Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلم نوجوانوں کے فرضی انکاونٹر کیخلاف منظم احتجاج کرنے کا انتباہ

مسلم نوجوانوں کے فرضی انکاونٹر کیخلاف منظم احتجاج کرنے کا انتباہ

حکومت تلنگانہ کی مجرمانہ خاموشی افسوسناک ، سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ،تحریک مسلم شبان کا کل جماعتی اجلاس، مختلف شخصیتوں کا خطاب

حکومت تلنگانہ کی مجرمانہ خاموشی افسوسناک ، سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ،تحریک مسلم شبان کا کل جماعتی اجلاس، مختلف شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد۔12اپریل( سیاست نیوز) آلیر میںپیش آئے پانچ مسلم نوجوانوں کے فرضی انکاونٹر کے خلاف تحریک مسلم شبان کے زیراہتمام اُردو گھر مغل پورہ میں منعقدہ کل جماعتی احتجاجی جلسہ عام سے صدارتی خطاب کے دوران صدر تحریک مسلم شبان جناب محمد مشتاق ملک نے مذکورہ واقعہ کی جامع تحقیقات اور خاطی پولیس عہدیداروں کو کیفرکردار تک کو پہنچانے تک حکومت تلنگانہ کے خلاف عوام میںشعور بیداری مہم کے ساتھ اپنا احتجاج جاری رکھنے کا انتباہ دیا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل سے جو امیدیں ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کے اندر پیدا ہوئی تھیںان امیدوں کو تلنگانہ کی پولیس نے پانچ محروس اور بے بس نوجوانوں کے فرضی انکاونٹر سے چکنا چور کردیا۔جنا ب محمد مشتاق ملک نے 8اپریل کو پیش ائے آلیر فرضی انکاونٹر پر ریاستی انتظامیہ کے ذمہ داران حکمران جماعت کے نام نہاد سکیولر قائدین کی اب تک کی خاموشی کو بھی قابلِ مذمت قراردیتے ہوئے افسوس کا اظہا رکیا ۔ انہوں نے کہاکہ اب تک حکومت تلنگانہ کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر کسی بھی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا جس کی ہر گوشہ سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے آلیر فرضی انکاونٹر پرایمنسٹی انٹرنیشنل کی سرزنش کی جانب سے ستائش کرتے ہوئے کہاکہ حکومت تلنگانہ اس سنگین مسئلے پر توجہہ مبذول کرتے ہوئے اپنے موقف کی وضاحت کرے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق آزادی کے بعد سے لیکر 2013تک پینتالیس ہزار فرقہ وارانہ فسادات ہندوستان میںپیش آئے جس میں مسلمانوں کی کروڑ ہا روپیوں کی املاک تباہ ہوئی اور لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا باوجود اسکے ہندوستانی مسلمان مستحکم اور پرعزم ہیں۔ انہوں نے آلیر فرضی انکاونٹر پر سیاسی جماعتوں کی خاموشی کو بھی معنیٰ خیز قراردیا۔ بابری مسجد کی شہادت سے قبل جس طرح مسلمانوں کو گہری نیند سلانے کی سازش کی گئی تھی اسی طرح آلیر فرضی انکاونٹر کے بعد مسلمانوں کو روایتی نمائندگی کے ذریعہ گہری نیند سلانے کی سازشیں رچی جارہی ہیں۔جناب محمد مشتاق ملک نے آلیر فرضی انکاونٹر کے خلاف اپنی خاموشی کو توڑنے کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت تلنگانہ مذکورہ واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کا اعلان کرے بصورت دیگر حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے چیف منسٹر ‘ ڈپٹی چیف منسٹر‘ ریاستی وزیرداخلہ کے گھیرائو کا بھی انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ انصاف کے حصول تک ہم اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم نے آلیر فرضی انکاونٹر کو بد بختانہ قراردیتے ہوئے مذکورہ واقعہ کے خلاف تمام تنظیموں اور جماعتوں کی متحدہ جدوجہد کووقت کی اہم ضرورت قراردیا۔مفتی صادق محی الدین فہیم نے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف جاری جدوجہد میں سبقت لے جانے کے دعوے کرنے کے بجائے حقیقی نمائندگی کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ فرضی انکاونٹر کے خلاف جاری جدوجہد میں ملت کے سنجیدہ افراد کا آگے آنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے محروس اور بے بس نوجوانوں کی شہادت کو ملت اسلامیہ کے لئے پیغام قرار دیتے ہوئے کہاکہ آلیر فرضی انکاونٹر کے خلاف متحدہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ سینئر کمیونسٹ قائدجناب سید عزیز پاشاہ نے احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ پولیس کے اعلی عہدیداروں پر آلیر فرضی انکاونٹر کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ اعلی عہدیداروں کا اعتماد بحال کئے بغیر اس قسم کے واقعہ کو انجام دینا ممکن نہیںہے۔ جناب سیدعزیز پاشاہ نے آلیر فرضی انکاونٹر پر قومی سیاسی جماعتوں کی خاموشی کو بھی قابلِ مذمت قرار دیا ۔ انہوں نے کہاکہ سی پی آئی کی قومی عاملہ کے رکن ڈاکٹر کے نارائنہ نے آلیر فرضی انکاونٹر واقعہ کی مذمت میں ریاستی وزیر داخلہ کی برطرفی کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیاہے۔ جناب سید عزیز پاشاہ نے آلیر فرضی انکاونٹر واقعہ کی برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا۔انہوں نے فرضی انکاونٹر کے خلاف سیول سوسائٹیز ‘ رضاکارانہ تنظیموں کی جانب سے شروع کردہ مہم کو عوامی تحریک بنانے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔ جناب سیدعزیز پاشاہ نے کہاکہ آلیر فرضی انکاونٹر سے تلنگانہ پولیس کی شبہہ بری طرح مشکوک ہوئی ہے۔ مولانا مفتی عبدالمغنی المظاہری نے احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے آلیر فرضی انکاونٹر کے بعد ریاست کی مختلف جیلوں میں قید مسلم نوجوانوں کی زندگیوں کو درپیش خطرا ت کے متعلق غوروفکر پر زوردیا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ آلیر فرضی انکاونٹر کے خلاف شروع کی گئی مہم میں دیگر ابنائے وطن کو شامل کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔مولانا نے انکاونٹر مہلوکین کے ورثہ سے ملاقات کی بھی اس موقع پر تجویز پیش کی تاکہ موجودہ حالات سے ہمیں واقفیت حاصل ہوسکے۔مولانا مفتی عبدالمغنی المظاہری نے حکومت ہند سے آلیر فرضی انکاونٹر کی آزادنہ اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔صدرایم پی جے مولانا حامد محمد خان نے کہاکہ آلیر فرضی انکاونٹر تلنگانہ میں پرامن معاشرے کے قیام کی تمام امیدو ں کا خاتمہ ثابت ہوگا۔انہوں نے آندھرا پردیش اور تلنگانہ اسٹیٹ کے حکمرانوں کو ظالم قراردیتے ہوئے کہاکہ دونوں ہی حکمرانوں نے بے بس او رمجبور لوگوںکو انکاونٹر کے نام پر موت کے گھاٹ اتاردیا ۔مولانا حامد محمد خان نے آلیر فرضی انکاونٹر کے خلاف پی آئی ایل دائر کرنے کی بھی تجویزپیش کی۔مولانا حامد حسین شطاری‘ جناب عثمان شہید ایڈوکیٹ‘ مولانا نصیر الدین‘ جناب مجاہد ہاشمی‘ مولانا عبدالقدوس غوری‘ سراج الدین اعجاز‘ ثناء اللہ خان‘ نعیم اللہ شریف‘ منیر پٹیل‘ مبشر ظفر‘ علائوالدین ایڈوکیٹ‘ محمد فاروق ایڈوکیٹ‘ جناب عبدالستار مجاہد کے علاوہ دیگر نے بھی اس احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے آلیر فرضی انکاونٹر کی سی بی آئی تحقیقات کے اعلان میں تاخیر کے خلاف مخالف تلنگانہ حکومت محاذ آرائی کا لائحہ عمل تیار کرنے کی بات کہی۔اسکے علاوہ فرضی انکاونٹر میں ہلاکت کے حقائق منظر عام پر انے تک جلسہ ‘ جلوس ‘ ریالی اور سکریٹریٹ کے گھیرائو تک کی احتجاجی حکمت عملی تیار کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔جلسہ کا آغاز قاری عبدالقیوم خان شاکر کی قرات کلام پاک سے ہوا۔

TOPPOPULARRECENT