Friday , November 24 2017
Home / دنیا / مسلم ممالک میں داعش کا منفی تاثر

مسلم ممالک میں داعش کا منفی تاثر

واشنگٹن ۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) 11 ممالک میں جہاں مسلمانوں غالب آبادی ہے، دولت اسلامیہ کے بارے میں منفی نقطہ نظر پایا جاتا ہے سوائے پاکستان کے جہاں بیشتر لوگ دہشت گرد گروپ کے بارے میں موافق رائے رکھتے ہیں۔ پیرس، بیروت اور بغداد میں حالیہ حملوں اور عراق و شام میں دولت اسلامیہ پر حملے ایک بار پھر دہشت گردی اور اسلامی انتہاء پسندی کو بین الاقوامی تعلقات میں اہمیت دے چکے ہیں۔ پی ای ڈبلیو تحقیقی مرکز کی جانب سے مسلم غالب آبادی والے 11 ممالک سے اعداد و شمار جمع کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہیکہ اردن میں مقیم نائجیریائی شہری، غالب مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیاء میں دولت اسلامیہ کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں۔ ایک غیرجانبدار دانشوروں کی تنظیم پی ای ڈبلیو تحقیقی مرکز نے مسائل، رویوں اور رجحانات کے بارے میں عوام کا سروے کیا ہے۔ پاکستان کے سوائے جہاں کی اکثریت نے دولت اسلامیہ کی تائید کی ہے اور صرف 28 فیصد اس کے مخالف ہیں لیکن دیگر ممالک جو سروے میں شامل تھے، اسرائیل، فلسطین، لبنان، نائجیریا، انڈونیشیاء، ترکی، ملیشیا، سنیگال، اردن اور برکینافاتو میں دولت اسلامیہ کا مسلمانوں میں منفی تاثر پایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں جہاں قابل لحاظ مسلم آبادی ہے، سروے میں شامل نہیںکیا گیا۔

سروے میں شامل کسی بھی ملک میں 15 فیصد سے زیادہ آبادی میں دولت اسلامیہ کی تائید کی ان ممالک میں جہاں ملی جلی مذہبی اور نسلی آبادی ہے، دولت اسلامیہ کے مخالف جذبات دیکھے گئے۔ لبنان میں تقریباً ہر شخص نے دولت اسلامیہ کے خلاف رائے دی۔ 99 فیصد افراد دولت اسلامیہ کے خلاف پائے گئے۔ لبنان کے سنی مسلمانوں کی 98 فیصد شیعہ مسلمانوں اور لبنانی عیسائیوں کی 100 فیصد تعداد میں دولت اسلامیہ کی مخالفت کی۔ اسرائیل زیرقبضہ فلسطینی علاقوں کے 97 فیصد اور اردن کے 94 فیصد عوام نے دولت اسلامیہ کی شدید مخالفت کی جن میں 91 فیصد عرب نژاد اسرائیلی شہری بھی شامل ہیں جو اسرائیل زیرقبضہ علاقوں میں آباد ہیں۔ نائجیریا، برکینافاتو، ملیشیا، سنیگال، انڈونیشیاء اور ترکی کے 60 فیصد عوام دولت اسلامیہ کے مخالف ہیں۔ مغربی ممالک کو سروے میں شامل نہیں کیا گیا۔ مغربی ممالک کے 15 فیصد افراد نے دولت اسلامیہ کے بارے میں فکرمندی ظاہر کی۔ فرانس میں 71 فیصد افراد نے کہا کہ حملوں سے پہلے ہمیں دولت اسلامیہ کے خطرہ کی فکر نہیں کی۔ اسی طرح دیگر ممالک کے عوام کی اکثریت نے دولت اسلامیہ کی مخالفت کی۔

TOPPOPULARRECENT