Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / مسلم ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں پر پابندی کا امکان

مسلم ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں پر پابندی کا امکان

شام ، سوڈان ، عراق ، ایران ، لیبیاء ، صومالیہ اور یمن سے تعلق رکھنے والوں کا امریکہ میں داخلہ ممنوع

ٹرمپ نئی امیگریشن پالیسی پر دستخط کریں گے

واشنگٹن ۔25 جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ اب امیگریشن پالیسی کے تئیں بیحد سنجیدہ نظر آرہے ہیں اور عمل آوری کے لئے بھی بے چین ہیں جس میں سب سے پہلا کام یہ ہوگا کہ سرحدوں پر سکیورٹی کو بہت زیادہ سخت کردیا جائے گا جس میں اُن کی وہ مجوزہ دیوار کی تعمیر اور یو ایس ۔ میکسیکو سرحد پر نقائص سے پاک سکیورٹی نظام بھی شامل ہے ۔ٹرمپ انتظامیہ کے دو اہم افسران نے یہ بات بتائی ۔ انھوں نے کہاکہ ٹرمپ اس کے علاوہ مقامی امیگریشن پالیسیوں پر بھی نظرثانی کریں گے اور ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ میں اب دیگر ممالک (خصوصی طورپر مسلم ممالک ) سے پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ بالکل روک دیا جائے گا جبکہ ایک عہدیدار نے تو یہ تک کہہ دیا کہ امیگریشن کی نئی پالیسیوں پر کچھ ہی دنوں کے اندر ہی عمل شروع ہوجائیگا۔ مذکورہ عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر یہ بات بتائی کیونکہ اُن کا استدلال ہے کہ اب تک سرکاری طورپر ایسا کوئی اعلان نہیں ہوا لہذا اُن کے بیان کو مصدقہ تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ صدر موصوف ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ کے دورہ کے دوران توقع ہیکہ نئی پالیسی پر دستخط کریں گے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہمات کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی امیگریشن پالیسی کومزید سخت کریں گے جس میں سرحدی سکیورٹی اور پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ روکا جائے گا ۔ یہی نہیں بلکہ خصوصی طورپر مسلم ممالک جیسے شام ، سوڈان ، عراق ، ایران ، لیبیاء ، صومالیہ اور یمن سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کاامریکہ میں داخلہ ممنوع قرار دیا جائے گا

لیکن بعد ازاں ٹرمپ نے اس پالیسی میں کچھ نرمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے ممالک جن کے ساتھ دہشت گردی سے مشترکہ طورپر لڑنے امریکہ کا معاہدہ ہے یا وہ امریکہ کے حلیف ممالک ہیں تو اُن ممالک سے پناہ گزینوں کی امریکہ آمد پر کوئی امتناع عائد نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اُس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ شش و پنچ میں مبتلا ہے کیونکہ ٹرمپ کی جانب سے کوئی بھی بیان واضح انداز میں نہیں دیا جارہاہے ۔ البتہ چہارشنبہ کے روز ٹرمپ عاملہ کے جس حکمنامہ پر دستخط کرتے ہوئے اُس کے تحت پناہ گزینوں کے معاملات سے نمٹا جاسکتا ہے ۔ سابق صدر جارج بش نے بھی اپنے عاملہ کے اختیارات کا استعمال اُس وقت کیا تھا جب 9/11 کا سانحہ رونما ہوا تھا ۔ بہرحال بعد ازاں پناہ گزینوں کی امریکہ آمد کے فیصلہ پر نظرثانی کی گئی تھی اور کئی ماہ بعد پناہ گزینوں کی امریکہ آمد کا سلسلہ بحال کیا گیا تھا۔ چہارشنبہ کو دستخط کے بعد میکسیکو کے قریب جنوبی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا معاملہ واضح ہوجائے گا ۔ آیا دیوار تعمیر کی جائے گی یا نہیں اور اگر تعمیر کی جائیگی تو تعمیری اخراجات حکومت میکسیکو سے وصول کئے جائیں گے جبکہ میکسیکو حکومت نے واضح طورپر اخراجات ادا نہ کرنے کا بیان ایک بار نہیں کئی بار دیا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ٹرمپ آئندہ ہفتہ وائیٹ ہاؤس میں میکسیکو کے صدر انرک پینانیو سے ملاقات کریں گے

جہاں دیوار کی تعمیر بات چیت کا اہم موضوع ہوگا ۔ دوسری طرف امریکی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ایک پُرانے سرحدی معاہدہ کو ملحوظ رکھنا چاہئے جو سرحدی معاملات پر میکسیکو کے ساتھ کیا گیا تھا ۔ 1970 ء میں کئے گئے ایک معاہدہ کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ سرحد کے قریب کسی بھی نوعیت کی تعمیر کے ذریعہ دریاؤں کے بہاؤ متاثر نہیں ہونے چاہئے جس میں امریکہ ۔ میکسیکو کی سرحد کو ٹیکساس اور اریزونا سے 24 میل کی دوری تک بتایا گیا ہے اور یہ تفصیلات انٹرنیشنل باؤنڈری اینڈ واٹرکمیشن نے فراہم کی ہے جو امریکہ ۔ میکسیکو کی ایک مشترکہ ایجنسی ہے اور معاہدہ کی نگرانکار ہے اور عمل آوری کااختیار رکھتی ہے ۔ بہرحال ، اب ایسا معلوم ہونے لگا ہے کہ ٹرمپ دہشت گردی کے قلع قمع کیلئے سخت کارروائیاں کرنے والے ہیں کیونکہ اس جانب وہ جس طرح پیشرفت کررہے ہیں اُس سے دہشت گرد تنظیموں میں تشویش کی لہر ضرور دوڑ گئی ہوگی تاہم مسلم ممالک کے پناہ گزینوں کا امریکہ آنے کاسلسلہ جاری رہتا ہے یا نہیں یہ صورتحال مزید ایک ہفتہ میں واضح ہوجائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT