Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلم معاشرہ میں اسراف پر اظہار تشویش ، سادگی سے شادی کرنے پر زور

مسلم معاشرہ میں اسراف پر اظہار تشویش ، سادگی سے شادی کرنے پر زور

حیدرآباد ۔ /8 فبروری (دکن نیوز) شیعہ برادری کے لڑکے و لڑکیوں کی شادیوں کے سلسلہ میں موزوں رشتوں کے انتخاب کے لئے ریاست میں ادارہ سیاست اور میناریٹیز ڈیولپمنٹ فورم کی جانب سے پہلی بار دوبدو ملاقات پروگرام عاشور خانہ نواب حسینیہ عنایت جنگ بہادر ، منڈی میرعالم میں منعقد ہوا ۔ جس میں تقریباً 2000 والدین و سرپرستوں نے شرکت کی ۔ شہر کے مختل

حیدرآباد ۔ /8 فبروری (دکن نیوز) شیعہ برادری کے لڑکے و لڑکیوں کی شادیوں کے سلسلہ میں موزوں رشتوں کے انتخاب کے لئے ریاست میں ادارہ سیاست اور میناریٹیز ڈیولپمنٹ فورم کی جانب سے پہلی بار دوبدو ملاقات پروگرام عاشور خانہ نواب حسینیہ عنایت جنگ بہادر ، منڈی میرعالم میں منعقد ہوا ۔ جس میں تقریباً 2000 والدین و سرپرستوں نے شرکت کی ۔ شہر کے مختلف علاقوں کے علاوہ اضلاع سے بھی والدین کی بڑی تعداد پروگرام میں شریک تھی ۔ اس موقع پر منعقدہ جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے مہمان خصوصی علامہ سید علی مرتضی نے کہا کہ شادی بیاہ کا مقصد لڑکا اور لڑکی کو رشتہ ازدواج میں منسلک کرنا ہی نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان باہمی محبت اور تعلقات کو استوار کرنا ہے ۔ ہمارے اسلاف نے شادیوں میں آسانیاں پیدا کی تھیں اور ان کی حیثیت کے مطابق مہمان نوازی کی جن میں اخلاص ، محبت اور سادگی کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ۔ اس لئے ماضی کی شادیاں کامیاب رہیں اور خاندانوںمیں خوشگوار تعلقات برقرار رہے ۔ ان اعلیٰ روایات کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ادارہ سیاست و ایم ڈی ایف کی کاوشوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ۔ ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے صدارت کی۔ علامہ اعجاز فرخ نے کہا کہ علماء کرام کا فریضہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو جہیز لینے اور دینے کی لعنت سے روکیں ، افسوس کی بات ہے کہ ہمارے علماء اس برائی پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ بلکہ اس طرح کی دعوتوں میں شرکت کرکے مسلم معاشرہ کو نامناسب پیام دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ سیاست نے تعلیم ، روزگار ، صحت اور اصلاح معاشرہ کے محازوں پر کام کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور اس میں انہیں نمایاں کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں ۔ چنانچہ دوبدو پروگرام ، اصلاح معاشرہ کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ انہوں نے موجودہ مسلم معاشرہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بچیوں کی شادیوں پر لاکھوں روپئے خرچ کررہے ہیں ۔ مہنگے شادی خانوں میں تقاریب کا اہتمام کرکے ہم معاشرہ میں عدم توازن پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں ۔ ان حالات کے باعث ہماری لڑکیاں سہاگ کی نعمت سے محروم ہیں ۔ اب سیاست کی کوششوں سے کئی خاندانوں میں روشنی کی کرن جگمگا اٹھی ہے ۔ جس سے کئی لڑکیوں کے قسمت کھل جائے گی ۔ نواب سید اصغر حسین (اصغر نواب) مہمان خصوصی نے کہا کہ رشتوں کے انتخاب میں اسلامی اصولوں کو معیار بنائیں۔ مولانا شان حیدر نے کہا کہ آج ہمارے معاشرہ میں حرص و ہوس اور دولت حاصل کرنے کا رجحان بہت زیادہ ہوگیا ہے ۔ چنانچہ شادی بیاہ کے معاملات میں تجارتی انداز اختیار کیا جارہا ہے ۔ ظہیر الدین علی خان نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ پہلی بار شیعہ لڑکوں و لڑکیوں کیلئے یہ پروگرام رکھا گیا ہے ، چنانچہ آج کے پروگرام میں لڑکیوں کے 95 اور لڑکوں کے 43 رجسٹریشن کروائے گئے۔ (

TOPPOPULARRECENT