Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / مسلم نوجوانوں کے تابناک مستقبل کیلئے تحفظات ناگزیر

مسلم نوجوانوں کے تابناک مستقبل کیلئے تحفظات ناگزیر

۔12 فیصد تحفظات سے 50,000 خاندانوں کو فائدہ، دستوری اور قانونی ماہرین کی رائے

حیدرآباد ۔ 13۔ جولائی (سیاست نیوز) مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کا اعتراف ہر سیاسی جماعت کو ہے لیکن جب وہ اقتدار میں آتی ہے تو اسے مسلمانوں کی ترقی کا خیال نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کی پسماندگی کے بارے میں ملک کی مختلف ریاستوں میں کمیٹیاں اور کمیشن قائم کئے گئے جن کی رپورٹ متعلقہ ریاستوں میں سرکاری فائلوں کی نذر ہوچکی ہے۔ پسماندگی کا خاتمہ صرف چند اسکیمات کے اعلان سے ممکن نہیں ہے بلکہ بنیادی سطح پر تعلیم اور روزگار میں تناسب کے اعتبار سے نمائندگی کے ذریعہ ہی مسلمانوں کے مستقبل کو تابناک بنایا جاسکتا ہے۔ تحفظات کے مخالفین خود ہی نجی طور پر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمان ہر شعبہ میں دیگر طبقات سے پسماندہ ہے اور ان کی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جانے چاہئے لیکن حکومتوں کو اس حقیقت کا اعتراف اس وقت ہوتا ہے جب حکومت کی میعاد آخری مرحلہ میں ہو۔ انتخابات سے قبل اور پھر حکومت کی میعاد کے اختتام سے قبل مسلمانوں کی ترقی کے بارے میں کئی وعدے کئے جاتے ہیں لیکن یہ وعدے حقیقت میں بہت کم تبدیل ہوتے ہیں۔ دستور اور تعلیم کے ماہرین نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ملک میں گزشتہ 60 برسوں کے دوران ہر حکومت نے مسلمانوں کی ترقی کو نظرانداز کیا۔  متحدہ آندھراپردیش میں وجئے بھاسکر ریڈی نے بحیثیت چیف منسٹر مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے سلسلے میں پیشرفت کی تھی لیکن حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی یہ معاملہ کھٹائی میں پڑگیا۔ تلگو دیشم پارٹی برسر اقتدار آنے کے بعد نہ ہی حکومت نے مساعی کی اور نہ عوام کی جانب سے کوئی دباؤ بنایا گیا، جس کے نتیجہ میں تحفظات کا مسئلہ پس پشت ڈال دیا گیا۔

آندھراپردیش کی تقسیم اور تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ابھی بھی اپنے وعدہ پر قائم رہنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ سیاست کی جانب سے تحفظات کے وعدہ کی تکمیل کے سلسلہ میں جو تحریک شروع کی گئی وہ تمام 10 اضلاع میں عوامی تحریک کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ مختلف شعبہ ہائے حیات اور ہر سیاسی ، سماجی و مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد نے عوامی نمائندوں کے علاوہ ایم آر او سے لیکر ضلع کلکٹر تک تحفظات کے حق میں نمائندگی کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت پر دباؤ بنایا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ صورتحال میں صرف تحفظات ہی ان کی ترقی کے ضامن بن سکتے ہیں  اور نوجوان نسل کو بیروزگاری کے سبب دیگر سرگرمیوں سے روکنے میں تحفظات اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی اور دیگر طبقات کے مساوی معیار کی کمی کے سبب وہ روزگار اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔ ایسے میں تحفظات کی فراہمی کے ذریعہ انہیں تعلیم و روزگار میں مستحق مقام دلایا جاسکتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مسلم نوجوان ابتدائی طور پر کسی بھی کوشش میں ناکامی سے مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں اور وہ مسابقت کے بجائے اپنے بہتر مستقبل کیلئے دیگر ذرائع تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ایسے میں بسا اوقات وہ بیروزگاری کا شکار ہوجاتے ہیں یا پھر غلط صحبتیں انہیں گھیرلیتی ہیں۔ تلنگانہ میں مسلم تحفظات کی فراہمی کی صورت میں فوائد کے بارے میں ایک سروے کیا گیا جس کے مطابق اگر ٹی آر ایس حکومت تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی میں کامیاب ہوتی ہے تو50,000 سے زائد مسلم خاندانوں کو تحفظات کے ثمرات حاصل ہوں گے۔

حکومت نے ایک لاکھ جائیدادوں پر تقررات کا اعلان کیا اور ان میں بعض محکمہ جات سے تقررات کا اعلامیہ جاری ہوچکا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام محکمہ جات میں موجودہ 4 فیصد تحفظات پر عمل آوری کو یقینی بنائے اور تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات سے قبل 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کے اقدامات کرے۔سرکاری محکمہ جات میں ناانصافی اور مواقع کی کمی کے سبب اکثر و بیشتر اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم نوجوان بھی خانگی اداروں میں معمولی ملازمت پر مجبور ہیں۔ پیشہ ورانہ کورسس میں نمایاں مظاہرہ کے باوجود حکومت کی عدم سرپرستی نے مسلم نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند کردیا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سپریم کورٹ میں 4 فیصد تحفظات کے زیر التواء مقدمہ کی موثر پیروی کے ساتھ ساتھ دستوری اور قانونی ماہرین سے مشاورت کا آغاز کرے تاکہ 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کی راہ تلاش کی جاسکے۔ حکومت کی جانب سے جو طریقہ کار طئے کیا گیا ہے وہ تحفظات کی برقراری کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ لہذا ٹی آر ایس حکومت کو مسلمانوں کے تابناک مستقبل کے وعدے کی تکمیل کیلئے دستوری طریقہ کار کے مطابق تحفظات کی فراہمی کے اقدامات کرنے ہوں گے ۔ اس سلسلہ میں ٹاملناڈو حکومت سے مشاورت کی جاسکتی ہے، جس میں 50 فیصد کی حد کو عبور کرنے کے باوجود تحفظات کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT