Saturday , November 25 2017
Home / ہندوستان / مسلم مرد چار بیویاں رکھ سکتا ہے ‘ خاتون چار شوہر کیوں نہیں ؟

مسلم مرد چار بیویاں رکھ سکتا ہے ‘ خاتون چار شوہر کیوں نہیں ؟

کیرالا ہائیکورٹ کے جج کمال پاشاہ کا سوال ۔ مسلم پرسنل لا میں خواتین سے نا انصافی کا ادعا
کوزی کوڈ 7 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) اگر کوئی مسلم مرد چار بیویاں رکھ سکتا ہے تو مسلم خاتون چار شوہر کیوں نہیں رکھ سکتی ؟ ۔ یہ سوال کیرالا ہائیکورٹ کے ایک جج بی کمال پاشاہ نے ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ یہ سمینار مسلم وومنس فورم نے منعقد کیا تھا ۔ جج کمال پاشاہ نے کہا کہ مناسب زندگی گذارنے کیلئے کسی مرد یا خاتون کو صرف ایک شریک حیات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جج نے کہا کہ مسلم پرسنل لا میں خواتین سے جہیز ‘ طلاق اور وراثت کے مسئلہ پر نا انصافی ہوئی ہے اور یہ ان مسائل پر قرآن کے موقف سے تضاد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تضاد مذہبی قائدین نے پیدا کیا ہے اور اب وہ اس سے فرار حاصل نہیں کرسکتے ۔ انہیں محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا وہ فیصلے دینے کے اہل ہیں یا نہیں۔ جن لوگوں کے تعلق سے فیصلے دئے جاتے ہیں انہیں بھی اس پر سوچنے کی ضرورت ہے ۔ نسا اور پنرجنی چیرٹیبل ٹرسٹ کی جانب سے یہ سمینار منعقد کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ قرآن میں در حقیقت خواتین کو فسخ کے ذریعہ طلاق کا حق دیا گیا ہے لیکن مسلم پرسنل لا میں ایسی اجازت نہیں دی گئی ہے حالانکہ اس میں مسلم مردوں کو طلاق کا اختیار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا میں کچھ خامیاں ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مناسب انداز میں تیار نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں فی الحال سابقہ مثالوں اور محمڈن لا کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں جو ڈی ایف ملا نے تیار کیا تھا ۔ جو کچھ بھی عمل کیا جا رہا ہے وہ مکمل قرآنی آیات کے مطابق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرسنل لا کو قرآن کے مطابق تیار کرنے کی ضرورت ہے جس نے مردوںو خواتین کو مساوی حقوق دئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT