Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلم نوجوانوں کے سفاکانہ قتل پر ظفر سریش والا کا اظہار مذمت

مسلم نوجوانوں کے سفاکانہ قتل پر ظفر سریش والا کا اظہار مذمت

غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ ، انصاف کیلئے عدلیہ پر یقین

غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ ، انصاف کیلئے عدلیہ پر یقین

حیدرآباد /10 اپریل ( سیاست نیوز ) انکاونٹر کے مہلوکین کے ورثاء کو انصاف دلوانے کیلئے ہر طرح سے کوششیں کی جانی چاہئے اور جب تک سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات نہیں ہوتی اس وقت تک 5 مسلم نوجوانوں کے سفاکانہ قتل کے معاملہ میں انصاف کا حصول دشوار نظر آرہا ہے ۔ ظفر سریش والا چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے دو یوم قبل پیش آئے 5 نوجوانوں کے انکاونٹر کی سخت مذمت کرتے ہیوئے یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ کی تحقیق کیلئے پولیس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا چونکہ پولیس نے ہی ان نوجوانوں پر گولیاں چلائی ہیں ۔ اسی لئے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایس آئی ٹی کی تشکیل کے ذریعہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جانی چاہئے اور ایس آئی ٹی کی راست نگرانی میں عدالت کی جانب سے ہونی چاہئے ۔ ظفر سریش والا نے معاملہ کو سیاسی مفادات سے پاک رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 5 نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے انصاف طلب کیا جانا چاہئے چونکہ ہندوستانی مسلمانوں کو آج بھی ملک کی عدلیہ پر یقین ہے اور عدالتوں سے انصاف کا حصول ممکن ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس معاملہ میں ممکنہ مدد کرنے تیار ہیں اور حصول انصاف کیلئے جدوجہد کرنے والے مہلوکین کے خاندان کو ہر طرح سے تعاون کرنے بھی تیار ہیں ۔ ظفر سریش ولا نے اس واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک جو باتیں سامنے آرہی ہیں ان سے کئی شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں ۔ اسی لئے اس معاملہ کی مکمل غیر جانبدارانہ و آزادانہ تحقیاقت ہونی چاہئے جس کی نگرانی خود کورٹ کرے ۔ انہوں نے بتایا کہ جس وقت مولانا عبدالقوی کو گجرات پولیس نے حراست میں لیا تھا اس وقت بھی انہوں نے ان کی مدد کی اور ان کی رہائی کیلئے کی جانے والی کوششوں میں اپنا رول ادا کیا ۔ ظفر سریش والا نے بتایا کہ 2002 گجرات فسادات کے بعد سب سے پہلے کوئی فسادات کے متاثرین کی مدد کیلئے آگے آئے تو وہ حیدرآباد کے عوام تھے اور گجرات کے رہنے والے حیدرآبادیوں کے ممنون و مشکور ہیں ۔ اسی لئے انہوں نے مولانا عبدالقوی کی جس طرح ممکن ہو مدد کی اور ان 5 مہلوکین کے افراد خاندان کو انصاف دلوانے کیلئے جو کوئی جدوجہد کرے گا وہ اس کے ساتھ شانہ بہ شانہ چلنے تیار ہیں ۔ انہوں نے بیان بازی و نمائندگی سے ہٹ کر ٹھوس اقدام اور عدالت سے رجوع ہونے کی ضرورت پر زور دیا ۔

TOPPOPULARRECENT