مسلم نوجوانوں میں گینگ کلچر اور گروپ بندیوں کی لعنت عروج پر

معمولی باتوں پر ایک دوسرے کو حملوں کا نشانہ بنانے کا جنون ۔ حبیب نگر اور ہمایوں نگر پولیس حدود میں واقعات

حیدرآباد۔ 19فبروری ( سیاست نیوز) شہر میں پولیس کی سماج سدھار پالیسیوں رہنمائی اور اقدامات کے باوجود گلی ‘ محلوں میں ’ دادا گری ‘ کا رجحان بڑھتا جارہا ہے ۔ مذہبی ‘ سماجی ‘ انسانی حقوق اور سماجی بھلائی کی انجمنوں سے وابستگی کا ذوق نوجوان نسل سے ختم ہوتا جارہا ہے اور نوجوان نسل پہلوانوں اور روڈی عناصر کی ٹولیوں سے وابستگی کو ترجیح دے رہی ہے اور کئی نوجوان اس پر فخر محسوس کررہے ہیں ۔ شہر میں اب ایسا ماحول اور رجحان پیدا ہوگیا کہ نوجوانوں نسل میں بگاڑ اور ذمہ داروں کیلئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے ۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ بھی ان حالات کا شکار ہے ۔شہر میں اب تو روڈی شیٹرس اور غنڈہ عناصر کا نام بدل دیا گیا ہے اور انہیں باضابطہ طور پر ’ پہلوان ‘ کے نام سے پکارا جانے لگا ہے جبکہ کشتیوں کے مقابلے میں حصہ لینے اورکامیاب ہونے والے افراد کا یہ نام تھا اور بہادری سے سماج میں بھلائی کے کام انجام دینے والوں کو اس لقب سے پکارا جاتا تھا لیکن اب ان روڈی شیٹرس کے نام سے پہلے پہلوان کا لقب لگایا جاتا ہے ۔ اگر کوئی صرف ان کا نام یا پھر پولیس کے دیئے گئے نام کو پکارتا ہے تو اس کی خیر نہیں ۔ فرسٹ لانسر قتل واقعہ کے بعد شہر کا مشرقی حصہ پھر ایک بار سرخیوں میں ہے اور سب سے زیادہ ہمایوں نگر اور حبیب نگر پولیس اسٹیشن متاثر ہیں چونکہ جن علاقوں پر محیط یہ دو پولیس اسٹیشن ہیں ان میں اکثریت مسلم علاقوں کی ہے اور ان میں ایسے گینگ وار مسائل پائے جاتے ہیں ۔ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران ہمایوں نگر میں ایک اور حبیب نگر حدود میں ایک گینگ وار کا واقعہ پیش آیا اور نوجوان جو ایک دوسرے پر طاقت و زور آزما رہے تھے ایک ہی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کی علاقہ وار ٹولیاں اور گروپ الگ ہیں جو کلمہ کے رشتہ کی اہمیت کو سمجھنے سے گریزاں ہیں ۔ حبیب نگر پولیس نے واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹ لے کر دونوں گروپس کے خلاف کارروائی کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک کمسن لڑکے کو ڈرانے کے مسئلہ پر جھگڑے نے خطرناک رخ اختیار کرلیا ہے اور مسلم نوجوان لاٹھیوں اور چاقوؤں سے مدمقابل جمع ہوگئے ۔ ایک ٹولی پر الزام ہے کہ وہ حبیب نگر کے پہلوان کی ٹولی کے افراد کے مکان پہنچ کر ان پر حملہ آور ہوگئی اور جوابی حملہ کے بعد سنسنی پھیل گئی ۔پولیس انسپکٹر حبیب نگر مسٹر مدھوکر سوامی کا کہنا ہے کہ پولیس قانون چکنی کرنے والوں کو برداشت نہیں کریگی جبکہ ان سے کوئی ناانصافی ہوتی ہے یا پھر ظلم و زیادتی ہوتی ہے تو پولیس انصاف دلائے گی لیکن قیام امن اور حالات کو بگاڑنے ‘ شہریوں کو ڈرا دھمکانے کی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائیگا ۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں گروپ کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ۔ ہمایوں نگر کا معاملہ محبوبہ کے ایئر رنگس کا تھا جو آپس میں تبدیل ہوتے ہوئے ایک کے گلے میں پھنس گیا اور معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا جس کے نتیجہ میں مسلم نوجوان ایک دوسرے کے مقابل اتر گئے اور طاقت آزمائی کی مثال قائم کردی ۔ تاہم اس واقعہ کے بعد دونوں گروپس میں صلح کی اطلاع بھی ہے ۔ تاہم افسوس اس بات کا ہے کہ مسلم نوجوان نسل کردار کی تباہی کے ساتھ سماجی برائی میں بھی اپنوں کے ہاتھوں جھونکی جارہی ہے اور غیر قانونی ‘ غیر سماجی سرگرمیوں میں ملوث ہوکر قانونی کارروائی کا شکار ہورہی ہے جو ان کے مستقبل کو تباہ اور ان کے والدین کے ارمانوں پر پانی پھیر رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT