Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / مسلم نوجوانوں کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی

مسلم نوجوانوں کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی

نئی دہلی 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ این ڈی اے حکومت مسلم نوجوانوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گی۔ مذہب کی بنیادوں پر ملک میں کسی کے خلاف امتیاز نہیں برتا جائے گا۔ مسلمانوں کو ہماری حکومت پر اعتماد و ایقان رکھنا چاہئے۔ ہم مذہب یا ذات کے نام پر کسی کے خلاف امتیاز نہیں برتیں گے۔ ہم ہر ایک کے ساتھ انصاف کو

نئی دہلی 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ این ڈی اے حکومت مسلم نوجوانوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گی۔ مذہب کی بنیادوں پر ملک میں کسی کے خلاف امتیاز نہیں برتا جائے گا۔ مسلمانوں کو ہماری حکومت پر اعتماد و ایقان رکھنا چاہئے۔ ہم مذہب یا ذات کے نام پر کسی کے خلاف امتیاز نہیں برتیں گے۔ ہم ہر ایک کے ساتھ انصاف کو یقینی بنائیں گے، کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ راجناتھ سنگھ نے ملک کی مختلف جیلوں میں دہشت گردی کے الزام کے تحت محروس کئی بے قصور مسلم نوجوانوں کے ساتھ زیادتی کے الزام پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کے پاس کسی بے قصور مسلم نوجوان کے تعلق سے کوئی اطلاع ہو تو براہ کرم مجھے بتائیں، میں اس کی تحقیقات کراؤں گا۔ راجناتھ سنگھ کے پیش رو سشیل کمار شنڈے نے گزشتہ سال ریاستی حکومتوں سے کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ دہشت گردی کے کیسوں میں متعصبانہ ارادوں کے ساتھ یا غلطی سے مسلم نوجوانوں کو گرفتار نہ کیاجائے۔ چیف مسنٹرس کو روانہ کردہ مکتوب میں سشیل کمار شنڈے نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کو قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے بے قصور مسلم نوجوانوں کے ساتھ زیادتی اور مبینہ ہراسانی کے تعلق سے مختلف نمائندگیاں وصول ہوئی ہیں۔ بعض مسلم نوجوانوں کا احساس ہے کہ انھیں دانستہ طورپر پھنسایا جا رہا ہے۔

قبل ازیں ایک ایسے وقت جبکہ بعض بی جے پی قائدین متنازعہ ’’لَو جہاد‘‘ مسئلہ اٹھا رہے ہیںمرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ انہیں اس کے بارے میں کچھ بھی ’’معلوم نہیں‘‘ ہے۔ انہوں نے لو جہاد کے بارے میں تبصرہ کی خواہش پر جواب دیتے ہوئے اُلٹا سوال کیا کہ ’’لو جہاد‘‘ کیا ہے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے فوری سوال کیا کئی بی جے پی قائدین بشمول لکشمی کانت باجپائی اور یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ مسئلہ اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات سے پہلے اٹھایا ہے۔ جب اخباری نمائندوں نے راجناتھ سنگھ کی توجہ یو پی ، ایم پی اور گجرات کے بی جے پی قائدین کے ہندو لڑکیوں کے مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کرلینے کے خلاف بیانات کی طرف مبدول کروائی گئی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’’ارے یہ ہے کیا ہمیں نہیں معلوم‘‘ راجناتھ سنگھ کے اس جواب پر پریس کانفرنس میںشامل تمام صحافی قہقہے لگانے لگے۔ یہ پریس کانفرنس مرکزی وزارت داخلہ کے 100 دن کی تکمیل پر منعقد کی گئی تھی۔ آدتیہ ناتھ نے حالیہ میں کہا تھا کہ ’’لو کے نام پر جہاد ناقابل قبول ہے‘‘ اور انہوں نے کہا تھا کہ صرف بی جے پی زیر قیادت ریاستی حکومت ’’ہندو لڑکیوں کی جبری تبدیلی مذہب کو روک سکتی ہے‘‘۔

راجناتھ سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنے اختلافات کی تمام خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان تعلقات ’’خوشگوار‘‘ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ وزیر اعظم ہیں اور ایک موثر وزیر اعظم ہے ۔ میں اُن کی حکومت کا وزیر داخلہ ہوں۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ کچھ دیر وقفہ کے بعد انہوں نے دوبارہ کہا ’’ہمارے سمبندھ مدھر تھے، مدھر ہیں اور مدھر رہیں گے‘‘ ( ہمارے تعلقات خوشگوار تھے، خوشگوار ہیں اور خوشگوار ہی رہیں گے)۔ راجناتھ سنگھ سے مودی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوال کیا گیا تھا اور پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کے بحیثیت مرکزی وزیر داخلہ کیریئر میں کوئی مشکلات اور مسائل ہیں۔ قبل ازیں پریس کانفرنس میں اپنے عہدہ پر 100 دن کی تکمیل کے بارے میں بیان دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے اپنی وزارت کی کارگذاری کو کرکٹ سے تشبیہ دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا وزارت داخلہ میں کام کرنا نہ تو 20-20 ہیں اور نہ ونڈے کرکٹ میچ بلکہ ایک ٹسٹ میچ ہے، جہاںکھلاڑی کو طویل اننگز کھیلنی پڑتی ہیں جس کیلئے اسے طاقتور آغاز کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آغاز بہت اچھا ہے اور ان کے خیال میں یہ حکومت طویل اننگ کھیلے گی بلکہ دوسری اننگز بھی کھیلے گی۔

TOPPOPULARRECENT