Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلم نمائندگی پر کے سی آر کا بیان مسلمانوں سے مذاق

مسلم نمائندگی پر کے سی آر کا بیان مسلمانوں سے مذاق

مسلمان اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھیں : مشتاق ملک کا رد عمل

مسلمان اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھیں : مشتاق ملک کا رد عمل

حیدرآباد ۔ 18 ۔ مارچ : ( راست ) : جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان و صدر تلنگانہ مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ٹی آر ایس سربراہ کے ساتھ مسلم علماء و دانشوروں کی نشست اور کے سی آر کی وضاحت کو مسلمانان تلنگانہ کے ساتھ بھونڈا مذاق قرار دیا ۔ جناب محمد مشتاق ملک نے کہا کہ آج ورنگل ، کریم نگر ، محبوب نگر کے مسلمانوں پر مشتمل وفد نے ان سے ملاقات کی اور اسمبلی وپارلیمنٹ کے علاوہ مقامی بلدیات میں مسلمانوں کی نمائندگی اور صورتحال کے تعلق سے گفتگو کی ۔ جناب محمد مشتاق ملک نے کہا کہ مسلمانوں نے تحریک تلنگانہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مسلمانوں کے بغیر تلنگانہ حاصل نہیں ہوسکتا تھا ۔ ٹی آر ایس سربراہ کا یہ دعوی مضحکہ خیز ہے کہ آئندہ انتخابات میں تلنگانہ میں لوک سبھا اور اسمبلی سیٹس بڑھ جائیں گے تب مسلمانوں کو ٹکٹس دئیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ محبوب نگر اسمبلی حلقہ سے مسلمان کو ٹکٹ نہ دینے کی دلیل خود مذاق ہے کہ یہاں مسلمان کم تعداد میں ہیں ۔ تو کیا 1999 اور ضمنی انتخاب میں مسلمان زیادہ تھے جو کم ہوگئے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کو اس بات کا احساس کرلیناچاہئے کہ تلنگانہ میں مسلمان 14 فیصد ہیں اور کامیاب امیدوار کی قسمت کا فیصلہ 2 تا 3 فیصد ووٹ کے ذریعہ ہوتا ہے ۔

یہ انتخابات تعمیر تلنگانہ کے ساتھ مسلمانوں کے مستقبل کیلئے انتہائی اہم ہیں اور مسلم ووٹ متحد کرنے تحریک مسلم شبان جو تلنگانہ مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا حصہ ہے تمام مسلم جماعتیں متحدہ کوشش کریں گے ۔ سونچے سمجھے منصوبے کے تحت ماحول بنایا جارہا ہے کہ مسلمان جیت نہیں سکتے سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جیتا کے لائے مسلمان ریڈی ، ویلما ، ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی کو ووٹ دیں اور یہ قومیں مسلمان کو ووٹ نہ دیں ۔ اس فضا کو بدلنے کیلئے تلنگانہ میں ضرورت ہے ۔ مسلمان حکمت عملی کے ذریعہ مسلم امیدواروں کی کامیابی کیلئے کام کریں اتحاد کا ثبوت دیں اور بہتر مستقبل کے لیے اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھیں متحدہ ووٹ کا استعمال کریں فرقہ پرست پارٹیوں سے چوکنا رہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT