Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / مسلم نوجوان سے شادی کی مخالفت ہندو لڑکی قید و بند کی زندگی پر مجبور

مسلم نوجوان سے شادی کی مخالفت ہندو لڑکی قید و بند کی زندگی پر مجبور

نئی دہلی۔/14 جون، ( سیاست ڈاٹ کام ) سنگیتا ( نام تبدیل) کو تقریباً 7 سال تک اس کے والدین نے مکان میں نظر بند رکھا تھا کیونکہ اس کا بوائے فرینڈ ایک مسلم اور ہم جماعت تھا۔ روزنامہ ’دی ہندو ‘ کی اطلاع کے بموجب ہومیوپیتھی میں کامیاب 32سالہ لڑکی کے والدین کو جب معلوم ہوا کہ وہ ایک مسلم نوجوان کے عشق میں گرفتار ہے اُسے 14اگسٹ 2009 سے مکان میں محروس کردیا گیا اور انٹرنیٹ یا ٹیلی فون تک رسائی بھی روک دی گئی۔ تاہم سنگیتا نے کسی طرح ہیلپ لائن نمبر 181 سے ربط قائم کیا جس پر دہلی کمشنر فار ویمن نے اس لڑکی کو بچالیا۔ بعد رہائی اس نے بتایا کہ میری عمر 32سال ہوگئی ہے میں اپنے والدین پر شرمندہ ہوں کہ میری جوانی کے ایام چھین لئے۔ سنگیتا نے بتایا کہ مکان سے فرار ہونے کی کوشش پر والدین نے ماردینے اور والدہ نے خودکشی کرلینے کی دھمکی دی تھی جبکہ خاندان کی عزت کا واسطہ دیا گیا تھا اور اخبارات میں شائع لو جہاد کے مضامین بتائے جاتے اور یہ دعویٰ کیا جاتا کہ مسلم نوجوان کی محبت نہیں بلکہ ایک سازش ہے اوران حالات میں پکوان کو اپنا مشعلہ بنالیا۔ لڑکی نے بتایا کہ ایک دن میں نے دیکھا کہ والدہ غسل خانہ گئی ہیں موقع کا فائدہ اٹھاکر والدہ کے موبائیل فون سے 181 ایمرجنسی نمبر پر ربط قائم کرلیا اور والدین کے چنگل سے بچالینے کی گذارش کی۔جس پر دہلی کمیشن فار ویمنس کی رکن پرمیلاگپتا نے فی الفور حرکت میں آکر اس لڑکی کو اپنی تحویل میں لے لیاگیا۔ فی الحال ویمنس کمیشن کے شیلٹر میں پناہ لئے ہوئے ہے، سنگیتا نے بتایا کہ اگر اس کا بوائے فرینڈ راضی ہے تو وہ شادی کیلئے تیار ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT