Saturday , July 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / مسلم لڑکیوں کے ارتداد کی طرف بڑھتے قدم

مسلم لڑکیوں کے ارتداد کی طرف بڑھتے قدم

اللہ سبحانہ کا ارشادہے ’’مشرک عورتوں سے نکاح نہ کروجب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں،اورایک مومنہ باندی مشرکہ( آزاد)عورت سے بدرجہا بہترہے اگرچہ وہ تم کوپسندخاطرہو،اورمشرک مردوں سے نکاح نہ کروجب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ،ایک غلام جومسلم ہومشرک سے کہیں زیادہ بہترہے اگرچہ وہ تم کو اچھالگے،دراصل یہ لوگ تم کو دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اوراللہ سبحانہ تم کواپنے اذن سے جنت اوربخشش کی طرف بلاتاہے اوراپنے احکام کھول کھول کر بیان کرتاہے تاکہ تم نصیحت کو قبول کرو‘‘ (البقرۃ:۲۲۱)رشتہ نکاح میں ایمان واسلام کی بڑی اہمیت ہے،مسلم اورمسلمہ کا نکاح کسی مشرکہ اورمشرک سے شرعا حرام وناجائزہے اوریہ حکم منصوص ہے اسلئے اسکے حرام وناجائز ہونے میں کوئی کلام نہیں،مشرکہ عورت حسن وجمال میں ،مال ومنال میں اورفضل وکمال میں خواہ کتنی ہی زیادہ بڑھی ہوئی ہوایک مسلمہ خاتون جوبظاہرایسی خوبیوں کی مالکہ نہ ہوتب بھی وہ مشرکہ کے مقابلہ میں افضل واعلی ہے،اوراللہ سبحانہ کے ہاں اسکا مقام ومرتبہ بلندوبالاہے،یہی کچھ مسلمان مردکے بارے میں کہا جاسکتاہے خواہ وہ کمزوراورغریب ہی کیوں نہ ہو۔ایمان کا نورسب سے بڑی دولت ہے ،ساری خوبیاں اورکمالات جودنیوی نقطئہ نظر سے انسانوں کی نگاہوںکو خیرہ کرسکتی ہیں وہ سب کی سب ایمان کے آگے ہیچ اوربے قیمت ہیں،شرک وکفرایک ایسا عیب ہے جوساری خوبیوں کوبے وزن کردیتاہے،اوریہ ایمان وعقیدہ کی بات ہے۔ اس حکم میں ہزاروں ہزارمصلحتیں ہیں جن کی گہرائی میں جانا آسان نہیں ،تاہم یہ بات واضح ہے کہ اعتقادا ت کا تضادکئی ایک خرابیو ںکی بنیادہے،نکاح کاایک فریق توحیدکا پرستار،اسلام وایمان کی نعمت سے سرشار ہواوردوسراہزاروں ہزارباطل خدائوں کا پرستار۔کیا ان دونوں میں ذرہ برابربھی کوئی مناسبت ہوسکتی ہے؟ظاہرہے ازدواجی زندگی کی ایسی کشتی دنیا کی زندگی میں کسی ٹکراؤکا شکارنہ ہوتب بھی اخروی نقطئہ نظرسے وہ کامیابی کے ساحل مرادتک ہرگزنہیں  پہنچ سکتی ۔ایمان واسلام کی راہ حق وصواب پر قائم رہنے والے کسی بھی مسلم یا مسلمہ کا کسی مشرکہ یا مشرک سے ازدواجی رشتے کا قیام ہرگز جائز نہیں،خواہشات نفس کی اسیری میں کی جانے والی زندگی کی یہ بھول ایک مسلمان کو ایمان واسلام کی شاہراہ حق سے ہٹاکرکفروشرک کی وادیوں میں پہنچانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔نکاح سے مقصودنسل انسانی کی بقا اوراسکا تحفظ ضرور ہے لیکن اس سے انسانوں کی بھیڑمیں اضافہ کرناہرگز ہرگزمقصود نہیں ہے بلکہ ایسے انسانوں کوزمین میں بسانا اورپھیلانا خالق کائنات کا منشاء ہے جو اس کی بندگی بجالانے اور اسکے احکامات کی تابعداری کرتے ہوئے نہ صرف زندگی گزارنے والے ہوں بلکہ ایمان واسلام کی نعمت کوسارے انسانوں تک پہنچاکر دنیاکوامن وآمان اورسلامتی کا گہوارہ بنانے اور اللہ کے بندوں کو اللہ کے حضورپہنچاکران کی آخرت کو کامیاب بنانے کی جہد مسلسل میں مصروف عمل رہنے کو زندگی کا ہدف بنا چکے ہوں۔ظاہر ہے حرام نکاحی تعلق سے گمراہ انسانو ں کی پیداوارمیں اضافہ کرنا مقصد تخلیق اور   منشاء الہی کے سخت منافی ہے،رشتہ ازدواج کیلئے اسلام نے ایمان واسلام کے ساتھ دینداری وصالحیت ،تقوی وطہارت کوبنیادی اہمیت دی ہے، یہ بنیادیں دراصل زوجین کے حق میں دین وایمان پر قائم رہنے اورمومنانہ صفات وکردار کے ساتھ زندگی گزارنے میں مددگارثابت ہو تی ہیں ،زوجین جب اس شان کے حامل ہوں گے تو ظاہر ہے ان کی اولاداورنسلیں دیندارانہ مزاج کی حامل ہوں گی۔یہ صرف ایک عورت ومردکا مسئلہ نہیں بلکہ ازدواجی رشتوں میں ان بنیادی امورکا لحاظ ایک دیندارانہ معاشرہ کی تشکیل میں ممدومعاون بنتاہے،کتابیہ عورتوں سے گوکہ نکاح کا جوازثابت ہے
لیکن وہ بھی ایسی کتابیہ عورتوں سے جوعقیدئہ توحیدوآخرت میں اپنی مذہبی کتابوں کی روشنی میں اسلامی نقطئہ نظر کی ہمنواہوں البتہ عقیدئہ تثلیث کی وجہ حقیقی عقیدئہ توحید اورسیدنا محمدرسول اللہ ﷺکی نبوت ورسالت کے انکارکی وجہ عقیدئہ رسالت میں وہ مسلمانوں سے گوکہ متفق نہیںپھربھی کتابیہ عورتوں سے نکاح کے جوازکی وجہ یہ ہے کہ وہ دیگرمشرکہ اورکافرہ عورتوں کے بالمقابل گمراہی میں کم ترہیں۔لیکن اس جوازکے باوجودیہ نکاح ہرگزپسندیدہ نہیں،حکماً نکاح منعقد ہوجائیگا اوراولاد کا نسب باپ سے ثابت ہوگااسکے علاوہ چونکہ اس نکاح میں بہت زیادہ مفاسدہیں اسلئے اسلام اسکو تحسین کی نگاہوں سے نہیں دیکھتا۔ خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے عہد میں عراق وشام کے مسلمانوں سے متعلق کتابیہ عورتوں سے نکاح کی کثرت کے واقعات کی خبریں آنے لگیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسکے مفاسد کے پیش نظر ایسے نکاح کی ممانعت کا فرمان جاری کیا، چونکہ کتابیہ عورتوں سے نکاح کے چلن کا عام ہوجانا دینی اعتبارسے جہاں معاشرہ کونقصان پہنچاسکتاہے اوراسلام کے اعلی مقاصد سے انحراف کی راہ پر ڈال سکتاہے وہیں سیاسی مصالح کی بنیادوں کو متزلزل کر کے مسلم سماج کو کمزور اورکھوکلا کرسکتاہے اسلئے اس پر خیر القرون ہی میں روک لگادی گئی(کتاب الآثار للامام محمدرحمہ اللہ)یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ اہل کتاب کی اکثریت یہودیت وعیسائیت سے بیزار بلکہ کفریات وشرکیات کی نجاست سے آلودہ ،بے دینی والحاد کی دلدادہ ہے۔اس لئے قرآنی آیت پاک(المائدۃ:۵)سے کتابیہ سے نکاح کے جواز کے باوجودایسی عورتوں سے نکاح بھی شرعا حرام ہے۔تعلیم یقینا ضروری ہے ،اسلام نفع بخش علوم کی تحصیل کا حامی ہے،تحصیل علم میں مردوعورت دونوں یکساں ہیں ،بنیادی اسلامی علوم کے ساتھ ضروری عصری نفع بخش علوم کی تحصیل مردوں کی طرح عورتوں کیلئے بھی اہم ہے۔لیکن اسلام تحصیل علم کے عنوان سے غیرت وحمیت کودائوپر لگانے، اسلامی اقدار،اسلامی معاشرت وتہذیب کوداغدارکرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا، لڑکا ہویا لڑکی بالغ ہوجانے کے بعدان کے نکاح کا بندوبست کرنے کی اسلام والدین کوسخت تاکیدکرتاہے۔     حدیث پاک میں واردہے ’’لڑکا یا لڑکی جب بالغ ہوجائیں اورماں باپ ان کے نکاح میں تساہل برتیں جسکی وجہ وہ گناہ کا ارتکاب کرلیں تو اسکا وزرماں باپ کی گردن پر ہوگا‘‘(شعب الایمان للبیہقی:۸۲۹۹)اسلام نے عورتوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل مردوں پر عائد کی ہے ، نکاح تک والد اسکے کفیل ہیں ،نکاح کے بعدشوہراسکا ذمہ دارقراردیا گیاہے،اسلام نے صنف نازک کو خاندان کی کفالت کیلئے کمانے کی محنت وجدوجہد سے بے نیازرکھا ہے۔اسلام کی اس ہدایت سے مقصود اسکی صنفی نزاکت کی رعایت کے ساتھ اسکے اعزازواکرام کو ملحوظ رکھنا ہے، اس میںاسکی عفت وعصمت کی حفاظت کی ضمانت بھی ہے۔موجودہ مسلم معاشرہ اسلام کے ان مصالح سے صرف نظر کرکے مخلوط تعلیم گاہوں اورمخلوط اقتصادی اداروں میں اسلامی حیاء وحجاب کے تقاضوں کو قربان کرکے عورتوں کی تعلیم اوران کی ملازمت کیلئے رضامندہوگیاہے جس کے بڑے بھیانک نتائج سامنے آرہے ہیں ۔اسلام نے جن خطرات کے پیش نظراس پرروک لگائی تھی مسلمانوں نے ان حدود کو پامال کیااورمادیت کے سیلاب میں ایسے بہہ گئے ہیںکہ جسکی وجہ ان کی راہ آخرت کھوٹی ہونے کے ساتھ دنیا میں بھی وہ بے آبروہورہے ہیں    ؎
فسادقلب ونظر ہے فرنگ کی تہذیب کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف
  نکاح میں تاخیر،گھریلودینی تعلیم وتربیت کے فقدان اورغیر اسلامی طرزفکرکی تعلیم گاہوںاوراقتصادی اداروں میں مخلوط نظام کی وجہ ملت کی بیٹیاں اوربہنیں غیر مسلم مردوں سے ناجائز دوستی کا تعلق بڑھارہی ہیں ، دین واسلام کے تقاضوں کو پامال کرکے ارتدادکو گلے لگاتے ہوئے ان کے کیدومکرکا شکارہوکران کے ساتھ منادرمیںشادی رچارہی ہیں۔بکثرت ایسے ناخوشگوارواقعات اخبارات کی زینت بن رہے ہیں ،۵؍ڈسمبرروز جمعہ ۲۰۱۷؁ء کے اخبار ’’سیاست‘‘میں ایک خبر’’مسلم لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادیوں میں اضافہ ‘‘کی سرخی کے ساتھ شائع ہوئی ہے،گزشتہ چارسال سے سدی پیٹ کے قریبی علاقہ مدوروچریال کی بھولی بھالی لڑکیاں ہندولڑکوں کے دام الفت میں گرفتارہوکراپنے گھروں سے راہ فراراختیارکرکے باضابطہ ہندومذہب قبول کرتے ہوئے شادی رچارکرغیر مسلموں کے ساتھ زندگی گزاررہی ہیں۔اس خبرمیں کئی ایک لڑکیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ،اس طرح کے واقعات صرف آندھرا اورتلنگانہ ہی میں نہیں بلکہ کسی ناگہانی مرض کی طرح پورے ملک میں یہ وباء پھیل گئی ہے، بی جے پی،آرایس ایس ،بجرنگ دل ودیگرزعفرانی وسنگھی تنظیموں کی جانب سے لوجہاد کے نام پرملک میں فرقہ وارانہ تعصب ودشمنی کا زہر گھولا جارہاہے،ہندولڑکیوں کی جانب سے تعلیم یافتہ مسلم لڑکوں کواپنی دام محبت کے فریب میں پھنسانے اوراس بہانے ہندولڑکیوں کومالی معاوضہ دلانے کے واقعات کے ساتھ اسلامی اقدارسے بے بہرہ جدید تعلیم یافتہ مسلم لڑکیوں کوہندولڑکوں سے شادیاں رچانے کی ناپاک سازش کا سلسلہ پورے ملک میں جاری وساری ہے۔منادرمیں ہندوانہ مذہبی رنگ ڈھنگ سے شادی کے بعد اسپیشل میریج ایکٹ ۱۹۵۴؁ء دفعہ ۱۵؍کا سہارالیکرباقاعدہ رجسٹریشن کے ساتھ باضابطہ اسکو قانونی شکل دی جارہی ہے۔ اس وقت مسلم سماج میں کئی ایک دینی واسلامی جماعتیں ،اصلاحی تنظیمیں خدمت خلق کے عنوان سے رفاہی ادارے کام کر رہے ہیں ،ان سب کو ملکر ان نا گفتہ بہ واقعات کے تدارک کیلئے اعلی پیمانہ پر مہم چلانا چاہیئے ورنہ یہ بے دینی کا سیلاب بلا  امت مسلمہ کومصائب وآلام کے کس دہانے پر پہنچائے گا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔یہ وقت خواب غفلت میں پڑے رہنے کا نہیں ہے ،ان نا خوشگوارواقعات کی روک تھام کے ساتھ اسکی اصل بنیادوں پرتوجہ کی سخت ضرورت ہے تاکہ آئندہ ملت کو شرمسارکرنے والے واقعات کا اعادہ نہ ہوسکے۔ اگرچہ کہ یہ بات خوش آئندہے کہ غیر مسلم مردوخواتین کی ایک بڑی تعدادمغربی ومشرقی ممالک میں اسلام کے دامن رحمت میں پناہ حاصل کررہی ہے جس میں ہماری کوششوں کا خاص دخل نہیں ہے بلکہ اسلامی مقناطیسیت ان کواسلام سے جوڑرہی ہے، لیکن اپنی ملت کی بیٹیوں کوارتداد،  بے دینی وبے راہ روی سے بچانے میں ہماری ناکامی باعث شرم ہے۔
TOPPOPULARRECENT