میں ماخوذ سید کرمانی کو گجرات پولیس عہدیداروں نے حیدرآباد ایرپورٹ سے 9 مئی 2014ء کو حراست میں لیتے ہوئے انہیں سابرمتی جیل احمدآباد منتقل کیا تھا جہاں جمیعت کی جانب سے ان کی معقول قانونی پیروی کے ذریعہ ضمانت پر گزشتہ دنوں رہائی عمل میں آئی۔ سید کرمانی کو احمدآباد پولیس نے سازش کے مقدمہ میں ماخوذ کرتے ہوئے انہیں مفرور بتایا تھا لیکن کرمانی گزشتہ کئی برسوں سے بیرون ملک خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان برسوں کے دوران وہ کئی مرتبہ حیدرآباد کا سفر بھی کرچکے ہیں لیکن انہیں کسی طرح سے ہراساں نہیں کیا گیا، مگر گزشتہ مرتبہ جب وہ 9 مئی کو جدہ سے حیدرآباد واپس ہوئے تو انہیں حراست میں لیتے ہوئے سابرمتی جیل منتقل کردیا گیا تھا۔ سید کرمانی کی حیدرآباد واپسی پر افرادِ خاندان نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ جمیعت کی جانب سے بروقت قانونی امداد کی فراہمی کے باعث کرمانی کی رہائی عمل میں آئی ہے۔ کرمانی کی رہائی پر سٹی جمیعت العلماء کے ذمہ داروں نے ان کے مکان پر ملاقات کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ ملاقات کرنے والوں میں مولانا مفتی عبدالرحمن، محمد میاں قاسمی، مولانا حافظ عبدالمحصی کلیم، مولانا قاری یونس علی خاں، مولانا مطیع الرحمن، مفتی مزمل کے علاوہ دیگر شامل تھے۔ سید کرمانی نے اس موقع پر ملاقات کے دوران بتایا کہ انہیں بروقت قانونی امداد حاصل ہونے کے سبب کسی قسم کی دشواریاں نہیں ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کیلئے بیرون ملک روزگار سے جڑے ہوئے تھے لیکن اب انہیں شہر ہی میں رہتے ہوئے کوئی ملازمت اختیار کرنی پڑے گی، چونکہ اس بے بنیاد مقدمہ میں ماخوذ کرتے ہوئے ان کی گرفتاری اور ضمانت پر رہائی کیلئے انہیں اپنا پاسپورٹ احمدآباد کی پوٹا کورٹ جمع کروانا پڑا ہے۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے کئی نوجوان جو احمدآباد پولیس کی جانب سے تیار کئے گئے مقدمہ DCB6 اور پوٹا12 کے تحت گرفتار کئے جاچکے ہیں، جن کی رہائی کیلئے طویل عرصہ درکار ہوا، لیکن سید کرمانی کو بروقت قانونی امداد کی فراہمی اور مناسب پیروی کے باعث اندرون 4 ماہ رہائی عمل میں آئی۔ سید کرمانی سے ملاقات کرنے والوں نے اس موقع پر ان کی گلپوشی کرتے ہوئے بہتر مستقبل کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

TOPPOPULARRECENT