Wednesday , June 20 2018
Home / مذہبی صفحہ / مسلم معاشرہ اورنوجوانوں کاکردار

مسلم معاشرہ اورنوجوانوں کاکردار

نوجوان نسل ملک وملت کا ایک بیش قیمت سرمایہ ہوتی ہے ،ہردورمیں ملک وقوم کے سربراہ، والدین اورملک وملت کے بہی خواہ نسل نوسے بڑی امیدیں وابستہ رکھتے ہیں،عالی اخلاق و کردار کے حامل تعلیم یافتہ، تربیت سے آراستہ نوجوان معاشرہ کودرست وپاکیزہ رکھنے میں نمایاں رول ادا کرتے ہیں۔اسلام کی بالادستی مسلمانوں کی ہر شعبہء حیات میں ترقی اورمسلم نوجوانوں کی اصلاح پر موقوف ہے،صالح نوجوانوں سے کتاب وسنت کے علوم کی اشاعت اوراحیاء اسلام کا خواب شرمندئہ تعبیر ہوسکتاہے،ملت کے نوجوانوں کا راہ راست پرگامزن رہنا ملت اسلامیہ کے ساتھ اوراقوام وملل کی تاریخ میں ایک سنہرہ انقلاب برپاکرسکتاہے۔صحت مندانہ فکری رجحانات کے حامل نوجوانوں کی صلاحیت دریائوں کا رخ موڑسکتی ہے،راہ میں رکاوٹ بننے والی سخت چٹانوں کوپارہ پارہ کرسکتی ہے،ملک وملت کے عروج وزوال کی داستان کائنات کے صفحہ پرنوجوان رقم کرتے ہیں،ان کی راہ یابی ملک وقوم کوعروج بخشتی ہے،گم کردہ راہ نوجوان ملت کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔وہ نوجوان جومقصدتخلیق سے آشنا ہوں وہ اس کرئہ ارض پرخلیفۃ اللہ ہونے کا منصب نبھاتے ہیں، اپنی ،اپنے خاندان اوراپنی ملت کی راہ یابی،ترقی وکامیابی کیلئے فکرمندرہتے ہیں، ایمان پر استقامت ،اعمال صالحہ پر مداومت ،پیغام حق کی اشاعت ان کی زندگی کا نصب العین ہوتا ہے، اسلام کے احکامِ حلال وحرام کی پابندی ان کی عقل وخردکو پاکیزہ رکھتی ہے اور ان کے جسم وجاں کو تندرستی وتوانائی بخشتی ہے،عدل واعتدال ان کا نمایاں وصف ہوتاہے،حدوداللہ کے وہ پاسدارہوتے ہیں، توحید ربانی اوراسلامی افکارکی نورانیت ان کے چہروں کوروشن ومنوررکھتی ہے،کارگاہ حیات میں ایثاروقربانی،پیارومحبت ،صبروبرداشت،عفوودرگزرکے روشن نقوش سے انسانیت نوازی کا پیام دیتے ہیں۔ اسکے برعکس وہ نوجوان جوتعلیم وتربیت سے محروم ،بے راہ روی کے شکار ہیںوہ اپنے خالق ومالک کوناراض کرلیتے ہیں ،شیطان ملعون ضروران سے خوش رہتاہے،چہرے ان کے بے نور، گناہوں کی نحوست سے سیاہ ،ہرطرح کے خیرسے محروم ،ملک وملت کیلئے ناسورثابت ہوتے ہیں۔ قطع رحمی ،کمزوروں پر ظلم ڈھانے،اپنو ں پر رعب جمانے، زوروجبر سے دوسروں کا مال ہڑپنے، خلق خدا کو ایذاء پہنچانے ،بغض وحسد،معمولی معمولی باتوں پرغصہ سے بے قابوہوجانے اورمعصوم جانوں کے قتل وخون سے اپنے ہاتھوں کو رنگین کرلینے جیسی غیر انسانی وغیراسلامی حرکات سے ان کی بے راہ روی آشکارہوجاتی ہے۔چنانچہ۳۰؍مارچ کی اخباری اطلاع کے مطابق ایک مسلم نامرادعاشق نے ۱۸؍سالہ مسلم لڑکی کوآگ میں جھونک دیا،یہ اقدام لڑکی کی شادی کسی اورسے طے پاجانے پرناعاقبت اندیشانہ شدیدغم وغصہ کی حالت میں اس سے سرزد ہوا،جس کی وجہ وہ سترفیصدسے زائدجھلس گئی تھی بالآخراس کی موت واقع ہوگئی، ۴؍اپریل کی ایک اخباری نیوزکے مطابق دومسلم نوجوان ایک خاتون سے چھیڑچھاڑکی پاداش میں گرفتارکرلئے گئے ہیں،ایک اورمسلم نوجوان خواتین کے ساتھ چھیڑچھاڑاورعصمت دری کے واقعات میں ملوث پایا گیا جسکی پاداش میں وہ گرفتار کرلیا گیاہے۔۲؍اپریل سیاست نیوز کی خبرہے کہ منگنی کی تقریب میں دسترخوان پرچکن ڈش کے پہنچنے میں تاخیرپرشراب کے نشہ میں چورنوجوانوں نے ایک ہنگامہ کھڑاکردیا،بالآخرناکردہ جرم کی پاداش میں ایک مسلم نوجوان کواپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا، اور ایک نوجوان کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔۱۰؍اپریل کے اخبارمیں کرایہ کے قاتلوں کی خطرناک چھ رکنی ٹولی (سپاری گینگ)کے گرفتاری کی خبرشائع ہوئی ہے، گرفتارشدگان میں پانچ مسلم نوجوانوں کے نام عمر اورانکے پتہ کی صراحت کے ساتھ شائع ہوئے ہیں۔۱۰؍اپریل سیاست نیوزکے مطابق ایک مسلم خاتون اپنے عاشق کی مددسے شوہرکے قتل کی پاداش میں گرفتارکرلی گئی ہے،اس سنگدل خاتون نے اپنے عاشق اور مزیدپانچ مسلم نوجوانوں کی مددسے منصوبہ بندقتل کی سازش رچی ،مذکورہ خاتون اوراسکے عاشق نے اس کام کیلئے دولاکھ روپیہ قاتلوں کے حوالے کئے ،پھرایس آرنگرپولیس اسٹیشن میںشوہرکی گمشدگی کی شکایت درج کروائی،بالآخرسارے افرادگرفتارکرلئے گئے ہیں، گرفتاری کے بعدتمام ملزمین نے اپنے جرم کا اقرارکرلیاہے۔ اس طرح کے پردردوپرسوز واقعات تقریباً روزہی اخبارات کی زینت بنتے ہیں جو دعوت غوروفکردے رہے ہیں ۔ ماں باپ کی دین سے دوری اورغفلت اسکی بہت بڑی وجہ ہے،والدین کی دین پر استقامت ،فکرآخرت اولادپراچھے اثرات مرتب کرتی ہے،ظاہری رکھ رکھائو،گھربارکی آرائش اور اپنی زیبائش کی دلچسپیوں نے باطن کی اصلاح اوراس کو نکھارنے وسنوارنے کی فکرسے یکسرغافل کردیاہے۔ لباس تقوی یعنی ایمان ، اعمال صالحہ ،خشیت الہی اورخوف آخرت ظاہری لباس کے پرکشش ہونے سے کہیں زیادہ اہم ہے، ظاہری بیش قیمت لباس ۔لباس تقوی کے روحانی ونوارنی حسن کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔کسی عربی شاعرنے بڑی پیاری بات کہی ہے جسکا مفہوم یہ ہے’’لباس تقوی سے عاری ظاہری بیش قیمت لباس زیب تن کرنے کے باوجود عریاں ہے،اطاعت الہی سب سے بہترین لباس ہے،رب کی نافرمانی خیرسے محرومی کا باعث ہے‘‘ایمان والوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقدوربھراللہ سے ڈریں،اورتادم زیست ایمان واسلام پرقائم رہتے ہوئے اللہ سبحانہ کے دربارمیں پہنچنے کی مخلصانہ سعی وجہدمیں مصروف رہیں۔سورئہ تحریم آیت ۶میں ایمان والو ں کوایک اہم فریضہ کی یاددہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنے گھروالوں کی اصلاح کی فکرکریں،اسلامی تعلیم وتربیت سے خودکواوراپنے گھروالوں کوآراستہ کریں تاکہ جہنم کا ایندھن بننے سے خودبچ سکیں اورگھروالوں کو بچاسکیں ۔اس آیت پاک کوسن کرحضرت عمررضی اللہ عنہ نے عرض کیا !اے اللہ کے رسول (ﷺ)اپنے آپ کوجہنم سے بچانے کا مفہوم تو سمجھ میں آگیا ہے لیکن اہل وعیال کوکیسے بچایا جاسکتاہے ؟آپ ﷺ نے ارشادفرمایا:اللہ سبحانہ نے جن چیزوں سے تمہیں منع کیا ہے تم اپنے گھروالوں کوبھی ان سے روکواورجن کوبجالانے کا اس نے حکم دیاہے ا ن کو بجالانے کا گھروالوں کو پابند بنائو۔ (القرطبی ۱۸؍۱۶۹)والدین کی اسلامی طرززندگی ،انکا رکھ رکھائو اوربرتائو اولادکو ایک خاموش پیغام دیتا ہے، بچے اپنے ماں باپ سے بہت کچھ سیکھتے ہیں،زندگی کے ہرموڑپروالدین ،اساتذہ ،خاندان اورسماج کے بڑے بزرگ اپنی زندگی کی پاکیزگی،کردارکی بلندی اورموقع ومحل کی مناسبت سے پندونصائح کے ذریعہ بچوں کے مشفق معلم ومربی ہونے کا فرض نبھاسکتے ہیں۔مادیت کے غلبہ اوردین سے برائے نام ،رشتہ وتعلق نے مسلم سماج کوغیرانسانی وغیراخلاقی احوال کی آماجگاہ بنادیاہے،مسلم سماج کوجرائم سے پاک کرنے میں اسلامی ڈھنگ سے تعلیم وتربیت کا بڑارول ہے۔ والدین کی خود اسلامی تربیت سے آراستگی اوراپنی اولاد کو اسلامی تربیت سے آراستہ کرنے کی سعی وتڑپ اچھے نتائج وثمرات سے بہرہ مندکر سکتی ہے،اس لئے حدیث پاک میں واردہے ’’کسی والدکا اپنی اولادکوحسن ادب سے آراستہ کرنے سے بڑھ کرکوئی تحفہ نہیں؟(ترمذی:۱؍۳۵۴)ایک اورحدیث پاک میں واردہے’’اپنی اولادکوادب واخلاق سکھلانا ،روزانہ نصف صاع اناج مساکین پر صدقہ کرنے سے افضل ہے‘‘(ترمذی:۱۹۵۱)ایک اورحدیث پاک میں ہے’’اپنی اولادکا اکرام کرواوران کواچھے اخلاق سے مزین کرو‘‘(ابن ماجہ:۳۶۶۱)بسااوقات ماں باپ نیک ہوتے ہیں لیکن اولاد کی تربیت سے غفلت ان کے لئے سوہان روح ثابت ہوسکتی ہے۔ اولاد کی اسلامی نقطئہ نظر سے تربیت ، ان کو نیکی وپارسائی کی راہ پر لے چلنے کی جدوجہد اوردینی نہج سے شب وروز انکی پرورش وپرداخت والدین کی آنکھوں کوٹھنڈی رکھ سکتی ہے، ایسی اولاددنیا میں نیک نام ہونے کے ساتھ والدین کیلئے سرمایہ افتخار اور آخرت کی زندگی میں قیمتی اثاثہ ثابت ہوسکتی ہے۔اس لئے ماں باپ کوچاہیئے کہ وہ اپنے خالق کی محبت اوراسکے تقاضوں کی ادائیگی ،اسکی مخلوق سے پیارکی خوشبواپنے کردارسے بکھیرکر اپنے بچوں کے جسم وجان ،دل ودماغ اوران کی سانسوں میں تک اسکو بسادیں۔ اولادبہت بڑی نعمت ہے ،گھرکے آنگن میں جب یہ پھول نہیں کھلتے تو ایسے گھرکا چمن بے رونق لگتاہے ،چمن کا حسن جیسے پھولوں کے نت نئے رنگوں اورانکی جداگانہ خوشبوں سے ہویدا(عیاں)ہے ویسے ہی گھر کا چمنستان اولادکی نعمت سے رونق فزابنتاہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ اولاد عمدہ اسلامی تربیت کے نتیجہ میں اعلی اسلامی افکارواقداراو ر محاسن اخلاق کی خوشبوبکھیرنے کی قابل بنے،اللہ سبحانہ کی ذات وصفات کی معرفت اوراس کو راضی وخوش رکھنے کی فکروسعی کے ساتھ خلق خداکے حقوق کی ادائیگی سے ان کو خوش رکھنے کی کوشش وجدوجہدجیسے اعمال میں وہ روحانی خوشبورچی بسی ہے جوانسانی سماج کی روحانی مشام جاں کومعطررکھتی ہے۔معصوم بچے سادہ کاغذکے مانندہوتے ہیں اس پرآپ جوکچھ اعلی دینی تعلیم وعمدہ اسلامی تربیت کے نقوش تحریرکردیں ’’العلم فی الصغرکالنقش فی الحجر‘‘کے مانندان کے قلوب میں وہ منقوش وراسخ ہوں گے۔اولادگویا ایک طرح سے امتحان کا پرچہ ہے،اس کواسلامی احکام کی روشنی میں حل کرلیا جائے تو اس میں دنیا وآخرت کی کامیابی کا رازمضمرہے۔ارشادباری ہے’’بے شک تمہارے مال وتمہاری اولاد میں آزمائش ہے،اوراللہ ہی ہے جس کے پاس اجرعظیم ہے‘‘( التغابن:۱۵)اولادکو صحیح طورپرجوہر علم سے مزین کرنا ،عمدہ تربیت سے آراستہ کرنا،انسانیت کی اعلی قدروں سے متصف کرنا اوراعلی اسلامی اخلاق کا ان کو پیکرجمیل بنانے کی سعی وجہدکرنا والدین کو امتحان وآزمائش کے پرچہ میں کامیاب کرسکتاہے۔ اس نازک وحساس مسئلہ پر والدین کے ساتھ مسلم اصلاحی تنظیموں، علماء وقائدین اوردانشوران ملت کوفکرمندہونے کے ساتھ عملی اقدامات بروئے کارلانے کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے،تاکہ نسل نوکوغیراسلامی وغیر انسانی افکاروعادات سے بچایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT