Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم نوجوانوں کی جہادی سرگرمیوں کا ثبوت پیش کرنے ٹی وی چیانل کو نوٹس

مسلم نوجوانوں کی جہادی سرگرمیوں کا ثبوت پیش کرنے ٹی وی چیانل کو نوٹس

داعش سے رابطہ کے الزام میں زیر حراست نوجوان رہا۔ کیس درج۔ ثبوت ملنے پر ہی مزید کارروائی، ڈی سی پی اویناش موہنتی کا بیان
ایس ایم بلال
حیدرآباد 18 مئی ۔ داعش سے رابطہ کے الزام میں حراست میں لئے گئے تین مسلم نوجوانوں کو اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے آج پابند مچلکہ کے بعد رہا کردیا جبکہ اُن کے خلاف ملک سے جنگ چھیڑنے اور انسداد غیر قانونی سرگرمیاں کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے انگلش ٹیلی ویژن چیانل کو نوجوانوں کے خلاف شواہد فراہم کرنے کی نوٹس جاری کیا ہے۔ عبداللہ باسط، سلمان محی الدین قادری اور حنان قریشی کو ایس آئی ٹی نے کل اُس وقت حراست میں لے لیا تھا جب ایک نئے انگریزی ٹی وی چیانل ’’ریپبلک ٹی وی‘‘ نے اُن کے مبینہ انٹرویوز نشر کئے تھے جس میں نوجوانوں نے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد بھی داعش سے رابطے کا ذکر کیا تھا۔ حیدرآبادی نوجوانوں کو داعش کے ایجنٹس ظاہر کرتے ہوئے اور شہر حیدرآباد کو داعش کا گڑھ قرار دیتے ہوئے انگریزی چیانل نے 24 گھنٹے اسپیشل اسٹوری کے نام پر نوجوانوں کے ویڈیوز دکھائے جس کے نتیجہ میں پولیس کو کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تین نوجوانوں کو ایس آئی ٹی دفتر میں رکھ کر داعش سے رابطے کے دعوے اور ٹی وی چیانل کی جانب سے دکھائے گئے ویڈیوز سے متعلق سوالات کئے گئے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ نوجوانوں نے پوچھ تاچھ میں کوئی اہم انکشافات نہیں کئے جس کے نتیجہ میں ایس آئی ٹی نے اُنھیں آج صبح سی آر پی سی کی دفعہ 151 (احتیاطی گرفتاری) کے تحت ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے حیدرآباد اسپیشل ایکزیکٹیو مجسٹریٹ کے اجلاس پر پیش کرتے ہوئے اُنھیں سی آر پی سی کی دفعہ 107 کے تحت پابند مچلکہ کیا۔ نوجوانوں کو پولیس نے ہدایت دی ہے کہ اُنھیں مزید تحقیقات کے سلسلہ میں طلب کرنے پر فوری حاضر ہوں اور تحقیقاتی عہدیداروں سے مکمل تعاون کریں۔ اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم نے مذکورہ تینوں نوجوانوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 121A (ملک سے جنگ چھیڑنا)، 124A (ملک کے خلاف غداری) اور انسداد غیر قانونی سرگرمیاں (UAPA) کے تحت ایک مقدمہ درج کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ڈٹکٹیو ڈپارٹمنٹ مسٹر اویناش موہنتی نے ریپبلک چیانل کے انتظامیہ کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے نوجوانوں کے خلاف دکھائے گئے ویڈیوز اور دیگر مواد بطور ثبوت پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مسٹر موہنتی نے بتایا کہ تینوں نوجوانوں کے خلاف مزید کارروائی چیانل کی جانب سے پختہ ثبوت فراہم کئے جانے کے بعد ہی کی جائے گی۔ اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ چیانل کی جانب سے فراہم کئے جانے والے ویڈیوز یا دیگر مواد کو فارنسک لیباریٹری بھیجا جائے گا تاکہ ویڈیوز کی صداقت کی جانچ کی جاسکے۔ سابق میں عبداللہ باسط اور سلمان محی الدین قادری کو 2015 ء میں داعش سے مبینہ رابطہ رکھنے اور اُن کے آلہ کاروں کی ہدایت پر جہاد کے لئے ترکی روانہ ہونے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی عمل میں آئی تھی اور اُنھیں وقتاً فوقتاً انٹلی جنس ایجنسیاں اُن کی موجودگی کا پتہ لگاتی رہی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ نوجوان پولیس کی نگرانی میں ہیں اس کے باوجود پولیس کو ان کے بارے میں وہ باتیں نہیں معلوم ہوسکیں جوکہ خانگی ٹیلی ویژن چیانل نے خفیہ طور پر حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ٹی وی چیانل کا یہ دعویٰ محکمہ پولیس کے لئے چیلنج بن گیا اور پولیس نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی انجام دیتے ہوئے ان نوجوانوں کو حراست میں لے کر سچائی معلوم کرنے کی کوشش کی جبکہ پولیس کو بادی النظر میں ٹی وی چیانل کی خصوصی رپورٹ مشکوک نظر آئی اس لئے پولیس نے مذکورہ چیانل کو ثبوت کی فراہمی کا نوٹس دیا ہے۔ بعض نئے چیانلس فرقہ پرستوں کی ایماء پر مسلم طبقہ کو مشکوک بنانے میں مصروف ہیں تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT