Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلم نوجوانوں کے انکاؤنٹر کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ

مسلم نوجوانوں کے انکاؤنٹر کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ

حیدرآباد /10 اپریل ( سیاست نیوز ) ضلع نلگنڈہ آلیر میں 5 مسلم نوجوان کو مبینہ فرضی پولیس انکاونٹر میں ہلاک کردینے کے خلاف عوام نے آج اپنا شدید ردعمل ظاہر کیا ۔ نماز جمعہ کے موقع پر پولیس کی جانب سے انتہاء سے زیادہ چوکسی اختیار کرنے اور دونوں شہروں بالخصوص پرانے شہر اور تاریخی مکہ مسجد اور دیگر اطراف و اکناف علاقوں میں ریاپڈایکشن فورس ا

حیدرآباد /10 اپریل ( سیاست نیوز ) ضلع نلگنڈہ آلیر میں 5 مسلم نوجوان کو مبینہ فرضی پولیس انکاونٹر میں ہلاک کردینے کے خلاف عوام نے آج اپنا شدید ردعمل ظاہر کیا ۔ نماز جمعہ کے موقع پر پولیس کی جانب سے انتہاء سے زیادہ چوکسی اختیار کرنے اور دونوں شہروں بالخصوص پرانے شہر اور تاریخی مکہ مسجد اور دیگر اطراف و اکناف علاقوں میں ریاپڈایکشن فورس اور مسلح پولیس عملہ متعین کرنے اور راستوں میں خاردار تار نصب کرنے کے سبب عوام میں ناراضگی دیکھی گئی اور بعض علاقوں میں برہم ہجوم نے پولیس پر سنگباری کی ۔پولیس نے سنگباری کے واقعہ اور پولیس عہدیداروں پر حملے سے متعلق 11 مقدمات درج کئے ہیں اور آج تالاب کٹہ علاقے میںنوجوانوں کی تلاش میں پولیس فورس اچانک داخل ہونے سے کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ قبل ازیں مکہ مسجد میں نماز جمعہ کے اختتام کے بعد عوام اپنے مکانات کو پرامن طور پر واپس لوٹ رہی تھی کہ مغل پورہ فائر اسٹیشن کے قریب ہجوم کو مبینہ طور پر اشتعال دلایا گیا ۔ جس کے نتیجہ میں بعض برہم نوجوانوں نے سنگباری شروع کردی اور ایک پولیس کی گاڑی کو نقصان پہونچا جبکہ مقامی اخبار کے فوٹو گرافر نوین کمار جو برہم نوجوانوں کی تصویر کشی کر رہا تھا اس کو زدوکوب کیا گیا ۔ اس واقعہ میں اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس میرچوک مسٹر گنگادھر بھی زخمی ہوگئے ۔ ڈیوٹی پر موجود ٹاسک فورس عملہ اور دیگر ریزرو پولیس فورس نے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے انہیں وہاں سے منتشر کردیا ۔بتایا جاتا ہے کہ نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسو گیاس شیل برسائے ۔ پولیس نے کئی نوجوانوں کو اپنی حراست میں لے لیا اور نوجوانوں کی گرفتاری کیلئے بعض مائتری کمیٹی کے ارکان نے مبینہ طور پر سرگرم رول ادا کیا ۔ پرانے شہر میں حالات اچانک کشیدہ ہوگئے اور مغل پورہ کے واقعہ کے پیش نظر سعیدآباد ، ملک پیٹ اور دیگر حساس علاقوں میں پولیس نے چوکسی اختیار کرتے ہوئے پولیس گشت میں شدت بڑھادی ۔ وقار احمد اور اس کے چار ساتھیوں نے ورنگل ریزرو پولیس کی اسکارٹ پارٹی نے آلیر کے قریب مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں انہیں ہلاک کردیا تھا جس کے نتیجہ میں اقلیتی فرقہ کی عوام میں شدید ناراضگی پیدا ہوگئی اور کل مہلوک نوجوانوں کے جلوس جنازہ کے موقعہ پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بی بی بازار چوراہے کے قریب سنگباری کے واقعہ پیش آئے تھے ۔ پولیس کی ایک طرفہ کارروائی اور مسلمانوں کی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والی نام نہاد مقامی جماعت کی خاموشی پر برہم عوام نے ناراضگی کا اظہار کیا اور مقامی قائدین کی مفاد پرستانہ یہ مصلحت پسندی کی سیاست پر حیرت ظاہر کی ۔جمعہ کے موقعہ پر عوام پرانے شہر میں کم از کم جمہوری انداز کے احتجا کیلئے متوقع تھی لیکن کسی بھی مسلم جماعت کی جانب سے مسلم نوجوانوں کی ہلاکت پر اچانک خاموشی سے نوجوانوں میں بے چینی دیکھی گئی ۔ آج رات پیش آئے ایک اور واقعہ میں بعض برہم نوجوانوں نے والٹا ہوٹل سلطان شاہی کے قریب ڈیوٹی پر تعینات کانسٹبل پر اچانک پتھر سے حملہ کردیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ اسٹیٹ اسپیشل پولیس کے 15 ویں بٹالین کے کانسٹبل راگھولو زخمی ہوگیا اور اسے فوری دواخانہ عثمانیہ منتقل کیا گیا۔ بھوانی نگر پولیس نے اس حملے کے خلاف ایک مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ نوجوانوں کی گرفتاری کیلئے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گیئں ہیں اور اندھادھند گرفتاریوں کا امکان ہے ۔سکیوریٹی بندوبست کیلئے تعینات کانسٹیبلس کو اپنی 303 رائفل لوڈ کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ بظاہر وہ فائرنگ کیلئے آمادہ دکھائی دے رہے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT