Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / مسلم لڑکی کو دہلی میٹرو ٹرین میں داخلہ سے روک دیا گیا

مسلم لڑکی کو دہلی میٹرو ٹرین میں داخلہ سے روک دیا گیا

نئی دہلی 11 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ایک مسلم لڑکی کو دہلی میٹرو ٹرین میں داخل ہونے سے روک دیا گیا حو حجاب پوش تھی۔ صیانتی وجوہات کی بناء پر یہ اقدام حال ہی میں کیا گیا۔ واضح طور پر اُس کے مذہبی عقائد شہر کے دیگر افراد کے لئے خطرناک تھے۔ 6 مئی کو دہلی کی ایک طالبہ حمیرہ خان جو پابندی سے حجاب پہنتی ہیں، میور وہار فیز I میٹرو اسٹیشن پر حفاظتی معائنہ کے لئے روک دی گئی تھی اور اِس کے بعد جو کچھ ہوا اِس سے ملک میں مذہبی رواداری کا اصلی چہرہ سامنے آجاتا ہے۔ حمیرہ خان نے کہاکہ اُسے صیانتی معائنہ کے لئے حجاب علیحدہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی جس کی اُس نے تعمیل کی۔ بعدازاں اُس نے دوبارہ حجاب پہن لیا۔ جبکہ صیانتی خاتون رکن عملہ نے اُس سے کہاکہ ’’اُس کے ساتھ آپ بورڈ نہیں کرسکتے میڈم‘‘۔ حمیرہ خان نے کہا ’’میں نے اُس (صیانتی خاتون) سے کہاکہ وہ کسی سینئر شخص کو بلا لائے جس سے میں بات کرسکوں۔ ایک شخص جو زیادہ بااختیار نظر آتا تھا، آیا ، میں نے کہا ’’سر آپ میرے طالب علم شناختی کارڈ کا معائنہ کرسکتے ہیں، میرا پتہ یہ ہے اور میں میٹرو میں گزشتہ دو سال سے سفر کررہی ہوں۔ مجھے کسی اسٹیشن پر نہیں روکا گیا۔ مجھے وجہ بتایئے اور میں آپ کو مزید پریشان نہیں کروں گی۔ اس شخص نے انتہائی درشت لہجے میں مجھ سے کہاکہ یا تو میں واپس چلی جاؤں یا حجاب اُتار دوں۔ اُس نے کوئی وجہ نہیں بتائی۔ میرے سامنے واپس جانے کے سوائے کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا چنانچہ میں واپس چلی گئی۔ اگر ایسا کوئی قاعدہ موجود ہے تو میں اِس کی مذمت کرتی ہوں۔ میں نے ڈی ایم آر سی میں شکایت درج کروائی ہے۔ اُن کے جواب کی منتظر ہوں۔ اُنھیں مداخلت کرنی چاہئے۔ اُس وقت تک میں آپ تمام سے درخواست کرتی ہوں کہ امن برقرار رکھیں‘‘۔ حمیرہ نے دہلی میٹرو کو کی ہوئی شکایت میں جو کچھ تحریرکیا تھا بتایا۔ یہ بات معمولی نہیں سمجھی جانی چاہئے۔ اُمید ہے کہ ڈی ایم آر سی اُس سے معذرت خواہی کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مذہبی عقائد کی وجہ سے کسی اور کے ساتھ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہونے پائے۔ حمیرہ خان نے کہاکہ حجاب مسلم لڑکی کے لئے ایک مذہبی عقیدہ ہے۔ اگر ایسا کوئی قاعدہ موجود ہے تو اُنھیں مسلم خواتین کو بھی ایسے قاعدے کے تعین کے وقت پیش نظر رکھنا چاہئے تھا۔ اگر وہ میری جیسی لڑکیوں کے لئے قواعد کا تعین شروع کردیں تو ایسی خدمات ہماری رسائی میں نہیں رہیں گی۔ میٹرو ایک سرکاری ٹرانسپورٹ ہے جو ہر شہری کے لئے ہے۔ اگر کوئی صیانتی مسئلہ ہو تو اُنھیں چاہئے کہ صیانتی اقدامات میں اضافہ کردیں۔ ایسے قواعد نہ بنائیں۔ علاوہ ازیں اُنھوں نے پہلے  مجھے حجاب اُتار دینے کے لئے کہا۔ میری مکمل تلاشی لی گئی، اُس کے بعد بھی اُنھوں نے مجھے ٹرین میں داخل ہونے سے روک دیا۔ یہ قطعی ناقابل قبول ہے۔

TOPPOPULARRECENT