Wednesday , December 12 2018

مسلم لڑکیوں کی غیرمسلم لڑکوں کیساتھ شادیوں میں اضافہ

مدور کے ان واقعات سے والدین میں تشویش ، سخت نگرانی ناگزیر

حیدرآباد۔ 14 ڈسمبر (سیاست نیوز) گزشتہ چند سال سے عصر حاضر کی چند عیاش و ناعاقبت اندیش والدین و بچوں کی رسواء کن حرکات کے باعث قصبے مدور کا نام نہ صرف رسواء ہورہا ہے بلکہ محبان مدور کی ارواح کو بھی تکلیف و موجودہ عوام کا سر شرم سے جھک جارہا ہے۔ تفصیلات کے بموجب گزشتہ 4 سال سے متواتر مدور و چیریال کی بھولی بھالی لڑکیاں مبینہ طور پر ہندو لڑکوں کے دام اُلفت میں گرفتار ہوکر نہ صرف اپنے گھروں سے فرار ہوکر باضابطہ ہندو مذہب قبول کرتے ہوئے ہندو لڑکوں سے شادی رچاکر زندگی گذار رہے ہیں بلکہ اپنے والدین، خاندان و سماج و سارے مسلم معاشرے کی رسواء و ذلت کا سامان بن رہے ہیں۔ کل چیریال ٹاؤن سے ایک 22 سالہ لڑکی نے جوکہ سدی پیٹ کے ایک خانگی دواخانے میں نرسس کا کام کرتی ہے۔ اپنے ہی دواخانے کے ایک غیرمسلم کمپاؤنڈر لڑکے سے محبت کیا کرتی تھی۔ گھر میں والدین کے نام مکتوب لکھ کر کل صبح گھر سے اپنے عاشق کے ہمراہ فرار ہوگئی۔ مکتوب میں مذکورہ لڑکی نے اپنی مرضی و خوشی سے اپنے غیرمسلم عاشق لڑکے سے ویملواڑہ مندر پہنچ کر شادی کرلینے اپنے آبائی و آفاقی مذہب اسلام کو ترک کرنے و ہندو مذہب اختیار کرلینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد چیریال کے مسلم نوجوانوں میں سخت غم و غصہ والدین میں سخت تشویش دیکھی گئی۔ 2 سال قبل بھی چیریال کی ایک مسلم لڑکی نے اپنے بھائی کے ایک غیرمسلم دوست سے ہندو بن کر شادی کی تھی، نیز اب وہ ہندو بچوں کی ماں ہے۔ دو سال قبل مدور میں بھی اسی طرح کا ایک رسواء کن واقعہ رونما ہوا تھا جس میں صرف ایک ہفتہ کی دولہن اپنے نوبیاہتا شوہر و سسرال کو چھوڑ کر اپنے غیرمسلم عاشق کے ساتھ فرار ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں مقامی مسلمانوں کی سخت رسوائی ہوئی تھی۔ بعدازاں کافی تگ و دو مذکورہ لڑکی کو غیرمسلم عاشق کے چنگل سے آزاد کروایا گیا تھا۔ گزشتہ سال موضع گا گلہ پور کے ایک باورچی کی بیٹی نے بھی اپنے غیرمسلم عاشق کے ساتھ ہندو مذہب اختیار کرنے کے بعد ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کرلی۔ وہ آج ایک ہندو لڑکے کی ماں ہے۔ دو ہفتہ قبل مدور کے ایک زمیندار گھرانے کی پوتی نے اچانک گھر سے فرار ہوکر اپنے غیرمسلم ہندو عاشق لڑکے سے مذہب تبدیل کرنے کے بعد شادی کرلی اور اپنی ازدواجی زندگی گذار رہی ہے۔ مدور و چیریال میں مسلم لڑکیوں کی غیرمسلم لڑکوں کے ساتھ ہورہے شادی کے واقعات کو لے کر مقامی مسلم طبقہ میں سخت تشویش و غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مدور اسکول میں جاریہ تعلیمی سال کے دوران زیرتعلیم 7 مسلم طالبات بھی دیگر لڑکوں جن میں 2 غیرمسلم لڑکے بھی شامل ہیں۔ اندھے عشق میں گرفتار ہوکر کسی بھی لمحے اپنے عاشقوں کے ساتھ فرار ہونے کے درپے ہیں، جس کو روکنے کے لئے والدین، اساتذہ کے علاوہ مسلم قائدین و نوجوانوں کو سخت نگرانی و سخت اقدامات کرنا ناگزیر ہوگیا ہے تاکہ مزید رسوائی، ذلت و بدنامی سے بچا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT